ماں جی سے

راحیل فاروق — فروری 14، 2016 3:42 شام
تقریباً سات سال پرانی ایک نظم۔ حالات کچھ بدلے نہیں اب تک!
کیوں جھگڑتی ہیں بے سبب، ماں جی؟
میں بڑا ہو گیا ہوں اب، ماں جی!
بھلے وقتوں کی آپ کی ہے سوچ
اب بھلا وقت ہے ہی کب، ماں جی؟
وہ زمانہ نہیں رہا، مانیں!
ہے یہی زندگی کا ڈھب، ماں جی
میں تو پھر آپ سے ہوا باغی
لوگ بھولے ہوئے ہیں رب، ماں جی
اندھے قانون کچھ ہیں فطرت کے
یہ خدا کا نہیں غضب، ماں جی
آپ نے بھی تو زندگی کی ہے
جانتی ہوں گی آپ سب، ماں جی
میں سمجھ لوں گا آپ کی باتیں
آپ جتنا بنوں گا جب، ماں جی
آپ بس یہ دعائیں میرے لیے
چھوڑیے گا نہ اب نہ تب، ماں جی
ہے تو بیٹا نا آپ کا راحیلؔ؟
لڑکے ہوتے ہیں بے ادب، ماں جی​
محمد تابش صدیقی — فروری 14، 2016 3:45 شام
ایک ماں ہی تو نہیں سمجھتی۔
اگر ماں بھی سمجھنا شروع ہو جائے تو محبت کون کرے؟
ابن رضا — فروری 14، 2016 3:51 شام
واہ کیا کہنے۔ بہت خوب
نور وجدان — فروری 14، 2016 3:59 شام
واہ۔ایک سچی حقیقت کو سادہ الفاظ میں مگر پر تاثر لہجے میں بیان کرگئے ۔ سبحان اللہ
یوسف سلطان — فروری 14، 2016 4:16 شام
ماشاء الله بہت خوبصورت نظم ہے ۔
عمراعظم — فروری 14، 2016 4:43 شام
لا جواب
نایاب — فروری 14، 2016 6:44 شام
بلاشبہ بہت خوبصورت نظم
بہت دعائیں
جاسمن — فروری 14، 2016 7:02 شام
بہت پیاری دل میں اترتی نظم۔
آصف اثر — فروری 14، 2016 7:38 شام
ایک بہترین نظم۔ پُر اثر۔
مور سوک دہ؟ مور مینہ دہ، محبت دے، گُل دے:rose:، دہ گُل خوگ بوئیں دے، مور سپوگمئ دہ، د سپوگمئی رنڑا دہ۔ مور ڈیوہ دہ، پہ تیارہ کی مشال دے، پہ غم کی مرحم دے، مور ستڑی دہ ، مور زڑہ ورہ دہ ، خو ۔۔۔۔خو۔۔مور ڈیرہ کمزوری دہ۔۔۔ دومرہ کمزوری کہ سوک ورتہ د زڑہ پہ سترگو اوگوری نو ووخکی بہ یی وندریگی، مور خو بس مور دہ۔۔۔پہ رختیا کہ اووایوو نو دَمور مثل نشتہ۔۔۔ ھیس کلہ نہ۔:rose:
حمیرا عدنان — فروری 14، 2016 7:56 شام
سبحان اللہ
بہت خوب راحیل بھائی
ظہیراحمدظہیر — فروری 15، 2016 12:36 صبح
بہت خوبصورت !!! راحیل بھائی ۔ کتنے حساس موضوع کو کس خوبصورتی سے زبان دی ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%AC%DB%8C-%D8%B3%DB%92.87987/