لے لے سکون قلب بھی، جو چاہے دے سزا مجھے

ذوالفقار نقوی — دسمبر 15، 2013 4:42 صبح
لے لے سکون قلب بھی، جو چاہے دے سزا مجھے
لیکن فصیلِ شہر سے اپنی نہ کر جدا مجھے
بجلی کی زد میں آشیاں، نوکِ سناں پہ ہے جگر
اب اور منتظر نہ رکھ، منزل مری دکھا مجھے
دستک تھا دے رہا کوئی، دہلیز پر امنگ کی
میں ہی اسیرِ ذات تھا، خود ہی نہ در کھلا مجھے
میں محوِ دیدِ یار تھا، کچھ کہہ کے وہ گزر گیا
''کیسا عجیب لفظ تھا، جو یاد نہ رہا مجھے''
میری نظر کے تیر سے، کانٹوں کے دل کو پھول کر
دے دے یہ کیمیا گری ، یہ حسن کر عطا مجھے
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — دسمبر 15، 2013 4:44 صبح
ابن سعید بھائی، میں نے نئی لڑی بنائی ہے لیکن عنوان کی تدوین کی سہولت دستیاب نہیں۔
ذوالفقار نقوی — جنوری 7، 2014 3:31 صبح
بہت شکریہ ابن سعید بھائی
محمداحمد — جنوری 8، 2014 1:15 شام
بہت خوب ذوالفقار نقوی صاحب۔
اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجے۔
ذوالفقار نقوی — جنوری 10، 2014 2:05 صبح
بہت خوب ذوالفقار نقوی صاحب۔
اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجے۔

بہت نوازش جناب
جاسمن — جولائی 7، 2020 8:11 شام
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%DB%92-%D9%84%DB%92-%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86-%D9%82%D9%84%D8%A8-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%8C-%D8%AC%D9%88-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92-%D8%AF%DB%92-%D8%B3%D8%B2%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.70143/