محبت مری زندگانی میں ہے

عاطف ملک — جولائی 3، 2017 11:14 صبح
محبت مری زندگانی میں ہے
جگر آگ میں، آنکھ پانی میں ہے
وہ ہر اک سے کرتا ہے ہنس کر کلام
مرے دل ! تُو کس خوش گمانی میں ہے؟
یہی ہے بہت میری تسکین کو
مرا ذکر ان کی کہانی میں ہے
دیارِ محبت کا اک راہرو
غمِ ہجر کی راجدھانی میں ہے
زباں کاٹ دیتے ہیں حق گو کی یاں
بتا زور کتنا جوانی میں ہے؟
نہیں لطف عجز و اطاعت میں کچھ
مزہ ہی مزہ سر گرانی میں ہے!
بلا وجہ ہم سے نہ عاطف الجھ
طبیعت ہماری روانی میں ہے!
اسد اقبال — جولائی 4، 2017 7:40 صبح
بہت عمدہ لاااااااااااااااااا جواب عاطف ملک صاحب
لئیق احمد — جولائی 4، 2017 8:18 صبح
زبردست ۔ سنجیدہ کمال ہے۔
وہ ہر اک سے کرتا ہے ہنس کر کلام
مرے دل ! تُو کس خوش گمانی میں ہے؟
مجھے ایک شعر یاد آگیا
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
یہ تبسم یہ تکلم تری عادت تو نہیں
عاطف ملک — جولائی 4، 2017 11:18 صبح
بہت عمدہ لاااااااااااااااااا جواب عاطف ملک صاحب
آپ کا حسنِ ظن ہے ورنہ میں اس قابل کہاں!!!
سلامت رہیں :)
زبردست ۔ سنجیدہ کمال ہے۔
مجھے ایک شعر یاد آگیا
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
یہ تبسم یہ تکلم تری عادت تو نہیں
مجھے بھی کچھ یاد آیا!!!
"سنجیدہ کمال" سے "غالب کمال" کی یاد آ گئی۔
نہ جانے کہاں غائب ہیں آج کل :-(
تعریف کیلیے شکریہ لئیق بھائی :)
ظہیراحمدظہیر — جولائی 9، 2017 3:28 شام
بہت خوب!! اچھی غزل ہے ، عاطف ملک !
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
الف عین — جولائی 10، 2017 7:08 صبح
واہ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.97408/