مجھے یہ طعنہ دیا ڈوبتے ستارے نے

احمد وصال — جنوری 25، 2019 12:42 شام
مجھے یہ طعنہ دیا ڈوبتے ستارے نے
ڈرا دیا ہے تجھے ایک ہی خسارے نے
خلوص، صبر، دعا ، اور سامنے امّید
یہ رستہ مجھ کو دکھایا ہے استخارے نے
اداسی ، خاک بہ سر، چاک دامنی، رونا
ہمارا حال کیا ہے یہ ایک پیارے نے
خسارے جھیل کے پھر بھی خسارہ باقی ہے
حساب مجھ کو بتایا ہے گوشوارے نے
چھُڑا کے ہاتھ مجھے ڈوبنے کو چھوڑا جب
مجھے کنارے لگایا تھا ایک دھارے نے
اگر نہیں ہے وہ تو دیکھ میں تمھارا ہوں
یہی دلاسہ دیا یاد کے سہارے نے
وصال سینے سے یہ دل کہاں ہے چل نکلا!
بتایا کیا ہے اسے آنکھ کے اشارے نے ؟
احمد وصال
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 25، 2019 1:17 شام
بہت شاندار ،
عمدہ غزل ہے ۔
احمد وصال — جنوری 25، 2019 4:09 شام
بہت شاندار ،
عمدہ غزل ہے ۔
بہت محبت اور دعائیں جناب۔۔
حاجی حنیف — جنوری 26، 2019 2:24 صبح
بلے بلے
احمد وصال — جنوری 28، 2019 5:35 صبح
بہت محبت اور دعائیں
الف عین — جنوری 29، 2019 6:12 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
احمد وصال — جنوری 30، 2019 7:05 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
بہت محبت اور دعائیں سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B7%D8%B9%D9%86%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%88%D9%88%D8%A8%D8%AA%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%86%DB%92.105197/