لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا

ظہیراحمدظہیر — جنوری 4، 2016 3:36 صبح
لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا
اُس کی ذرا سی بات کا دفتر بنادیا
پہرے قیامتوں کے لگا کر زبان پر
دل کو ترے خیال نے محشر بنادیا
صادق تھے ہم بھی جذبہء منزل میں اسقدر
رستے کا ہر سراب سمندر بنادیا
لے لے کے نقشِ بندگی دہلیز سے تری
ہم نے جبین ِ عشق کا زیور بنادیا
شہر ِ وصال دیکھنا چاہا پلٹ کے جب
مجھ کو طلسم ِ ہجر نے پتھر بنادیا
بخشی کسی کو گہری خموشی مگر مجھے
اک عشق ِرائگاں نے سخنور بنادیا
رکھتے تھے ہم بھی پہلو میں ہیرا سا دل کبھی
آلام ِ روزگار نے کنکر بنادیا
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔ ٢٠٠٣
ٹیگ: سید عاطف علی فاتح محمد تابش صدیقی کاشف اختر
فاتح — جنوری 4، 2016 3:43 صبح
کیا ہی اچھا ہے دفتر بنانا۔ واہ
محمد تابش صدیقی — جنوری 4، 2016 4:23 صبح
بہت خوب
پہرے قیامتوں کے لگا کر زبان پر
دل کو ترے خیال نے محشر بنادیا

لے لے کے نقشِ بندگی دہلیز سے تری
ہم نے جبین ِ عشق کا زیور بنادیا
کاشف اختر — جنوری 8، 2016 4:12 شام
بخشی کسی کو گہری خموشی مگر مجھے
اک عشق ِرائگاں نے سخنور بنادیا
کاشف اختر — جنوری 8، 2016 4:13 شام
بہت اعلی ماشاءاللہ
محمدظہیر — جنوری 8، 2016 7:53 شام
دل کو ترے خیال نے محشر بنا دیا۔۔۔
رکھتے تھے ہم بھی پہلو میں ہیرا سا دل کبھی
آلام ِِ روزگار نے کنکر بنا دیا
بس اک بار پڑھنے کی دیر ہے ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں
ادب دوست — جنوری 8، 2016 8:19 شام
واہ واہ ظہیر بھائی کیا کہنے سب اشعار اچھے ہیں۔ مگر آپ نےیہ مشترکہ مسئلہ بیان کر دیا ۔ بہت بہت داد قبول کیجئے۔
بخشی کسی کو گہری خموشی مگر مجھے
اک عشق ِرائگاں نے سخنور بنادیا
نمرہ — جنوری 9، 2016 10:59 صبح
پہرے قیامتوں کے لگا کر زبان پر
دل کو ترے خیال نے محشر بنادیا​

لے لے کے نقشِ بندگی دہلیز سے تری
ہم نے جبین ِ عشق کا زیور بنادیا​

ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔ ٢٠٠٣​
واہ !
نذر حسین ناز — جنوری 10، 2016 12:26 شام
لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا
اُس کی ذرا سی بات کا دفتر بنادیا
واہ کیا جدید شعر ہے۔ عمدہ غزل ۔ کیا کہنے
ظہیراحمدظہیر — جنوری 11، 2016 10:37 شام
کیا ہی اچھا ہے دفتر بنانا۔ واہ

محبت ہے فاتح بھائی آپ کی۔ سلامت رہیں!
تابش بھائی ! آپ کی محبت کا مقروض ہوں ۔ اللہ تعالیٰ آ پ کو شاد آباد رکھے۔
بہت اعلی ماشاءاللہ
نوازش کاشف بھائی ! ممنون ہوں۔
دل کو ترے خیال نے محشر بنا دیا۔۔۔
رکھتے تھے ہم بھی پہلو میں ہیرا سا دل کبھی
آلام ِِ روزگار نے کنکر بنا دیا
بس اک بار پڑھنے کی دیر ہے ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں
ظہیر بھائی ! بہت محبت ہے آپ کی۔ اس پزیرائی کے لئے ممنون ہوں ۔ خداخوش رکھے آپ کو!
واہ واہ ظہیر بھائی کیا کہنے سب اشعار اچھے ہیں۔ مگر آپ نےیہ مشترکہ مسئلہ بیان کر دیا ۔ بہت بہت داد قبول کیجئے۔

بہت شکریہ ، نوازش نذیر بھائی !
نمرہ بہن ! بہت ممنون ہوں۔ خدا ذوق سلامت رکھے!
لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا
اُس کی ذرا سی بات کا دفتر بنادیا
واہ کیا جدید شعر ہے۔ عمدہ غزل ۔ کیا کہنے

نذر حسین بھائی ! آپ کی طرف سے داد میرے لئے باعثِ مسرت ہے ۔ خدا آپ کو سلامت رکھے!
توصیف یوسف مغل — جنوری 12، 2016 12:36 صبح
واہ واہ واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7.86853/