قرنطینہ ۔ کچھ تازہ واردات ۔اشعار ۔قرنطین

سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 10:24 صبح
گزشتہ شب کی بے چینی و بےخوابی ان اشعار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔

۔عنوان قرنطین ۔
مدت ہوئی اک حشر سا عالم میں بپا ہے
اور سامنے انساں ہے جو لاچار کھڑا ہے
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
جو نشہء ِلذاتِ جہاں میں ہوا بدمست
اک شورش ِ پیہم میں گرفتار ہوا ہے
گھر گھر جو ہوا صورت زندان ، قرنطین
اندوہِ فراواں کا اک انبار لگا ہے
ہر شہر کی گلیوں میں ہے سناٹوں کا عفریت
ویران طلسمات کا ایک روگ لگا ہے
طاری ہے مسیحاؤں پہ بھی خوف جہاں کے
اس رات کا ہر تارا ہی بے نور و ضیا ہے
تاراج دساتیر ہیں قربِ دل و جاں کے
انسان ہی انسان سے اب دور کھڑا ہے
مغرب کے اندھیروں میں ہے خورشید ِجہانتاب
مشرق بھی تہی دست کہ محروم ضیاء ہے
اے کاشفِ غم کھول دے یہ بند وگرنہ
اٹھے گا نہیں سر جو یہ سجدے میں پڑا ہے
آشفتہ ؤ پژمردہ ؤ آزردہ ہے عاطف
یہ بیکس و بیچارے کی مجبور صدا ہے
---
سید عاطف علی ۔ 12 اپریل 2020​
الف نظامی — اپریل 12، 2020 10:40 صبح
واہ بہت خوب!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 10:51 صبح
گزشتہ شب کی بے چینی و بےخوابی ان اشعار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔

۔عنوان قرنطین ۔
مدت ہوئی اک حشر سا عالم میں بپا ہے
اور سامنے انساں ہے جو لاچار کھڑ ا ہے
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
جو نشہء لذات جہاں میں ہوا بدمست
اک شورش پیہم میں گرفتار ہوا ہے
گھر گھر جو ہوا صورت زندان ، قرنطین
اندوہِ فراواں کا اک انبار لگا ہے
طاری ہے مسیحاؤں میں بھی خوف جہاں کے
اس رات کا ہر تارہ ہی بے نور و ضیا ہے
تاراج دساتیر ہیں قربِ دل و جاں کے
انسان ہی انسان سے اب دور کھڑا ہے
اے کاشفِ غم کھول دے یہ بند وگرنہ
اٹھے گا نہیں سر جو یہ سجدے میں پڑا ہے
آشفتہ ؤ پژمردہ ؤ آزردہ ہے عاطف
یہ بیکس و بیچارہ کی مجبور صدا ہے
---
سید عاطف علی ۔ 12 اپریل 2020​
خوبصورت خوبصورت۔
اس شہپارے کو اردو محفل سہ ماہی میں شامل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیے
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 10:54 صبح
خوبصورت خوبصورت۔
اس شہپارے کو اردو محفل سہ ماہی میں شامل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیے
جی جی ضرور ، کیوں نہیں ۔
محمداحمد — اپریل 12، 2020 1:24 شام
بہت ہی خوب عاطف بھائی!
بہت عمدہ غزل کہی ہے آپ نے۔
بہت سی داد آپ کے لئے۔ :)
محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2020 1:29 شام
گزشتہ شب کی بے چینی و بےخوابی ان اشعار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔

۔عنوان قرنطین ۔
مدت ہوئی اک حشر سا عالم میں بپا ہے
اور سامنے انساں ہے جو لاچار کھڑا ہے
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
جو نشہء لذات جہاں میں ہوا بدمست
اک شورش پیہم میں گرفتار ہوا ہے
گھر گھر جو ہوا صورت زندان ، قرنطین
اندوہِ فراواں کا اک انبار لگا ہے
ہر شہر کی گلیوں میں ہے سناٹوں کا عفریت
ویران طلسمات کا ایک روگ لگا ہے
طاری ہے مسیحاؤں میں بھی خوف جہاں کے
اس رات کا ہر تارہ ہی بے نور و ضیا ہے
تاراج دساتیر ہیں قربِ دل و جاں کے
انسان ہی انسان سے اب دور کھڑا ہے
اے کاشفِ غم کھول دے یہ بند وگرنہ
اٹھے گا نہیں سر جو یہ سجدے میں پڑا ہے
آشفتہ ؤ پژمردہ ؤ آزردہ ہے عاطف
یہ بیکس و بیچارہ کی مجبور صدا ہے
---
سید عاطف علی ۔ 12 اپریل 2020​
بہت خوب عاطف بھائی۔
لاجواب کلام
مریم افتخار — اپریل 12، 2020 1:39 شام
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے

تاراج دساتیر ہیں قربِ دل و جاں کے
انسان ہی انسان سے اب دور کھڑا ہے
اے کاشفِ غم کھول دے یہ بند وگرنہ
اٹھے گا نہیں سر جو یہ سجدے میں پڑا ہے
کیا خوب کہا ہے ہے اجی کیا خوب کہا ہے! :applause:
عرفان سعید — اپریل 12، 2020 2:37 شام
بہت عمدگی سے آجکل کے حالات کو بہت خوبصورت پیرائے میں سمویا ہے۔
ماشاءاللہ!
شکیل احمد خان23 — اپریل 12، 2020 2:57 شام
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
عوام کو گھروں میں رہنے کی سرکاری ترغیبات جو رفتہ رفتہ احکامات ہوتی جارہی ہیں،ان کی کیا خوبصورت عکاسی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماشاء اللہ ، سید عاطف علی صاحب ، سبحان اللہ!
اور پھر ۔۔۔۔۔۔آشفتہ و پژمردہ و آزردہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بے کس و بے چارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کربناک غنا۔۔۔۔۔۔۔۔واہ واہ واہ!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 4:06 شام
عوام کو گھروں میں رہنے کی سرکاری ترغیبات جو رفتہ رفتہ احکامات ہوتی جارہی ہیں،ان کی کیا خوبصورت عکاسی کی ہے

سازشی تھیوری؟؟؟؟
فہد اشرف — اپریل 12، 2020 4:50 شام
واہ واہ کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی۔
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے​
محبوس ہے پھر بھی یا محبوس ہیں پھر بھی؟
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 4:57 شام
واہ واہ کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی۔
محبوس ہے پھر بھی یا محبوس ہیں پھر بھی؟

فہد بھائی یہ غزل کی شکل ہے لیکن اصلاََ ایک نظم ہے اسی لیے میں نے اس کو ایک عنوان بھی دیا ہے پہلے شعر سے مربوط ہے نا اس لئے "انسان" کے بارے میں یوں ہی کہہ دیا ۔ویسے تو ظاہر ہے کہ فرد سے مراد انسان کی نوع ہی لی ہے ۔ آپ کی کیا رائے ہے ؟
ظہیراحمدظہیر — اپریل 12، 2020 4:58 شام
واہ واہ کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی۔
محبوس ہے پھر بھی یا محبوس ہیں پھر بھی؟
فہد ، یہ شعر پچھلے شعر کے ساتھ مسلسل ہے ۔ پچھلے شعر میں لفظ انسان بطور واحد استعمال ہوا ہے اس لئے یہاں بھی واحد کا صیغہ ہے ۔
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:00 شام
فہد ، یہ شعر پچھلے شعر کے ساتھ مسلسل ہے ۔ پچھلے شعر میں لفظ انسان بطور واحد استعمال ہوا ہے اس لئے یہاں بھی واحد کا صیغہ ہے ۔
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہان من ۔
تقریر کی لذت سے منہ میٹھا ہو گیا ۔
پیارے ظہیر بھائی شاد آباد رہیں سدا ۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 12، 2020 5:04 شام
واہ واہ!! بہت خوب عاطف بھائی! انتہائی حسبِ حال ہے !
آپ کی مخصوص لفظیات جھلک رہی ہیں اس مسلسل غزل میں ۔ بہت خوب! اللہ سلامت رکھے!
البتہ لفظ قرنطین کے حسب و نسب سے ذرا آگاہی بخشئے گا ۔ میرا خیال تھا کہ اس کی جگہ قرنطینہ رائج ہے کہ جو اصل معرب شکل ہے اس اطالوی لفظ کی ۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 12، 2020 5:05 شام
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہان من ۔
تقریر کی لذت سے منہ میٹھا ہو گیا ۔
پیارے ظہیر بھائی شاد آباد رہیں سدا ۔
ہا ہا ہا ۔ میں اور آپ ایک ساتھ ہی لکھ رہے تھے ۔ میں تو دو انگلیوں سے ٹائپ کرتا ہوں سو ذرا وقت لگتا ہے۔ :):):)
La Alma — اپریل 12، 2020 5:19 شام
انتہائی شاندار!!
سید عاطف علی — اپریل 12، 2020 5:36 شام
واہ واہ!! بہت خوب عاطف بھائی! انتہائی حسبِ حال ہے !
آپ کی مخصوص لفظیات جھلک رہی ہیں اس مسلسل غزل میں ۔ بہت خوب! اللہ سلامت رکھے!
البتہ لفظ قرنطین کے حسب و نسب سے ذرا آگاہی بخشئے گا ۔ میرا خیال تھا کہ اس کی جگہ قرنطینہ رائج ہے کہ جو اصل معرب شکل ہے اس اطالوی لفظ کی ۔
کچھ (اجنبی) الفاظ کو مروڑ نے میں مزہ آتا ہے :) ۔ اس کی انگریزی شکل برتی ہے میں نے کوارنٹین ۔
اصل میں یہ اصطلاح -قرنطینہ - حال ہی میں سامنے آئی موجودہ حالات سے پہلے میں نے نہیں سنی ، اور میں نے اس کے مجموعی تاثر سے اسے وہ "رہائشی فیسلٹی" سمجھا جہاں لوگوں کو آئسولیشن کے اصولوں کے مطابق الگ رکھا جائے اور اس کی افعالی شکل قرنطین کرنا خود ایجاد کر لی (اس کے انگریزی استعمال کی بنیاد پر) ۔
میں نے جدید عربی میں بھی ایسی کافی مزیدار مثالیں دیکھی ہیں ۔ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنا مجھے قابل قبول انداز لگا لیکن لوگوں کو قرنطینہ کر نا عجیب لگا سو میں نے یہ تفرد و تصرف اختیار کر لیا اور مجھے خوشگوار لگا ۔ آپ کے فکری ڈھانچے میں عین ممکن ہے کہ یہ مس فٹ ہو ، سو آپ اپنی رائے سے بھی فیضیاب فرمائیے ۔
فرحان محمد خان — اپریل 12، 2020 5:39 شام
بہت خوب ❤❤❤
ذوالقرنین رضا اسیر — اپریل 12، 2020 5:45 شام
[
زنجیر نہیں پاؤں میں محبوس ہے پھر بھی
یارب وہ خطا کیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے
وہ خطا کیا ہے
یہ جملہ درست نہیں کیونکہ اپنی غلطی کے بارے میں سوال قائم کرنا جری ہونے پر دلالت کرتا ہے،
صفحات: 1 2 3 4 5 6

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B1%D9%86%D8%B7%DB%8C%D9%86%DB%81-%DB%94-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%AA-%DB%94%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DB%94%D9%82%D8%B1%D9%86%D8%B7%DB%8C%D9%86.111219/