زبیر مرزا — ستمبر 15، 2012 2:53 شام
مجھے نوحہ گر کی تلاش
جولکھے کہ شہرپناہ میں
میں ہوں سوختہ تن
جلی ہوئی میری لاش ہے
مجھے نوحہ گرکی تلاش ہے
جومیرے غم رقم کرے
جوشمارمیرے الم کرے
وہ لکھے ایسے لفظ جو
حاکم وقت کے ضمیر کو
کارخانہ دار و امیر کو
سرٍ دار لا کے کھڑا کرے
اُن کےسرتن سےجدا کرے
مجھے نوحہ گرکی تلاش ہے
سید زبیر — ستمبر 15، 2012 2:55 شام
بہت خوبصورت انداز ہے عزیزم زحال مرزا ! ماشا اللہ
الشفاء — ستمبر 15، 2012 3:04 شام
واہ۔۔۔ بھڑکتے موضوع کو سلگتے الفاظ سے خوب باندھا ہے آپ نے۔۔۔
ناعمہ عزیز — ستمبر 15، 2012 3:27 شام
ارے واہ زحال لالہ آپ نے بھی شاعری شروع کر دی ؟

مہ جبین — ستمبر 15، 2012 3:39 شام
ماشاءاللہ
زحال مرزا !
نظم کا خیال بہت درد بھرا ہے
عاطف بٹ — ستمبر 15، 2012 3:47 شام
واہ، بہت عمدہ زحال بھائی۔
نایاب — ستمبر 15، 2012 4:35 شام
مجھے نوحہ گر کی تلاش
جولکھے کہ شہرپناہ میں
میں ہوں سوختہ تن
جلی ہوئی میری لاش ہے
مجھے نوحہ گرکی تلاش ہے
جومیرے غم رقم کرے
جوشمارمیرے الم کرے
وہ لکھے ایسے لفظ جو
حاکم وقت کے ضمیر کو
کارخانہ دار و امیر کو
سرٍ دار لا کے کھڑا کرے
اُن کےسرتن سےجدا کرے
مجھے نوحہ گرکی تلاش ہے
نوحہ دل درد مند کا
بہت خوب زحال بھائی
الف عین — ستمبر 16، 2012 2:33 صبح
ماشاء اللہ اتنی اچھی نظم میں کچھ مصرع بغیر بحر کے اچھے نہیں لگتے۔
میں ہوں سوختہ تن
جومیرے غم رقم کرے
وہ لکھے ایسے لفظ جو
حاکم وقت کے ضمیر کو
کارخانہ دار و امیر کو
اُن کےسرتن سےجدا کرے
حسیب نذیر گِل — ستمبر 16، 2012 4:06 صبح
ماشااللہ۔زحال بھائی۔کمال کر دیا آپ نے