لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب --- عمران شناور

عمران شناور — مارچ 9، 2009 5:57 صبح
لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب
اور کیا دکھلائے گی تقدیر اب
خود ہی چل کر آگیا زندان تک
کیا کرو گے خواب کی تعبیر اب
اے مسیحا! جو ترے باتوں میں تھی
دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب
ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا
بولنے والی تھی وہ تصویر اب
ٹھیک میرے دل ہی پر آکر لگے
آخری ترکش میں ہے جو تیر اب
اور کچھ پانے کی حسرت ہی نہیں‌
مل گئی ہے پیار کی جاگیر اب
(عمران شناور)
محمد وارث — مارچ 9، 2009 7:51 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے عمران صاحب، مقطع لا جواب ہے۔
اور اس شعر کے تو کیا کہنے، واہ واہ واہ
ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا
بولنے والی تھی وہ تصویر اب
آصف شفیع — مارچ 9، 2009 3:01 شام
بہت خوب عمران! ۔ ۔ ۔
شاہ حسین — مارچ 10، 2009 11:18 شام
بہت خوب جناب
الف عین — مارچ 11، 2009 7:22 صبح
اچھی غزل ہے لیکن عنوان میں ’پاؤں‘ غلط لکھا گیا ہے۔
ش زاد — مارچ 12، 2009 5:07 شام
بہت خوب عمران صاحب
خرم شہزاد خرم — مارچ 19، 2009 5:23 صبح
جزاک اللہ بہت اچھی غزل ہے جناب بہت خوب وارث صاحب والا شعر میں بھی منتخب کرتا ہوں بہت اچھا لگا
عمران شناور — مارچ 19، 2009 6:39 صبح
خرم شہزاد خرم صاحب! داد دینے کا بہت بہت شکریہ
لائبریری ممبر بننے کا مشورہ صرف میرے لیے ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم شہزاد خرم — مارچ 19، 2009 6:47 صبح
جناب اگر آپ بھی ممبر بنے گے تو ہمیں خوشی ہو گئ ویسے یہ میرے دستخط میں ہے سب کے لیے ہیں
جیا راؤ — مارچ 19، 2009 7:58 صبح

اے مسیحا! جو ترے باتوں میں تھی
دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب
ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا
بولنے والی تھی وہ تصویر اب
(عمران شناور)

واہ۔۔۔۔ بہت ہی خوب۔۔۔۔۔ !!!
عمران شناور — مارچ 19، 2009 10:57 صبح
بہت شکریہ جیا راؤ صاحبہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88-%D9%BE%DB%81%D9%86-%D9%84%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%A8-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.19975/