ماہ اپریل کا منتخب شاعر کون ہوگا ؟ - شاعری کا مقابلہ

تفسیر — اپریل 18، 2006 10:30 شام
.
اپریل 2006 میں اردو محفل کا منتخب شاعر کو ن ہے؟
کب : 18اپریل سے15 جون تک
شعر :
عجیب قحط پڑا اب کے سال اشکوں کا
کہ آنکھ تر نہ ہوئی خون میں نہا کر بھی
1۔ہم سب نئے شعراء کی ہمت افزائ اورشاعرانہ تخیل اور تغزل کو فروغ دینے کے لئے یہ پیغام شروع کیا گیا ہے۔
مقابلہ :
شاعرانِ محفل -
یہ شعر اس ماہ کے مقابلہ کے لئے چنا گیا ہے۔ اس دفعہ شعر پر پابندی نہیں ہے۔
ا - اس خیال میں مکمل شعر لکھئے
2۔ یا پہلے مصرع کی جگہ اپنا مصرع بنائے
3۔ یا دوسرے مصرع کی جگہ اپنا مصرع بنائے
4 ۔ یا اوپر لکھی ہو ئی تمام چیزیں کیجئے۔
صلہ : جب شاعر جن لیا جائے گا تو پھر وہ شاعر نیا شعر مصر عہ لکھنے کے لئے پیش کرے گا- جیتنے والے کا نام اس محفل (آپ کی شاعری) میں ایک ٹیبل میں درج کیا جائے گا تاکہ آپ اپنے پوتے اور پوتیوں کو ایک اردو محفل میں اپنا نام فخر سے دیکھائیں۔
شرکان: تمام خواتین اور حضرات اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ چاہیے یہ آپ کا پہلا شعر ہو۔
.
تفسیر — اپریل 19، 2006 8:55 شام
farzooq ahmed نے کہا:
ویسے تفسیر بھائی کیا یہ شعر تبدیل نہیں ہو سکتا
پتا نہیں کیا بات ہے کہ اس شعر کی مجھے سمجھ نہیں آئی ورنہ کبھی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ شعر کی سامجھ نہ آئے سوائے غالب کے
ویسے آپ میری وجہ سے مقابل تو نہیں ہٹا سکتے یہ میں جانتا ہوں
کیوں نہ ایسا ہو کہ سب کی رائے لے لی جائے
کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں

مقابلہ کا شعر سب کی پسند کا ہونا چاہیے تاکہ سب لوگ اس پر لکھ سکھیں ۔
لہذا آپ لوگوں سے درخواست ہے کی اپنی پسند کے شعر جمعہ تک بھیج دیں ۔
ہفتہ کو ووٹنگ کرلیں گے اور اتوار کو رزلٹ۔ پیر سے مقابلہ شروع کردیں گے​
.
ماوراء — اپریل 24، 2006 6:01 شام
تفسیر بھائی، کیا آپ نے آج کے پیر کی بات کی تھی؟؟ ویسے میں کسی کام کی ہوتی تو ضرور کوئی بتاتی۔ :(
زیک — اپریل 24، 2006 8:02 شام
کچھ دیر ہو گئی مگر اس شعر کے بارے میں کیا خیال ہے کہ اس پر مقابلہ کیا جائے:
عجیب قحط پڑا اب کے سال اشکوں کا
کہ آنکھ تر نہ ہوئی خون میں نہا کر بھی
تفسیر — مئی 3، 2006 6:03 صبح
زکریا نے کہا:
کچھ دیر ہو گئی مگر اس شعر کے بارے میں کیا خیال ہے کہ اس پر مقابلہ کیا جائے:
عجیب قحط پڑا اب کے سال اشکوں کا
کہ آنکھ تر نہ ہوئی خون میں نہا کر بھی

میں بھی اس شعر کو پسند کرتا ہوں اگر ایک اور شخص اس کو پسند کرلے تو ہم اس کو منتخب کرلیں گے تا کہ مقابلہ شروع کیا جائے۔
تفسیر
فیصل عظیم فیصل — مئی 3، 2006 6:40 صبح
چلے گا
ماوراء — مئی 3، 2006 2:42 شام
بالکل صیحح ہے!!!
تفسیر — مئی 5، 2006 7:11 شام
عجیب قحط پڑا اب کے سال اشکوں کا
کہ آنکھ تر نہ ہوئی خون میں نہا کر بھی
شاعرانِ محفل -
یہ شعر اس ماہ کے مقابلہ کے لئے چنا گیا ہے۔ اس دفعہ شعر پر پابندی نہیں ہے۔
ا - اس خیال میں مکمل شعر لکھئے
2۔ یا پہلے مصرع کی جگہ اپنا مصرع بنائے
3۔ یا دوسرے مصرع کی جگہ اپنا مصرع بنائے
4 ۔ یا اوپر لکھی ہو ئی تمام چیزیں کیجئے۔
تفسیر — جون 9، 2006 7:44 شام
کیا ہے عشق ہم نے پیاس کو دبا کر بھی
.
شاعروں میں بغیر مقابلہ کے نہیں جینا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔مذاق کرر ہا ہوں - یہ صرف آپ کو مقابلہ کی یاد دلانے کے لے ہے - اس مقابلہ کے اصول کے مطابق ماڈریٹر نہیں مقابلہ کرسکتا۔ تفسیر
مریض دل ہیں ہم مدُت سے مگر
جدا نہ ہوا مرض ، دل کولٹا کر بھی
یہ کیسی کیفیت ہم پہ چھائی ہے
ملا سکون نہیں نمازوں کوادا کر بھی
ہے کیسا انصافِ دنیا کہ عیسیٰ کو
سزا ملی تھی مرُدوں کو جِلا کر بھی
تیرا دل تو ایک سنگِ ممر ہے
جئی رہا ہوں اس احساس کو مٹا کر بھی
نہ ملاجامِ شیریں ان لبوں کا تفسیر
کیا ہے عشق ہم نے پیاس کو دبا کر بھی
.
تفسیر — جون 27، 2006 4:40 شام
جولا ئی کا
پسندہ شاعرکون ہوگا ؟
آپ ۔۔۔ آپ ۔۔۔ یا آپ ؟
جورُکےتو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلےتوجاں سےگزرگے
راہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

کیا آپ بھی فیض کی طرح راہِ یار کا مقام بلند کر سکتے ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%A7%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A8-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D9%86-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7-%D8%9F-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%81.1931/