لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں

راحیل فاروق — جنوری 6، 2016 4:20 شام
بہت دن ہو گئے۔ کچھ لکھا نہیں۔ عمدہ عمدہ خیال آنے بند ہو گئے۔ عین ممکن ہے کبھی آئے ہی نہ ہوں۔ محض ہمارا وہم ہو۔ لیکن اب تو وہم کو بھی ترس گئے ہیں۔ ایک سفر کے دوران کچھ مصرعے موزوں ہوئے۔ تھوڑی کھینچا تانی کے بعد اشعار کی صورت ہو گئی۔
پسند آئیں تو زہے نصیب۔ برے لگیں تو کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی!

لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
میں سمجھتا ہوں مجھے عشق سے فرصت ہی نہیں
دل ہو اور دل میں محبت ہو تو کیا ہی کہنے
یہ وہ نعمت ہے کہ اس سے بڑی نعمت ہی نہیں
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
مت مجھے سادہ سمجھنے کا تکلف کیجے
صاف کہیے مری باتوں میں صداقت ہی نہیں
دل تو کہتا ہے وہ باتیں کہ نہ پوچھو راحیلؔ
لیکن ان باتوں کی دنیا میں حقیقت ہی نہیں​

راحیلؔ فاروق​
آوازِ دوست — جنوری 6، 2016 4:31 شام
بہت دن ہو گئے۔ کچھ لکھا نہیں۔ عمدہ عمدہ خیال آنے بند ہو گئے۔ عین ممکن ہے کبھی آئے ہی نہ ہوں۔ محض ہمارا وہم ہو۔ لیکن اب تو وہم کو بھی ترس گئے ہیں۔ ایک سفر کے دوران کچھ مصرعے موزوں ہوئے۔ تھوڑی کھینچا تانی کے بعد اشعار کی صورت ہو گئی۔
پسند آئیں تو زہے نصیب۔ برے لگیں تو کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی!

لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
میں سمجھتا ہوں مجھے عشق سے فرصت ہی نہیں
دل ہو اور دل میں محبت ہو تو کیا ہی کہنے
یہ وہ نعمت ہے کہ اس سے بڑی نعمت ہی نہیں
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
مت مجھے سادہ سمجھنے کا تکلف کیجے
صاف کہیے مری باتوں میں صداقت ہی نہیں
دل تو کہتا ہے وہ باتیں کہ نہ پوچھو راحیلؔ
لیکن ان باتوں کی دنیا میں حقیقت ہی نہیں
راحیلؔ فاروق​
ماشاءاللّہ جناب لگتا ہے ایشیاء سے باہر نکل گئے ہیں :)
arifkarim — جنوری 6، 2016 4:44 شام
شاعری کی عادت تو ہے :)
ادب دوست — جنوری 6، 2016 4:52 شام
بہت دن ہو گئے۔ کچھ لکھا نہیں۔ عمدہ عمدہ خیال آنے بند ہو گئے۔ عین ممکن ہے کبھی آئے ہی نہ ہوں۔ محض ہمارا وہم ہو۔ لیکن اب تو وہم کو بھی ترس گئے ہیں۔ ایک سفر کے دوران کچھ مصرعے موزوں ہوئے۔ تھوڑی کھینچا تانی کے بعد اشعار کی صورت ہو گئی۔
پسند آئیں تو زہے نصیب۔ برے لگیں تو کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی!

لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
میں سمجھتا ہوں مجھے عشق سے فرصت ہی نہیں
دل ہو اور دل میں محبت ہو تو کیا ہی کہنے
یہ وہ نعمت ہے کہ اس سے بڑی نعمت ہی نہیں
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
مت مجھے سادہ سمجھنے کا تکلف کیجے
صاف کہیے مری باتوں میں صداقت ہی نہیں
دل تو کہتا ہے وہ باتیں کہ نہ پوچھو راحیلؔ
لیکن ان باتوں کی دنیا میں حقیقت ہی نہیں
راحیلؔ فاروق​

واہ واہ واہ راحیل بھائی کیا کہنے کیا کہنے
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور ..۔
نمرہ — جنوری 6، 2016 5:16 شام
لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
میں سمجھتا ہوں مجھے عشق سے فرصت ہی نہیں

کاہلی کےکیسے کیسے نام رکھے ہوئے ہیں دنیانے۔

دل تو کہتا ہے وہ باتیں کہ نہ پوچھو راحیلؔ
لیکن ان باتوں کی دنیا میں حقیقت ہی نہیں
عالمی مسئلہ !
عمراعظم — جنوری 6، 2016 6:34 شام
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
بہت خوب ۔۔۔
محمداحمد — جنوری 7، 2016 7:36 صبح
واہ واہ
بہت اچھے اشعار ہیں راحیل بھائی۔۔۔۔!
نذرانہء تحسین قبول کیجے۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 8، 2016 2:52 صبح
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
واہ واہ! سبحان اللہ ! کیا خواہش ہے اور کیا ضرورت ہے! راحیل بھائی اچھی غزل ہے ۔ خوش رہیئے ۔
فاتح — جنوری 8، 2016 3:16 صبح
واہ واہ کیا کہنے
سید اسد معروف — جنوری 8، 2016 4:20 صبح
بہت خوب۔ دیر آید درست آید۔بلکہ زبر دست آید۔
عثمان قادر — جنوری 8، 2016 5:02 صبح
پسند آئیں تو زہے نصیب۔ برے لگیں تو کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی!
پسندیدگی کی زمہ داری تو کمپنی قبول کرے گی نا؟؟؟ یا یہ زمے داری بھی داعش قبول کرے ۔۔۔۔
کاشف اختر — جنوری 9، 2016 6:39 صبح
کوئی بتائے مجھے کہ میں اس غزل کو کیوں نہیں دیکھ پارہا ہوں اپنے سمارٹ فون پر؟
سیدھی ایک لکیر سی بن رہی ہے! غزل تو نھیں دکھ رہی؟
جاسمن — جنوری 9، 2016 6:58 صبح
بہت خوب! واہ کیا کہنے!
لگتا ہے آپ پاکستان سے جا چکے ہیں۔ آپ کی فرمائشی دعائیں قبولیت کی سند پا چکی ہیں۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 9، 2016 7:07 صبح
بہت خوب راحیل بھائی
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
راحیل فاروق — جنوری 10، 2016 10:08 صبح
سچ کہوں تو یہ غزل کسی لائق نہیں تھی۔ بس جی چاہا کہ کچھ موزوں کیا جائے۔ دوستوں نے جس قدر پیار سے اس کی پذیرائی کی، میں اس کے لیے نہایت، نہایت ممنون ہوں۔
پنجابی کی ایک کہاوت ہے:
بھیڑے پیر نوں خلیفہ نہ چاوے تے ہور کون چاوے؟
مطلبِ سعدی یہ ہے کہ ناکام پیر کو اگر اس کا خلیفہ بھی پیر و مرشد، رہبرِ طریقت، قطب الزمان وغیرہ وغیرہ نہ کہے گا تو اور کون کہے گا؟
واہ واہ واہ راحیل بھائی کیا کہنے کیا کہنے
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور ..۔
دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں
بہت خوب ۔۔۔
واہ واہ
بہت اچھے اشعار ہیں راحیل بھائی۔۔۔۔!
نذرانہء تحسین قبول کیجے۔
بہت خوب۔ دیر آید درست آید۔بلکہ زبر دست آید۔
بہت خوب! واہ کیا کہنے!
بہت خوب راحیل بھائی
میں نالائق آپ کی عنایات اور محبتوں کا مقروض ہوں۔
لگتا ہے ایشیاء سے باہر نکل گئے ہیں :)
ایشیا والے تو چاہتے یہی ہیں کہ ہم کہیں اور نکل جائیں۔ لیکن کیا کیجیے۔ کمبخت کینیڈا، امریکہ، یورپ حتی کہ افریقہ والے بھی یہی چاہتے ہیں۔
شاعری کی عادت تو ہے :)
بجا فرمایا۔ جس حرکت سے انسان غسل خانے میں بھی باز نہ آئے وہ عادت کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتی!
کاہلی کےکیسے کیسے نام رکھے ہوئے ہیں دنیانے۔
تو گویا ہم دنیا ہیں!
تو گویا...؟
پسندیدگی کی زمہ داری تو کمپنی قبول کرے گی نا؟؟؟ یا یہ زمے داری بھی داعش قبول کرے ۔۔۔۔
قبول کر لے تو چار چاند نہ لگ جائیں ہماری کمبختی کو!
کوئی بتائے مجھے کہ میں اس غزل کو کیوں نہیں دیکھ پارہا ہوں اپنے سمارٹ فون پر؟
سیدھی ایک لکیر سی بن رہی ہے! غزل تو نھیں دکھ رہی؟
یہ آپ کی طبیعت کی راستی پر دلیل ہے۔ یا سلام!
لگتا ہے آپ پاکستان سے جا چکے ہیں۔ آپ کی فرمائشی دعائیں قبولیت کی سند پا چکی ہیں۔
ابھی نہیں، آپی۔ ابھی سند پہ دو چار دستخط رہتے ہیں۔
ابن رضا — جنوری 10، 2016 10:17 صبح
واہ بہت خوب
یوسف سلطان — جنوری 10، 2016 9:27 شام
دل ہو اور دل میں محبت ہو تو کیا ہی کہنے
یہ وہ نعمت ہے کہ اس سے بڑی نعمت ہی نہیں
بہت خوب
الف عین — جنوری 11، 2016 5:25 شام
اچھی غزل ہے، لیکن کہولت کا اثر بھی صاف نظر آتا ہے۔ کہ اس پائے کی نہیں جس کا راحیل فاروق سے توقع کی جا سکتی ہے
شکیب — جنوری 11، 2016 5:40 شام
مانجھنے سے پہلے ہی پوسٹ کردی ہے راحیل بھائی نے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88%DA%AF-%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.86943/