شاکرالقادری — جون 3، 2007 9:11 شام
ابوشامل — جون 5، 2007 12:35 شام
سبحان اللہ شاکر صاحب! ایک تو نظم بہت اچھی ہے دوسرا آپ نے خطاطی میں بھی کمال دکھایا ہے۔ ماشاء اللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔ آخری شعر جو فارسی میں ہے اس کا مطلب بھی بتا دیں تو فارسی سے نابلد کئی افراد کا بھی بھلا ہو جائے گا۔
ویسے میرے پیش کردہ یہ دو پوسٹر بھی دیکھ لیں:
دو پوسٹر!!
شاکرالقادری — جون 5، 2007 8:15 شام
برادر مکرم ابو شامل
پسندیدگی کا شکریہ
آخری شعر کا مفہوم کچھ اسطرح ہے
"تمارے دم سے بے جان مٹی زندہ و جاوید ہو گئی اور اھل اسلام کا چہرہ تمہارے جوہر سے روشن و تابناک ہو گیا"
آپ کے دونوں بینر لاجواب ہیں اور میں نے انہیں محفوظ بھی کر لیا ہے
کیا
بلغ العلے بکمالہ والے بینر میں استعمال کی گئی بیک گرائونڈ مل سکتی ہے بغیر کسی تحریر کے؟؟
شاکرالقادری — جون 5، 2007 8:21 شام
اس نظم میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کا ایک حصہ "سلطاناالنصیر" کا استعمال کیا گیا ہے
جو قرآن کریم میں موجود ہے
"رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق و جعلی من لدنک سلطنا النصیرا"
سلطان النصیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی قوت جس سے فتح و نصرت حاصل ہو
ابوشامل — جون 6، 2007 5:44 صبح
جی ہاں شاکر بھائی! میرے پاس موجود ہے اور میں آپ کو کل بھیج دوں گا۔ انشاء اللہ !
الف نظامی — جون 6، 2007 6:32 صبح
آفرین ، بہت خوب ، کیا بات ہے۔
آفرین۔
جزاک اللہ۔
ساجداقبال — جون 6، 2007 9:03 صبح
سبحان اللہ شاکر بھائی۔ بہت اچھی نظم ہے اور خطاطی بھی بہت خوب۔ محسن پاکستان کو تو ہم بھول ہی چکے ہیں۔
شاکرالقادری — ستمبر 18، 2014 10:49 شام