ماں کی تربت پر

محمد خلیل الرحمٰن — مئی 9، 2021 2:02 شام
مدرز ڈے کی مناسبت سے نعیم فراشری کی نظم کا جو منظوم ترجمہ ہم۔ ے کیا تھا ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے۔
نظم اس قدر خوبصورت اور دل کو چھوجانے والی تھی،بھائی حسان خان آپ کا ترجمہ اس طور دلکش اور سادہ تھا کہ دل کے تار جھنجھنا اُٹھے۔ یہ ترجمہ آپ کی نذر ہے۔
استادِ محترم محمد وارث صاحب ، سید عاطف علی بھائی محمد ریحان قریشی بھائی سے خصوصی توجہ اور نظرِ ثانی کی درخواست کے ساتھ پیشِ خدمت ہے۔واضح رہے کہ ایک چھوٹی سی تبدیلی بھی کی ہے۔ اپنے میلانِ طبعی کے لحاظ سے ماں کے نام ترجمہ کیا ہے۔
ماں کی لحد پر
ترجمہ محمد خلیل الرحمٰن
قبر پر تیری میں لوٹ آیا تو ہوں
با دلِ بیمار اور خوار و زبوں
میں یہاں پاتا نہیں کچھ یادگار
اے مری ماں! جُز تری خاکِ مزار
گرچہ دوری کے یہ گُزرے آٹھ سال
اس زیارت کو میں گنتا ہوں وصال
دور اور مہجور تجھ سے جوں ہوا
دور اِس خاکِ لحد سے بھی رہا
مجھ کو تو پہچانتی ہے ناں ! مری
میں ترا بیٹا ہوں آخر ماں مری!
دِل شکستہ ہجر میں تیرے ہوا
اور تسلی کے لیے یاں آگیا
آہ ! گر اک لفظ ہی تمُ سے سنوں
ایک پل کے واسطے ہی دیکھ لوں
اِس جہاں میں رسم و راہِ دل کہاں
مردگاں اور زندگاں کے درمیاں
میرے اندر جل رہا ہے اشتیاق
اک غم و اندوہ کی صورت فراق
کاش! پر لگ جائیں مجھ کو اور اُڑوں
تُم سے ملنے کے لیے میں آسکوں
اور تُم سے مل سکوں میں اک ذرا
درمیانِ نور، نزدیکِ خدا
۔۔۔۔۔
محمد عبدالرؤوف — مئی 9، 2021 2:30 شام
بہت خوب خلیل بھائی ماشاءاللہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 9، 2021 5:14 شام
بہت خوب خلیل بھائی ماشاءاللہ
جزاک اللہ محمد عبدالرؤوف بھائی۔ خوش رہیے!
ایس ایس ساگر — مئی 9، 2021 5:34 شام
بہت خوب محمد خلیل الرحمٰن سر۔
ایک خوبصورت اور عمدہ نظم کا ترجمہ پیش کرنے کا شکریہ۔
اللہ آپ کو جزائے خیرعطا کریں۔ آمین
سیما علی — مئی 9، 2021 5:41 شام
کاش! پر لگ جائیں مجھ کو اور اُڑوں
تُم سے ملنے کے لیے میں آسکوں
اور تُم سے مل سکوں میں اک ذرا
درمیانِ نور، نزدیکِ خدا
بہت اعلیٰ
یہ ہی کیفیت ہوتی ہے اور عجیب ہوتی ہے ہمیں ہماری اماّں ویسے تو ہر وقت یاد آتیں ہیں اور اُنکی کمی ہر دم محسوس ہوتی ہے !لیکن رمضان میں بہت اس لئیے کہ اُنکا 12 رمضان کو انتقال ہوا تھا !!تو رمضان میں بہت شدت سے یاد آتیں ہیں ۔۔دعا ہے کہ پرودگار اپنے جوارِ میں اعلیٰ ترین مقامُ عطا فرمائے آمین
ایس ایس ساگر — مئی 9، 2021 5:46 شام
یہ ہی کیفیت ہوتی ہے اور عجیب ہوتی ہے ہمیں ہمارے اماّں ویسے تو ہر وقت یاد آتیں ہیں اور اُنکی کمی ہر دم محسوس ہوتی ہے !لیکن رمضان میں بہت اس لئیے کہ وہ 12 رمضان کو انتقال ہوا تھا !!تو رمضان میں بہت شدت سے یاد آتیں ہیں پرودگار اپنے جوارِ میں اعلیٰ مقامُ عطا فرمائے آمین
آمین ثم آمین۔
محمد عبدالرؤوف — مئی 9، 2021 6:00 شام
کاش! پر لگ جائیں مجھ کو اور اُڑوں
تُم سے ملنے کے لیے میں آسکوں
اور تُم سے مل سکوں میں اک ذرا
درمیانِ نور، نزدیکِ خدا
بہت اعلیٰ
یہ ہی کیفیت ہوتی ہے اور عجیب ہوتی ہے ہمیں ہمارے اماّں ویسے تو ہر وقت یاد آتیں ہیں اور اُنکی کمی ہر دم محسوس ہوتی ہے !لیکن رمضان میں بہت اس لئیے کہ وہ 12 رمضان کو انتقال ہوا تھا !!تو رمضان میں بہت شدت سے یاد آتیں ہیں پرودگار اپنے جوارِ میں اعلیٰ مقامُ عطا فرمائے آمین
آمین
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 10، 2021 1:04 صبح
بہت خوب محمد خلیل الرحمٰن سر۔
ایک خوبصورت اور عمدہ نظم کا ترجمہ پیش کرنے کا شکریہ۔
اللہ آپ کو جزائے خیرعطا کریں۔ آمین
آداب، آداب ساگر بھائی! نظم کو سراہنے کا شکریہ۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 10، 2021 1:08 صبح
کاش! پر لگ جائیں مجھ کو اور اُڑوں
تُم سے ملنے کے لیے میں آسکوں
اور تُم سے مل سکوں میں اک ذرا
درمیانِ نور، نزدیکِ خدا
بہت اعلیٰ
یہ ہی کیفیت ہوتی ہے اور عجیب ہوتی ہے ہمیں ہماری اماّں ویسے تو ہر وقت یاد آتیں ہیں اور اُنکی کمی ہر دم محسوس ہوتی ہے !لیکن رمضان میں بہت اس لئیے کہ اُنکا 12 رمضان کو انتقال ہوا تھا !!تو رمضان میں بہت شدت سے یاد آتیں ہیں ۔۔دعا ہے کہ پرودگار اپنے جوارِ میں اعلیٰ ترین مقامُ عطا فرمائے آمین
بہنا! خوشی ہوئی کہ ہمارے منظوم ترجمہ نے آپ کو والدہ صاحبہ کی یاد دلادی۔ اللہ کریم انہیں اور ہماری والدہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے
سیما علی — مئی 10، 2021 2:29 صبح
بہنا! خوشی ہوئی کہ ہمارے منظوم ترجمہ نے آپ کو والدہ صاحبہ کی یاد دلادی۔ اللہ کریم انہیں اور ہماری والدہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے
آمین ثم آمین
یاسر شاہ — مئی 11، 2021 12:53 شام
خوب ترجمانی ہے خلیل بھائی
قبول صورت قبول صورت:)
دو مقامات جنھیں سرخ کیا ہے پھر سے دیکھ لیں:
مجھ کو تو پہچانتی ہے ناں ! مری
میں ترا بیٹا ہوں آخر ماں مری!
آہ ! گر اک لفظ ہی تمُ سے سنوں
ایک پل کے واسطے ہی دیکھ لوں
یوں کر دیکھنے میں ہرج نہیں:
تو مجھے تو جانتی ہے جاں مری!
میں ترا بیٹا ہوں آخر ماں مری!
ایک لفظ اے کاش تجھ سے سن سکوں
تجھ کو اک پل کے لیے ہی دیکھ لوں
گُلِ یاسمیں — مئی 11، 2021 1:04 شام
آہ ! گر اک لفظ ہی تمُ سے سنوں
ایک پل کے واسطے ہی دیکھ لوں
بہت اعلیٰ منظوم ترجمہ ۔
یوں تو ماں کی یاد دل سے کبھی نکلی ہی نہیں لیکن ملنے کی خواہش اور بڑھ گئی۔
خوش رہئیے ہمیشہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 18، 2021 8:17 صبح
خوب ترجمانی ہے خلیل بھائی
قبول صورت قبول صورت:)
دو مقامات جنھیں سرخ کیا ہے پھر سے دیکھ لیں:
مجھ کو تو پہچانتی ہے ناں ! مری
میں ترا بیٹا ہوں آخر ماں مری!
آہ ! گر اک لفظ ہی تمُ سے سنوں
ایک پل کے واسطے ہی دیکھ لوں
یوں کر دیکھنے میں ہرج نہیں:
تو مجھے تو جانتی ہے جاں مری!
میں ترا بیٹا ہوں آخر ماں مری!
ایک لفظ اے کاش تجھ سے سن سکوں
تجھ کو اک پل کے لیے ہی دیکھ لوں
خوبصورت اصلاح! خوش رہیے یاسر بھائی!
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 18، 2021 8:17 صبح
آہ ! گر اک لفظ ہی تمُ سے سنوں
ایک پل کے واسطے ہی دیکھ لوں
بہت اعلیٰ منظوم ترجمہ ۔
یوں تو ماں کی یاد دل سے کبھی نکلی ہی نہیں لیکن ملنے کی خواہش اور بڑھ گئی۔
خوش رہئیے ہمیشہ
آداب عرض ہے۔
گُلِ یاسمیں — مئی 18، 2021 9:01 صبح
جیتے رہئیے خیر و عافیت کے ساتھ آمین
عبدالقدیر 786 — مئی 18، 2021 9:06 صبح
مدرز ڈے کی مناسبت سے نعیم فراشری کی نظم کا جو منظوم ترجمہ ہم۔ ے کیا تھا ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے۔
بہت خوب
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 18، 2021 10:13 صبح
جزاک اللہ عبدالقدیر بھائی!
جاسمن — جولائی 29، 2021 12:36 شام
مدرز ڈے کی مناسبت سے نعیم فراشری کی نظم کا جو منظوم ترجمہ ہم۔ ے کیا تھا ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے۔
رلانے کی نہیں ہو رہی۔
اللہ سب ماؤں کو چاہے اس جہان ہوں یا اس جہان۔۔۔ آسانیاں اور خوشیاں عطا فرمائے۔ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین!
سیما علی — اگست 2، 2021 3:04 شام
رلانے کی نہیں ہو رہی۔
اللہ سب ماؤں کو چاہے اس جہان ہوں یا اس جہان۔۔۔ آسانیاں اور خوشیاں عطا فرمائے۔ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین!
آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA-%D9%BE%D8%B1.116177/