لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے

عاطف ملک — فروری 20، 2020 2:10 شام
بہت عرصے سے ایک غزل ہماری پوٹلی میں پڑی ہوئی ہے۔آج ہمت کر کے پیش کر رہے ہیں۔تمام محفلین بالخصوص اساتذہ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے
زندگی جبر سے تعبیر بھی ہو سکتی ہے
ہو بھی سکتے ہیں کبھی شارحِ راحت آنسو
اور ہنسی درد کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
نقش بر آب بھی بن سکتے ہیں پتھر کی لکیر
بے بسی اشک سے تحریر بھی ہو سکتی ہے
جس کو چاہوں گا بسالوں گا اسے آنکھوں میں
اور وہ آپ کی تصویر بھی ہو سکتی ہے
ایک الفت ہے کہ ہر قید سے آزاد ہے جو
پر یہی پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے
یہ ضروری تو نہیں وہ ہی وفادار نہ ہو
وجہِ فرقت مری تقدیر بھی ہو سکتی ہے
گفتگو ان سے ہوئی ہے تو یہ جانا عاطفؔ
بات میں سحر کی تاثیر بھی ہو سکتی ہے

عاطفؔ ملک
فروری ۲۰۲۰​
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 22، 2020 6:46 صبح
جس کو چاہوں گا بسالوں گا اسے آنکھوں میں
اور وہ آپ کی تصویر بھی ہو سکتی ہے
خوبصورت غزل!
عاطف ملک — فروری 22، 2020 1:01 شام
بہت شکریہ استادِ محترم
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 23، 2020 7:26 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم
کیوں شرمندہ کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب! اساتذہ سن پائیں تو ابھی کان پکڑ کر محفل سے اٹھادیں!
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 23، 2020 8:19 صبح
ماشاءاللہ ۔۔۔ بہت خوب!
ایک دو جگہ ہلکا سا تردد ہوا۔
نقش بر آب بھی بن سکتے ہیں پتھر کی لکیر
بے بسی اشک سے تحریر بھی ہو سکتی ہے
محاورتاً ’’پتھر پر لکیر‘‘ نہیں ہونا چاہیئے؟
یہ ضروری تو نہیں وہ ہی وفادار نہ ہو
وہ اور ہی کا متصل آنا فصاحت کے خلاف ہوگا، یہاں ’’وہی‘‘ کا مقام ہے، مگر الفاظ کی ترتیب برقرار رکھنے پر وزن کا مسئلہ ہوگا۔
دعاگو،
راحلؔ
عاطف ملک — فروری 24، 2020 5:40 صبح
ماشاءاللہ ۔۔۔ بہت خوب!
بہت شکریہ راحل بھائی
محاورتاً ’’پتھر پر لکیر‘‘ نہیں ہونا چاہیئے؟
شاید!
لیکن پھر پتھر پہ لکیر کرنا پڑے گا۔کیا یہ محاورتاً درست ہو گا؟
وہ اور ہی کا متصل آنا فصاحت کے خلاف ہوگا، یہاں ’’وہی‘‘ کا مقام ہے، مگر الفاظ کی ترتیب برقرار رکھنے پر وزن کا مسئلہ ہوگا۔
اس کا تو اندازہ تھا لیکن ابھی تک کوئی بہتر صورت نہیں سوجھی۔
اتنی توجہ کیلیے بہت مشکور ہوں:)
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 24، 2020 7:03 صبح
شاید!
لیکن پھر پتھر پہ لکیر کرنا پڑے گا۔کیا یہ محاورتاً درست ہو گا؟
میرے خیال میں تو ٹھیک ہونا چاہیئے۔
فرقان احمد — فروری 24، 2020 8:31 صبح
محاورتاً ’’پتھر پر لکیر‘‘ نہیں ہونا چاہیئے؟
لیکن پھر پتھر پہ لکیر کرنا پڑے گا۔کیا یہ محاورتاً درست ہو گا؟
پتھر کی لکیر
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 24، 2020 8:34 صبح
بہت شکریہ فرقان صاحب، جزاک اللہ۔
Wajih Bukhari — فروری 24، 2020 9:22 صبح
بہت عرصے سے ایک غزل ہماری پوٹلی میں پڑی ہوئی ہے۔آج ہمت کر کے پیش کر رہے ہیں۔تمام محفلین بالخصوص اساتذہ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے
زندگی جبر سے تعبیر بھی ہو سکتی ہے
ہو بھی سکتے ہیں کبھی شارحِ راحت آنسو
اور ہنسی درد کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
نقش بر آب بھی بن سکتے ہیں پتھر کی لکیر
بے بسی اشک سے تحریر بھی ہو سکتی ہے
جس کو چاہوں گا بسالوں گا اسے آنکھوں میں
اور وہ آپ کی تصویر بھی ہو سکتی ہے
ایک الفت ہے کہ ہر قید سے آزاد ہے جو
پر یہی پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے
یہ ضروری تو نہیں وہ ہی وفادار نہ ہو
وجہِ فرقت مری تقدیر بھی ہو سکتی ہے
گفتگو ان سے ہوئی ہے تو یہ جانا عاطفؔ
بات میں سحر کی تاثیر بھی ہو سکتی ہے

عاطفؔ ملک
فروری ۲۰۲۰​
بہت اچھی۔ آپ کا انداز پسند آیا۔
عاطف ملک — فروری 24، 2020 2:54 شام
واہ فرقان بھیا۔۔۔بہت شکریہ
بہت اچھی۔ آپ کا انداز پسند آیا۔
بہت شکریہ محترم
ایس ایس ساگر — فروری 24، 2020 3:23 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے عاطف بھائی۔
محمد عبدالرؤوف — فروری 24، 2020 3:25 شام
نقش بر آب بھی بن سکتے ہیں پتھر کی لکیر
بے بسی اشک سے تحریر بھی ہو سکتی ہے
"بن سکتے ہیں" تو غلط ہو جاے گا یہاں "بن سکتی ہے" ہونا چاہئیے ناں؟
فلک شیر — فروری 24، 2020 4:09 شام
ڈاکٹر صاحب! بہت اچھا کہا :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 25، 2020 7:47 صبح
"بن سکتے ہیں" تو غلط ہو جاے گا یہاں "بن سکتی ہے" ہونا چاہئیے ناں؟
’’سکتے ہیں‘‘ کا تعلق یہاں نقش کے ساتھ ہے، جو مذکر ہے۔ سو ’’نقش پتھر کی لکیر بن سکتے ہیں‘‘ کہنا ہی درست ہے۔
عاطف ملک — فروری 25، 2020 8:03 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے عاطف بھائی۔
بہت شکریہ بھائی:)
"بن سکتے ہیں" تو غلط ہو جاے گا یہاں "بن سکتی ہے" ہونا چاہئیے ناں؟
:)
’’سکتے ہیں‘‘ کا تعلق یہاں نقش کے ساتھ ہے، جو مذکر ہے۔ سو ’’نقش پتھر کی لکیر بن سکتے ہیں‘‘ کہنا ہی درست ہے۔
جزاک اللہ راحلؔ بھائی:)
ڈاکٹر صاحب! بہت اچھا کہا :)
نوازش،متشکرم فلک شیر بھیا:)
محمد عبدالرؤوف — فروری 25، 2020 8:36 صبح
’’سکتے ہیں‘‘ کا تعلق یہاں نقش کے ساتھ ہے، جو مذکر ہے۔ سو ’’نقش پتھر کی لکیر بن سکتے ہیں‘‘ کہنا ہی درست ہے۔
ویسے یہ تو مجھے یقین تھا کہ یہ نقطہ اساتذہ کی نگاہوں سے بچ کے نہیں جا سکتا مگر جو میرے دل کا کھٹکا تھا بس وہی بیان کر دیا، اصلاح کا بہت شکریہ
عاطف ملک بھائی بہت اچھی غزل ہے میرا ارادہ کوئی غلطی نکالنے کا ہرگز ہرگز نہیں تھا بس جو مجھ نا سمجھ کی سمجھ میں آیا اسی کا اظہار تھا
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 25، 2020 8:41 صبح
ویسے یہ تو مجھے یقین تھا کہ یہ نقطہ اساتذہ کی نگاہوں سے بچ کے نہیں جا سکتا مگر جو میرے دل کا کھٹکا تھا بس وہی بیان کر دیا، اصلاح کا بہت شکریہ
عاطف ملک بھائی بہت اچھی غزل ہے میرا ارادہ کوئی غلطی نکالنے کا ہرگز ہرگز نہیں تھا بس جو مجھ نا سمجھ کی سمجھ میں آیا اسی کا اظہار تھا
اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، میں تو سب سے یہی کہتا ہوں کہ اپنے تاثرات ضرور بیان کرنے چاہیئں، اگر درست ہوں تو مصنف کا بھلا، اگر غلط ہو تو ناقد کا :) بات سے بات چلتی ہے تو سب کے لئے تعلیم و تعلم کا سامان پیدا ہوتا ہے :)
محمد عبدالرؤوف — فروری 25، 2020 8:42 صبح
اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، میں تو سب سے یہی کہتا ہوں کہ اپنے تاثرات ضرور بیان کرنے چاہیئں، اگر درست ہوں تو مصنف کا بھلا، اگر غلط ہو تو ناقد کا :) بات سے بات چلتی ہے تو سب کے لئے تعلیم و تعلم کا سامان پیدا ہوتا ہے :)
بہت خوب
عاطف ملک — فروری 25، 2020 10:11 صبح
ویسے یہ تو مجھے یقین تھا کہ یہ نقطہ اساتذہ کی نگاہوں سے بچ کے نہیں جا سکتا مگر جو میرے دل کا کھٹکا تھا بس وہی بیان کر دیا، اصلاح کا بہت شکریہ
عاطف ملک بھائی بہت اچھی غزل ہے میرا ارادہ کوئی غلطی نکالنے کا ہرگز ہرگز نہیں تھا بس جو مجھ نا سمجھ کی سمجھ میں آیا اسی کا اظہار تھا
ایسی کوئی بات نہیں،آپ بے فکر ہو کر کلام کیا کریں۔
غزل کی پسندیدگی کیلیے بہت بہت شکریہ:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D8%BA%D9%88%D8%8C-%D8%A8%DB%92-%D8%B0%D8%A7%D8%A6%D9%82%DB%81%D8%8C-%D8%AF%D9%84-%DA%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DB%81%D9%88-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.110579/