محبت۔۔۔۔ ایک نظم ۔۔ محمد ذیشان نصر

متلاشی — اپریل 13، 2020 6:09 شام
میری ایک تازہ نظم
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ تم جذبوں کی حدّت کو
حیا کے پاک آنچل میں
چھپا کر بس سلگتی ہو
تڑپتی ہو، مچلتی ہو
زباں اظہار سے قاصر
ہزاروں وسوسے دل میں
لیے چھپ چھپ کےروتی ہو
تمہاری روح کے اس کرب سے واقف ہے دل میرا
اذیّت، بے یقینی، خوف کے یہ جاں گسل لمحے
مرے دل پر بھی بیتے ہیں
مرے گھاؤ بھی تازہ ہیں
مجھے ڈر ہے
تذبذب اور تیقّن کی
کشاکش میں الجھ کر تم
کہیں پھر دیر ناں کر دو
کہ یہ جیتی ہوئی بازی
کہیں تم زیر نہ کر دو
تمہیں معلوم ہے جاناں!
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ میں اظہار کرتا ہوں
پہ تم کہنے سے ڈرتی ہو!
ذیشان نصر
13 اپریل 2020
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 13، 2020 6:31 شام
پیاری نظم ہے۔ داد قبول فرمائیے
کہیں پھر دیر ناں کر دو
یہاں ’’نہ‘‘ کا محل ہے
شاہ میر ریحان — اپریل 13، 2020 6:46 شام
میری ایک تازہ نظم
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ تم جذبوں کی حدّت کو
حیا کے پاک آنچل میں
چھپا کر بس سلگتی ہو
تڑپتی ہو، مچلتی ہو
زباں اظہار سے قاصر
ہزاروں وسوسے دل میں
لیے چھپ چھپ کےروتی ہو
تمہاری روح کے اس کرب سے واقف ہے دل میرا
اذیّت، بے یقینی، خوف کے یہ جاں گسل لمحے
مرے دل پر بھی بیتے ہیں
مرے گھاؤ بھی تازہ ہیں
مجھے ڈر ہے
تذبذب اور تیقّن کی
کشاکش میں الجھ کر تم
کہیں پھر دیر ناں کر دو
کہ یہ جیتی ہوئی بازی
کہیں تم زیر نہ کر دو
تمہیں معلوم ہے جاناں!
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ میں اظہار کرتا ہوں
پہ تم کہنے سے ڈرتی ہو!
ذیشان نصر
13 اپریل 2020
بہت خوب
شاہ میر ریحان — اپریل 13، 2020 6:46 شام
پر تم کہنے سے ڈرتی ہو۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 13، 2020 6:56 شام
پر تم کہنے سے ڈرتی ہو۔
نظم میں مفاعیلن کی تکرار ہے۔ آپ کی صلاح اس وزن میں نہیں ہے
شاہ میر ریحان — اپریل 13، 2020 6:58 شام
نظم میں مفاعیلن کی تکرار ہے۔ آپ کی صلاح اس وزن میں نہیں ہے
اچھا جی
شاہ میر ریحان — اپریل 13، 2020 7:02 شام
تو پھر یہ ” پہ “ کا مطلب بھی سمجھا دیجئے کہ یہاں پہ سے کیا مطلب لیا جائیے گا
شاہ میر ریحان — اپریل 13، 2020 7:05 شام
میرا خیال ھے پھر پہ کی جگہ یہ کردیں یاشائد یہ کہنے کی کوشش کی گئی لیکن املا نے کوشش کامیاب نہ ھونے دی
محمد تابش صدیقی — اپریل 13، 2020 7:07 شام
تو پھر یہ ” پہ “ کا مطلب بھی سمجھا دیجئے کہ یہاں پہ سے کیا مطلب لیا جائیے گا
یہاں پَہ کا مطلب مگر ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 13، 2020 7:38 شام
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
ایک ہی شعر میں پر اور پہ استعمال ہوئے ہیں۔
جاسم محمد — اپریل 13، 2020 8:05 شام
میری ایک تازہ نظم
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ تم جذبوں کی حدّت کو
حیا کے پاک آنچل میں
چھپا کر بس سلگتی ہو
تڑپتی ہو، مچلتی ہو
زباں اظہار سے قاصر
ہزاروں وسوسے دل میں
لیے چھپ چھپ کےروتی ہو
تمہاری روح کے اس کرب سے واقف ہے دل میرا
اذیّت، بے یقینی، خوف کے یہ جاں گسل لمحے
مرے دل پر بھی بیتے ہیں
مرے گھاؤ بھی تازہ ہیں
مجھے ڈر ہے
تذبذب اور تیقّن کی
کشاکش میں الجھ کر تم
کہیں پھر دیر ناں کر دو
کہ یہ جیتی ہوئی بازی
کہیں تم زیر نہ کر دو
تمہیں معلوم ہے جاناں!
محبت میں بھی کرتا ہوں
محبت تم بھی کرتی ہو
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ میں اظہار کرتا ہوں
پہ تم کہنے سے ڈرتی ہو!
ذیشان نصر
13 اپریل 2020
لاک ڈاؤن کے دوران شاعری۔ واہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 16، 2020 11:30 صبح
ماشاءاللہ بھئی بہت خوب! غزلوں کے درمیان عمدہ نظم بہت پرلطف محسوس ہوتی ہے۔ ابتداء سے اختتام تک آپ نے تسلسل کو خوب نبھایا ہے۔ بہت اچھے۔
ایک جگہ پر زبان اٹکی۔
مرے گھاؤ بھی تازہ ہیں
یہاں آپ گھاؤ کو ’’گھا+او‘‘ کو تقطیع کررہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ درست تلفظ نہیں، اسے ’’گھا+وْ‘‘ تقطیع کیا جاتا ہے۔
ترتیب بدل دیں تو یہ معمولی سقم بھی دور ہوجائے گا۔ مثلاً
’’مرے بھی گھاؤ تازہ ہیں‘‘
متلاشی — اپریل 16، 2020 1:23 شام
ماشاءاللہ بھئی بہت خوب! غزلوں کے درمیان عمدہ نظم بہت پرلطف محسوس ہوتی ہے۔ ابتداء سے اختتام تک آپ نے تسلسل کو خوب نبھایا ہے۔ بہت اچھے۔
ایک جگہ پر زبان اٹکی۔
یہاں آپ گھاؤ کو ’’گھا+او‘‘ کو تقطیع کررہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ درست تلفظ نہیں، اسے ’’گھا+وْ‘‘ تقطیع کیا جاتا ہے۔
ترتیب بدل دیں تو یہ معمولی سقم بھی دور ہوجائے گا۔ مثلاً
’’مرے بھی گھاؤ تازہ ہیں‘‘
شکریہ جناب ۔ باقی اساتذہ کیا فرماتے ہیں لفظ گھاؤ کے وزن کے بارے محمد خلیل الرحمٰن
ظہیراحمدظہیر — اپریل 21، 2020 10:31 شام
ماشاءاللہ بھئی بہت خوب! غزلوں کے درمیان عمدہ نظم بہت پرلطف محسوس ہوتی ہے۔ ابتداء سے اختتام تک آپ نے تسلسل کو خوب نبھایا ہے۔ بہت اچھے۔
ایک جگہ پر زبان اٹکی۔
یہاں آپ گھاؤ کو ’’گھا+او‘‘ کو تقطیع کررہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ درست تلفظ نہیں، اسے ’’گھا+وْ‘‘ تقطیع کیا جاتا ہے۔
ترتیب بدل دیں تو یہ معمولی سقم بھی دور ہوجائے گا۔ مثلاً
’’مرے بھی گھاؤ تازہ ہیں‘‘
راحل بھائی ، آپ درست کہتے ہیں کہ گھاؤ کو اساتذہ نے بروزن فاع ہی باندھا ہے ۔ (عموماً "ؤ" کو ہر جگہ یک حرفی ہی باندھا گیاہے ) ۔ لیکن میرے خیال میں گھاؤ کو ضرورتاً بروزن فعلن بھی باندھا جاسکتا ہے ۔ لفظ " داؤ" کو دونوں اوزان پر باندھا جاتا ہے سو گھاؤ کے معاملے میں اس پر قیاس کرلینا چاہئے ۔ شاعر کے لئے جتنی آسانی اور آزادی ہو اتنا ہی اظہارِ فکر کے لئے بہتر ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B0%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86-%D9%86%D8%B5%D8%B1.111375/