لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی

عاطف ملک — نومبر 24، 2019 5:32 صبح
لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی
دیکھو مزاج پرسی ذرا میرے یار کی
نکلی جو آج آہ دلِ دل فگار کی
پہنچے گی گونج عرش تلک اس پکار کی
تو پاس ہو تو سال ہے خوشیوں کی اک گھڑی
اور دور ہو تو پل ہے صدی اضطرار کی
جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی
پہچان لیں جو حق کو تو دیتے ہیں اس کا ساتھ
ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی
کیونکر مرے قلم سے نہ نکلے تمہارا عشق
خوشبو تو اپنے آپ خبر ہے بہار کی
مانا کہ ناگزیر نہیں ہے یہاں کوئی
عاطفؔ مگر ہے بات فقط اختیار کی

عاطفؔ ملک
نومبر ۲۰۱۹

محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 27، 2019 12:18 شام
مطلع بہت خوب ہے، بھئی واہ!
باقی کی غزل بھی بہت عمدہ ہے، بس مقطعے سے قبل کا شعر غزل کے عمومی میعار سے کچھ کم لگا۔
’’جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی‘‘
یہ شعر پڑھ کر بے اختیار آج کل کی سیاسی صورتحال یاد آگئی اور ایک بے ساختہ سی ہنسی چھوٹ گئی :)
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
دعاگو،
راحلؔ
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 27، 2019 2:02 شام
لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی
دیکھو مزاج پرسی ذرا میرے یار کی
نکلی جو آج آہ دلِ دل فگار کی
پہنچے گی گونج عرش تلک اس پکار کی
تو پاس ہو تو سال ہے خوشیوں کی اک گھڑی
اور دور ہو تو پل ہے صدی اضطرار کی
جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی
پہچان لیں جو حق کو تو دیتے ہیں اس کا ساتھ
ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی
کیونکر مرے قلم سے نہ نکلے تمہارا عشق
خوشبو تو اپنے آپ خبر ہے بہار کی
مانا کہ ناگزیر نہیں ہے یہاں کوئی
عاطفؔ مگر ہے بات فقط اختیار کی

عاطفؔ ملک
نومبر ۲۰۱۹

کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب! واہ
عاطف ملک — نومبر 28، 2019 5:45 صبح
مطلع بہت خوب ہے، بھئی واہ
بہت شکریہ:)
باقی کی غزل بھی بہت عمدہ ہے، بس مقطعے سے قبل کا شعر غزل کے عمومی میعار سے کچھ کم لگا۔
:)
’’جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی‘‘
یہ شعر پڑھ کر بے اختیار آج کل کی سیاسی صورتحال یاد آگئی اور ایک بے ساختہ سی ہنسی چھوٹ گئی :)
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
بہت نوازش،بہت شکریہ:):):)
کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب! واہ
شکریہ خلیل سر:)
فاخر رضا — نومبر 28، 2019 6:36 صبح
بہت خوب
مقطع کا مطلب بتا دیجیے
عاطف ملک — نومبر 28، 2019 2:27 شام
بہت خوب
مقطع کا مطلب بتا دیجیے
کچھ لوگوں کو ہم ناگزیر سمجھ لیتے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی کسی کیلیے ناگزیر نہیں،کیونکہ ان کے حوالے سے خود پر اختیار نہیں ہوتا۔
کچھ ایسا خیال تھا۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 6، 2019 4:02 صبح
واہ! بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں عاطف!
دوسرے شعر کو دیکھ لیجئے ۔ آہ کو پکار کہنا اچھا نہیں لگ رہا ۔ ایک چھوٹا سا نکتہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو متروکہ الفاظ کے استعمال سے بچنا چاہئے ۔
"ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی" ۔ آج کل تو "نے" کوئی بھی استعمال نہیں کرتا ۔ اسے یوں کرلیجئے: "ہے جاہ کی طلب نہ ہمیں اقتدار کی"
عاطف بھائی ، آپ کی شاعری میں امکانات ہیں ۔ سہل پسندی سے بچئے ۔ غزل لکھ کر رکھ دیجئے اور جب بھول جائے تو پھر سے اٹھا کر دشمن کی نظر سے دیکھئے ۔ ذرا سی محنت اور نظرِ ثانی سے مصرعے سنور جاتے ہیں ۔ اپنے تجربے کی بات بتارہا ہوں آپ کو۔ برا لگے تو معذرت ۔ بتادیجئے گا آئندہ نہیں کہوں گا۔ :):):)
عاطف ملک — دسمبر 21، 2019 5:20 صبح
واہ! بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں عاطف!
بہت شکریہ
دوسرے شعر کو دیکھ لیجئے ۔ آہ کو پکار کہنا اچھا نہیں لگ رہا
اس کو دیکھتا ہوں محترم،
آہ بے آواز ہوتے ہوئے بھی عرش تک پہنچے گی،ایسا کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔
ایک چھوٹا سا نکتہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو متروکہ الفاظ کے استعمال سے بچنا چاہئے ۔
"ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی" ۔ آج کل تو "نے" کوئی بھی استعمال نہیں کرتا ۔ اسے یوں کرلیجئے: "ہے جاہ کی طلب نہ ہمیں اقتدار کی"
جی بہتر،
ویسے "نے" دانستہ استعمال کیا تھا(n)
عاطف بھائی ، آپ کی شاعری میں امکانات ہیں ۔ سہل پسندی سے بچئے ۔ غزل لکھ کر رکھ دیجئے اور جب بھول جائے تو پھر سے اٹھا کر دشمن کی نظر سے دیکھئے ۔ ذرا سی محنت اور نظرِ ثانی سے مصرعے سنور جاتے ہیں ۔ اپنے تجربے کی بات بتارہا ہوں آپ کو۔ برا لگے تو معذرت ۔ بتادیجئے گا آئندہ نہیں کہوں گا۔ :):):)
بہت خوشی ہوتی ہے آپ کے تبصروں سے۔آپ جیسے اہلِ علم سے ہی تو سب کچھ سیکھا ہے۔ضرور تبصرہ کیا کریں تاکہ ہمارا کلام بھی کسی قابل ہو سکے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%DB%8C%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C.109291/