خاورچودھری — نومبر 20، 2010 5:40 صبح
ایک تم ہو کہ بدلتے ہو ٹھکانے کیا کیا
ایک ہم ہیں کہ سناتے ہیں فسانے کیا کیا
تیرے گیسو ، ترے عارض وہ بدن کی خوش بو
مجھ سے حالات نے چھینا ہے نہ جانے کیا کیا
عمران شناور — نومبر 23، 2010 8:07 صبح
اچھی کاوش ہے خاور صاحب
محمداحمد — نومبر 23، 2010 8:14 صبح
بہت خوب خاور صاحب!
خاورچودھری — نومبر 24، 2010 6:54 صبح
الف عین, سخنور, عمران شناور, محمد وارث, محمداحمد, ناعمہ عزیز
آپ سب کا شکریہ
مغزل — نومبر 24، 2010 8:48 صبح
خاور صاحب فسانہ کو فسانے کر دیتے ۔ ۔
ویسے عمدہ کاوش ہے بہت خوب
خاورچودھری — دسمبر 4، 2010 9:31 صبح
م م مغل صاحب ، شکریہ
ہے ہی فسانے مگر غلط کمپوز ہو گیا ۔
ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں
ایم اے راجا — دسمبر 8، 2010 5:14 شام
بہت خوب خاور صاحب
خاورچودھری — دسمبر 9، 2010 10:07 صبح
شکریہ راجا صاحب