لوگ کیا کیا گفتگو کے درمیاں کھلنے لگے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 3:29 شام

لوگ کیا کیا گفتگو کے درمیاں کھلنے لگے
ذکر ِ یاراں چل پڑا تو رازداں کھلنے لگے
پھر پڑاؤ ڈل گئے یادوں کے شامِ ہجر میں
اور فصیلِ شہرِ جاں پر کارواں کھلنے لگے
تنگ شہروں میں کھلے ساگر کی باتیں کیا چلیں
بادِ ہجرت چل پڑی اور بادباں کھلنے لگے
جب سے دل کا آئنہ شفاف رکھنا آگیا
میری آنکھوں پر کئی عکسِ نہاں کھلنے لگے
دل کی شریانوں میں تازہ غم اک ایسے جم گیا
سب پرانے زخم ہائے بےنشاں کھلنے لگے
تیرے غم کا مہر بستہ گوشوارہ کیا کھلا
عمربھرکے دفتر ِ سود و زیاں کھلنے لگے
مدتوں سےہم نشیں تھے ہم نشاط وہم طرب
مبتلائے غم ہوا تو مہرباں کھلنے لگے
۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۰ ۔۔۔۔​
اکمل زیدی — دسمبر 23، 2015 5:29 صبح
مدتوں سےہم نشیں تھے ہم نشاط وہم طرب
مبتلائے غم ہوا تو مہرباں کھلنے لگے
واھ واھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
کاشف اختر — دسمبر 23، 2015 12:36 شام
ظہیر بھائی ایک مشورہ قبول فرمائیں!
غزل کے شروع میں یا آخر میں اپنا نام بھی لکھ دیا کریں! سن لکھنے سے پہلے ۔۔۔ اس صورت میں کاپی پیسٹ کرنے والوں کو سہولت ہوتی ہے کہ نام نہیں لکھنا پڑتا ہے!
فاتح — دسمبر 23، 2015 12:38 شام
واہ واہ ایک اور خوبصورت غزل۔ کیا کہنے
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:47 شام
بہت شکریہ ، نوازش اکمل بھائی !
ظہیر بھائی ایک مشورہ قبول فرمائیں!
غزل کے شروع میں یا آخر میں اپنا نام بھی لکھ دیا کریں! سن لکھنے سے پہلے ۔۔۔ اس صورت میں کاپی پیسٹ کرنے والوں کو سہولت ہوتی ہے کہ نام نہیں لکھنا پڑتا ہے!
حکم کی تعمیل ہوگی حضور !
واہ واہ ایک اور خوبصورت غزل۔ کیا کہنے
بڑی نوازش ! اتنی توجہ اور محبت کا بہت شکریہ!
لاریب مرزا — اکتوبر 29، 2018 1:01 شام
واہ!! بہت خوب!!
منیب الف — نومبر 25، 2018 7:17 صبح
جب سے دل کا آئنہ شفاف رکھنا آ گیا۔۔
کیا کہنے! لاجواب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88%DA%AF-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DA%BE%D9%84%D9%86%DB%92-%D9%84%DA%AF%DB%92.86588/