فیض کا پیغام

نوید رزاق بٹ — دسمبر 28، 2013 1:36 صبح
اس سال فیض کی برسی پر لکھے کچھ اشعار۔
۔

اے مظلومو، اے محکومو، اے نادارو، اے ناچارو
اِک راز سنو، آواز سنو، ہوتا ہے کہاں آغاز سنو
خاموش لبوں کی جنبش سے
دنیا کے خدا سب ڈرتے ہیں
سجدوں میں پڑے سر اُٹھ جائیں
مسند پہ جمے رب ڈرتے ہیں
پابندِ سلاسل روحیں جب
بیزارِ جفا ہو جائیں گی
مقتل سے صدائیں آئیں گی
لبیک کہیں گے دِیوانے
اِک حشر کھڑا ہو جائے گا!
مجروح گلوں کی چیخوں سے
گلچیں کا کلیجہ تڑپے گا
ہر منصب جھوٹا لرزے گا
سفاک خدا گِر جائیں گے!
ہر جاں جو فروزاں ہو جائے
ظلمت نہ مٹے، وہ رات نہیں
زنجیر و سلاسل، زنّاری
یہ نسلوں کی سوغات نہیں
آغاز تمہی سے ہونا ہے
غم سہنے والو چُپ کب تک؟
”اے ظلم کے مارو لب کھولو
چپ رہنے والو چپ کب تک؟”*

- نوید رزاق بٹ
* آخری شعر فیض کا ہے
طارق شاہ — دسمبر 28، 2013 2:05 صبح
نوید رزاق بٹ صاحب!
فیض صاحب سے عقیدت اور خلوصِ افکار، اُن کی برسی پر دیے، آپ کے اس ہدیہ یکجہتی سے نمایاں ہی نہیں قابلِ رشک بھی ہے
نظم پر میری داد قبول کیجئے
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیے :)
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 28، 2013 2:26 صبح
خوب صورت
ذوالفقار نقوی — دسمبر 28، 2013 3:52 صبح
بہت خوب
نوید رزاق بٹ — دسمبر 28، 2013 12:09 شام
نوید رزاق بٹ صاحب!
فیض صاحب سے عقیدت اور خلوصِ افکار، اُن کی برسی پر دیے، آپ کے اس ہدیہ یکجہتی سے نمایاں ہی نہیں قابلِ رشک بھی ہے
نظم پر میری داد قبول کیجئے
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیے :)



بے حد شکریہ :)
الف عین — دسمبر 29، 2013 2:57 صبح
خوب میاں، خوب کہو اور اچھا کہو۔
نوید رزاق بٹ — دسمبر 29، 2013 2:07 شام
خوب میاں، خوب کہو اور اچھا کہو۔

بے حد شکریہ سر، بہت خوشی ہوئی آپ کا پیغام دیکھ کر۔
عمراعظم — دسمبر 29، 2013 2:52 شام
زبردست۔ بے حد خوبصورت کاوش۔ جزاک اللہ خیر
نوید رزاق بٹ — دسمبر 29، 2013 5:18 شام
زبردست۔ بے حد خوبصورت کاوش۔ جزاک اللہ خیر

بہت شکریہ سر :)۔
محمد علم اللہ — دسمبر 29، 2013 5:34 شام
بہت خوبصورت
بہت خوبصورت نظم
نوید رزاق بٹ — دسمبر 29، 2013 9:40 شام
بہت شکریہ علم اللہ بھائی :)
مہدی نقوی حجاز — دسمبر 29، 2013 9:46 شام
اچھی نظم ہے جناب!
نوید رزاق بٹ — دسمبر 29، 2013 10:31 شام
بے حد شکریہ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%DB%8C%D8%B6-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85.70591/