مجھ کو تو ایسا شخص درندہ دکھائی دے

حمید — اکتوبر 26، 2012 2:00 صبح
احباب کی نذر-
اک پھول بھی اگر وہ مسلتا دکھائی دے
مجھ کو تو ایسا شخص درندہ دکھائی دے
لہریں سکون میں ہیں،مسافر مزےمیں ہیں
طوفان جل کی کوکھ میں پلتا دکھائی دے
شرم و حیا درست مگر مجھ کو دیکھ کر
شانوں سے کیوں دُپٹؔہ سرکتادکھائی دے
دیمک زدہ ملا تھا سلیماں کو بھی عصا
دل مانتا نہیں جو سہارا دکھائی دے
کاٹو کوئی درخت، جلا دو یہ گھاس تم
تاریک جنگلوں میں بھی ر ستہ دکھائی دے
ہتھیار گر حمید نہ ڈالیں تو کیا کریں
دشمن کی صف میں جب وہ شناسا دکھائی دے
الف عین — اکتوبر 26، 2012 4:22 صبح
غزل تو چھی ہے لیکن تاریخ اسلام سے واقفیت میں کمی محسوس ہوئی۔ عسا اگر موسیٰ کی بھی کہی جاتی تو بھی’دیمک زدہ‘ حاصل نہیں ہوئی تھی!!!
حمید — اکتوبر 26، 2012 4:50 صبح
آپ کے شاگرد اتنے بھی نالائق نہیں استاد محترم- حضرت سلیمان ہی کا عصا دیمک زدہ نکلا تھا-
حمید — اکتوبر 26، 2012 6:36 صبح
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے
الف عین — اکتوبر 27، 2012 7:13 صبح
اوہو، ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔۔۔ عصا تو سلیمان کا تھا، لیکن وہ اس حالت میں ملا نہیں تھا۔
حمید — اکتوبر 27، 2012 7:21 صبح
دیمک زدہ ملا تھا سلیماں کا بھی عصا
شاید یہ بہتر ہو-
حمید — اکتوبر 27، 2012 7:24 صبح
دیمک زدہ ان کی وفات کے بعد ملا تھا- ملا تھا کا مفہوم "پایا گیا-"

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%B4%D8%AE%D8%B5-%D8%AF%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%81-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%DB%92.55741/