لگتا ہے مل گیا مجھے مقصد حیات کا

عظیم — مئی 20، 2022 12:14 شام

غزل
لگتا ہے مل گیا مجھے مقصد حیات کا
اٹھتا ہے دل میں شوق جو اس کی ہی بات کا
رہنے لگا ہوں محو بس اس کے خیال میں
اب مجھ کو علم ہے کوئی دن کا نہ رات کا
نکلا ہوں سر پہ باندھے کفن اس کی چاہ میں
نے جیت کی طلب ہے نہ دھڑکا ہے مات کا
میرا بھی کارساز وہی ہے کہ جو ہے رب
اس خلقتِ عظیم کا اس کائنات کا
غم ہے تو بس ہے یہ کہ نہ چھوٹے اب اس کا ہاتھ
ہے جشن کوئی دل میں تو اس کے ہی ساتھ کا
دیکھیں اب اس کی چاہ میں خوشیاں ہیں کون سی
دیکھا ہے جس کی راہ میں غم ذات ذات کا
برداشت اس قدر مگر آئی کہاں سے ہے
اے دل بنا ہے کون سی ایسی تُو دھات کا؟
جب ہے رضا ہی دوست کی اپنا ہدف عظیم
تعمیر کیوں کریں گے محل خواہشات کا

****​
محمد عبدالرؤوف — مئی 20، 2022 3:49 شام
نے جیت کی طلب ہے نہ دھڑکا ہے مات کا
"نے" تو اب متروک ہے۔ ایک مشورہ اگر قابلِ قبول ہو تو:
ہے جیت کی طلب نہ ہی دھڑکا ہے مات کا
سیما علی — مئی 20، 2022 5:02 شام
برداشت اس قدر مگر آئی کہاں سے ہے
اے دل بنا ہے کون سی ایسی تُو دھات کا؟
بہت خوب
بہت خوب
عبدالقدیر 786 — مئی 20، 2022 5:06 شام

جب ہے رضا ہی دوست کی اپنا ہدف عظیم
تعمیر کیوں کریں گے محل خواہشات کا

****​
بہت خوب بھائی
م حمزہ — مئی 20، 2022 5:23 شام

غزل
لگتا ہے مل گیا مجھے مقصد حیات کا
اٹھتا ہے دل میں شوق جو اس کی ہی بات کا
رہنے لگا ہوں محو بس اس کے خیال میں
اب مجھ کو علم ہے کوئی دن کا نہ رات کا
نکلا ہوں سر پہ باندھے کفن اس کی چاہ میں
نے جیت کی طلب ہے نہ دھڑکا ہے مات کا
میرا بھی کارساز وہی ہے کہ جو ہے رب
اس خلقتِ عظیم کا اس کائنات کا
غم ہے تو بس ہے یہ کہ نہ چھوٹے اب اس کا ہاتھ
ہے جشن کوئی دل میں تو اس کے ہی ساتھ کا
دیکھیں اب اس کی چاہ میں خوشیاں ہیں کون سی
دیکھا ہے جس کی راہ میں غم ذات ذات کا
برداشت اس قدر مگر آئی کہاں سے ہے
اے دل بنا ہے کون سی ایسی تُو دھات کا؟
جب ہے رضا ہی دوست کی اپنا ہدف عظیم
تعمیر کیوں کریں گے محل خواہشات کا

****​
شاندار و جاندار غزل ہے۔
اچھا ایک بات بتائیں عظیم بھائی!شعر و شاعری کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں ہے۔ اسلئے آپ سے استفسار کررہا ہوں۔
تخلص اگر ذو معنی ہو تو شعر کا حسن دوبالا ہوتا ہے ، ایسا کہیں سنا ہے۔ کیا اس غرض کیلیے
آپ کا یہ شعر
میرا بھی کارساز وہی ہے کہ جو ہے رب
اس خلقتِ عظیم کا اس کائنات کا
یہ کام کرسکتا ہے؟؟؟
عظیم — مئی 20، 2022 6:09 شام
"نے" تو اب متروک ہے۔ ایک مشورہ اگر قابلِ قبول ہو تو:
ہے جیت کی طلب نہ ہی دھڑکا ہے مات کا
'نے' میں نے ایک دو بار پہلے بھی استعمال کیا تھا، بابا (الف عین) نے اس سے کبھی منع نہیں فرمایا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے
جزاک اللہ خیر
بہت بہت شکریہ آپ کا
شاندار و جاندار غزل ہے۔
اچھا ایک بات بتائیں عظیم بھائی!شعر و شاعری کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں ہے۔ اسلئے آپ سے استفسار کررہا ہوں۔
تخلص اگر ذو معنی ہو تو شعر کا حسن دوبالا ہوتا ہے ، ایسا کہیں سنا ہے۔ کیا اس غرض کیلیے
آپ کا یہ شعر
میرا بھی کارساز وہی ہے کہ جو ہے رب
اس خلقتِ عظیم کا اس کائنات کا
یہ کام کرسکتا ہے؟؟؟
میرا بھی یہی خیال ہے کہ اس طرح شعر کا حسن بڑھ جاتا ہے۔ میرا شعر اس بات پر پورا اترتا ہے کہ نہیں اس کا مجھے علم نہیں ہے
جزاک اللہ خیر غزل کی پسندیدگی کے لیے
محمد عبدالرؤوف — مئی 20، 2022 10:50 شام
'نے' میں نے ایک دو بار پہلے بھی استعمال کیا تھا، بابا (الف عین) نے اس سے کبھی منع نہیں فرمایا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے
مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ استاد صاحب نے اس پر اعتراض نہیں فرمایا۔ ورنہ میں ہرگز اس پر بات نہ کرتا۔ سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%85%D9%84-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%B5%D8%AF-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%A7.118461/