ظہیراحمدظہیر — اپریل 5، 2018 2:42 صبح
قطعہ
وہاں اک موجِ بے حس ہے کہ آنکھیں نم نہیں کرتی
یہاں آبِ ندامت میں جبینیں ڈوب جاتی ہیں
یہ موجِ بے حسی بن کر سُونامی جان لے لے گی
سفینے برطرف اِس میں زمینیں ڈوب جاتی ہیں
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۸
محمد تابش صدیقی — اپریل 5، 2018 3:08 صبح
قطعہ
وہاں اک موجِ بے حس ہے کہ آنکھیں نم نہیں کرتی
یہاں آبِ ندامت میں جبینیں ڈوب جاتی ہیں
یہ موجِ بے حسی بن کر سُونامی جان لے لے گی
سفینے برطرف اِس میں زمینیں ڈوب جاتی ہیں
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۸
لاجواب ظہیر بھائی
محمداحمد — اپریل 5، 2018 6:40 صبح
کیا کہنے!
اکمل زیدی — اپریل 5، 2018 6:54 صبح
بہت خوب ۔ ۔ ۔ ۔
ہادیہ — اپریل 5، 2018 1:46 شام
امیزنگ۔۔۔لاجواب۔۔۔۔کیا الفاظ استعمال کروں۔۔۔بہت باکمال شاعری کرتے ہیں آپ۔۔۔زبردست۔۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 6، 2018 11:03 شام
آداب ! نوازش ! بہت شکریہ تابش بھائی !
بہت شکریہ احمد بھائی !
اچھا اچھا لگ رہا ہے آپ کو محفل میں دوبارہ سرگرم دیکھ کر ۔
نوزش! بہت شکریہ اکمل بھائی ۔
امیزنگ۔۔۔لاجواب۔۔۔۔کیا الفاظ استعمال کروں۔۔۔بہت باکمال شاعری کرتے ہیں آپ۔۔۔زبردست۔۔
بہت شکریہ ہادیہ! بہت ممنون ہوں ۔ خوشی ہے کہ آپ کو قطعہ اتنا پسند آیا ۔



اللہ تعالیٰ آپ کو شاد و آباد رکھے ! خوش رکھے ! آمین ۔