لوگ ٹوٹے ہوئے ، سالم درودیوار کے بیچ

ظہیراحمدظہیر — اپریل 1، 2017 12:13 صبح

حسرتیں چھوڑ گئیں کوچہء و بازار کے بیچ
لوگ ٹوٹے ہوئے ، سالم درودیوار کے بیچ
زینتِ صفحہء اول ہے تماشائے حیات
آدمی چھوٹی خبر ہے کہیں اخبار کے بیچ
بیش و کم کیا کریں اب ، دام جو لگتے ہیں لگیں
نقدِ جاں رکھ چکے جب درہم و دینار کے بیچ
نخلِ اندیشہء صد شاخِ زیاں اگتا ہے
ہر گلستانِ شجر دار و ثمربار کے بیچ
موجہء بادِ صبا زلف سے اُن کی نہ الجھ
گُل نہیں دل ہے مرا گیسوئے خمدار کے بیچ
مل گیا مجھ کو مرے سارے سوالوں کا جواب
اک توقف تھا ترے کلمہء ا نکار کے بیچ
تمہیں مل جائے گی پہچان مرے لفظوں سے
کبھی پڑھ کر مجھے دیکھو مرے اشعار کے بیچ
میں سمجھتا نہیں دریا کو کنارے سے الگ
وہ شناور ہوں کہ رہتا ہے جو منجدھار کے بیچ
جو ملا شاخِ محبت سے اُسے چوم لیا
فرق رکھا ہی نہیں ہم نے گل و خار کے بیچ
یادِ یارانِ وطن ا ور کبھی ذکرِ وطن !
یہ دوائیں ہیں مری مجمعِ آزار کے بیچ
ہمیں مرنا بھی ہے اپنی ہی روایات پر آج
اور جینا بھی ہے مرتی ہوئی اقدار کے بیچ
اک تنازع ہے ہنر عہدِ ضرورت میں ظہیر
کاسہء دادِ فن و کیسہء فنکار کے بیچ
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۴
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 1، 2017 5:59 صبح
حسرتیں چھوڑ گئیں کوچہء و بازار کے بیچ
لوگ ٹوٹے ہوئے ، سالم درودیوار کے بیچ

مل گیا مجھ کو مرے سارے سوالوں کا جواب
اک توقف تھا ترے کلمہء ا نکار کے بیچ

تمہیں مل جائے گی پہچان مرے لفظوں سے
کبھی پڑھ کر مجھے دیکھو مرے اشعار کے بیچ
واہ بھیا بہت ہی خوبصورت اور لاجواب اشعار ہیں ۔ جتنی بھی داد دی جائے کم ہے ۔ زبردست
محمد تابش صدیقی — اپریل 1، 2017 6:32 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی. کیا کہنے
زینتِ صفحہء اول ہے تماشائے حیات
آدمی چھوٹی خبر ہے کہیں اخبار کے بیچ

مل گیا مجھ کو مرے سارے سوالوں کا جواب
اک توقف تھا ترے کلمہء ا نکار کے بیچ

تمہیں مل جائے گی پہچان مرے لفظوں سے
کبھی پڑھ کر مجھے دیکھو مرے اشعار کے بیچ

جو ملا شاخِ محبت سے اُسے چوم لیا
فرق رکھا ہی نہیں ہم نے گل و خار کے بیچ

ہمیں مرنا بھی ہے اپنی ہی روایات پر آج
اور جینا بھی ہے مرتی ہوئی اقدار کے بیچ

اک تنازع ہے ہنر عہدِ ضرورت میں ظہیر
کاسہء دادِ فن و کیسہء فنکار کے بیچ
محمد ریحان قریشی — اپریل 1، 2017 6:52 صبح
نخلِ اندیشہء صد شاخِ زیاں اگتا ہے
ہر گلستانِ شجر دار و ثمربار کے بیچ
زبردست!
خوب غزل ہے جناب!
محمداحمد — اپریل 1، 2017 10:25 صبح
بہت ہی خوب ظہیر بھائی!
خوبصورت غزل ہے۔ ہر شعر زینے کے قدمچوں کا سا کام کر رہا ہے اور غزل موجِ تخیل سے اوجِ تخیل کی جانب محوِ پرواز ہے۔
بہت بہت داد و مبارکباد خاکسار کی طرف سے۔
شکر ہے کہ یہ والی غزل اردو میں ہے، جبھی ہمیں سمجھ بھی آ گئی ہے۔ :)
محمد وارث — اپریل 1، 2017 10:33 صبح
کیا ہی اچھی غزل ہے قبلہ، لاجواب!
لئیق احمد — اپریل 1، 2017 11:19 صبح
بہت خوب
لاریب مرزا — اپریل 1، 2017 12:05 شام
واہ!! کیا خوب غزل ارشاد فرمائی۔ بہت سی داد!!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:17 صبح
واہ بھیا بہت ہی خوبصورت اور لاجواب اشعار ہیں ۔ جتنی بھی داد دی جائے کم ہے ۔ زبردست
نوازش عامر بھائی! یہ آپ کا حسنِ ذوق ہے!! اللہ آپ کو خوش رکھے! بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:21 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی. کیا کہنے
بہت بہت شکریہ تابش بھائی!! مجھے یقین تھا کہ اس میں کچھ اشعار آپکو ضرور پسند آئیں گے ۔ :)
اللہ آپ کو سلامت رکھے! ! آمین۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:23 صبح
زبردست!
خوب غزل ہے جناب!
بہت شکریہ ریحان! بہت نوازش! اللہ تعالی آپ کو شاد آباد رکھے! ترقی عطا فرمائے!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:31 صبح
بہت ہی خوب ظہیر بھائی!
خوبصورت غزل ہے۔ ہر شعر زینے کے قدمچوں کا سا کام کر رہا ہے اور غزل موجِ تخیل سے اوجِ تخیل کی جانب محوِ پرواز ہے۔
بہت بہت داد و مبارکباد خاکسار کی طرف سے۔
شکر ہے کہ یہ والی غزل اردو میں ہے، جبھی ہمیں سمجھ بھی آ گئی ہے۔ :)
بہت بہت شکریہ احمد بھائی ! میری خوش قسمتی ہے کہ آپ ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اس محبت اور عنایت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اللہ تعالی آپ کو اپنی امان میں رکھے اور شاد آباد رکھے ۔
احمد بھائی غزلیں تو میری ساری اردو ہی میں ہیں ۔ بس ایک ہی غزل جناتی زبان میں لکھی تھی وہ غلطی سے کوہِ قاف گزٹ کے بجائے یہاں محفل میں پوسٹ ہوگئی ۔ :):):)
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:33 صبح
کیا ہی اچھی غزل ہے قبلہ، لاجواب!
بہت بہت شکریہ وارث بھائی! بہت نوازش! اللہ اپ کو سلامت رکھے، شاد و آباد رکھے!!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:34 صبح
بہت شکریہ لئیق صاحب! نوازش!!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:36 صبح
واہ!! کیا خوب غزل ارشاد فرمائی۔ بہت سی داد!!
بہت بہت شکریہ! پذیرائی پر ممنون ہوں ! اللہ تعالی آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ، شاد و آباد رکھے!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 2، 2017 5:39 صبح
بہت اعلی عمدہ غزل ہے۔مبارکباد قبول کریں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 2، 2017 5:40 صبح
مزے دار مزے دار
یہ غزل اُن کی مجھے جی سے پسند آئی ہے آپ
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:43 صبح
بہت اعلی عمدہ غزل ہے۔مبارکباد قبول کریں۔
نوازش برادرم! بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 5:46 صبح
مزے دار مزے دار
یہ غزل اُن کی مجھے جی سے پسند آئی ہے آپ
محبت ہے خلیل بھائی آپ کی! ذرہ نوازی ہے!! سمجھئے محنتانہ وصول ہوا! بہت بہت شکریہ!
اے خان — اپریل 2، 2017 10:39 صبح
زبردست :in-love: بہت خوب غزل ہے جناب،
اللہ تعالٰی زور قلم اور زیادہ کرے.
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88%DA%AF-%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%8C-%D8%B3%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%DB%8C%DA%86.95568/