قطعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زھرا علوی — اپریل 22، 2008 8:50 صبح
ہر لحظہ ہی اندیشئہِ بے نام جھیلنا
ممکن نہیں ہے میرے لیے شام جھیلنا
کچھ تو ہیں قہر دیدہءِ دل کے شریر خواب
اس پہ نگاہِ یار کے پیغام جھیلنا
ابن سعید — اپریل 22، 2008 8:56 صبح
بہت خوب!
میں نے ایک بار اس شعر کے لئے کہا تھا ناں کہ اس پر تو بیسیوں اشعار بلا سوچے سمجھے لکھے جا سکتے ہیں۔ اتنی نغمگی اور تسلسل ہے اس بحر میں۔ پھر قافیہ بھی آپ نے اتنا خوبصورت چنا ہے۔ :)
زھرا علوی — اپریل 22، 2008 8:59 صبح
شکریہ بھیا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:):):) یو آر سو سوئیٹ;)
الف عین — اپریل 22، 2008 5:36 شام
خوب زہراء۔ لکھتی رہو، اور پڑھتی بھی رہو۔۔۔
زھرا علوی — اپریل 22، 2008 5:51 شام
دوسرے والا کام تھوڑا زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:(
زرقا مفتی — اپریل 23، 2008 3:55 صبح
بہت خوب
داد قبول کیجئے
زھرا علوی — اپریل 23، 2008 8:57 صبح
بہت شکریہ زرقا صاحبہ:)
خالو خلیفہ — اپریل 28، 2008 9:07 صبح
ہر لحظہ ہی اندیشئہِ بے نام جھیلنا
ممکن نہیں ہے میرے لیے شام جھیلنا
کچھ تو ہیں قہر دیدہءِ دل کے شریر خواب
اس پہ نگاہِ یار کے پیغام جھیلنا

بہت اچھا لکھا ہے آپ نے زھرا ۔۔امید ہے آئیندہ بھی آپ کی طرف سے اسی طرح کے عمدہ کلام سننے کو ملینگے۔۔
ہر لحظہ ہی اندیشئہِ بے نام جھیلنا۔۔واہ بہت اچھا خیال ہے ۔۔حقیقت سے بہت قریب۔۔;)
مغزل — اپریل 28، 2008 9:16 صبح
ما شا اللہ
زھرا علوی صاحبہ
بہت خوب قطع ہے ، واہ واہ سبحان اللہ
خوش رہیئے اور اسی طرح اپنے کلام سے نوازتی رہیئے ۔
اللہ کرے حرمتِ قرطاس و قلم اور۔
نیاز مند
م۔م۔مغل

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B7%D8%B9%DB%81%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.11813/