محفل کا ترانہ ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے یہ بحر وفا کا ہے سنگم
گل بار یہاں کا ہے موسم
احساس کے نازک محلوں پر
لہراتا یہاں کا ہے پرچم ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے ہر بات مثالی ہے اپنی
ہر بات نرالی ہے اپنی
ہر دن ہے مثال عید یہاں
ہر رات دیوالی ہے اپنی ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے ہم سبھی کو عزت دیتے ہیں
اور سب سے محبت لیتے ہیں
دلجوئی ہمارا مسلک ہے
پیغام اخوت دیتے ہیں ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے ہم راگ بھی ہیں ہم رنگ بھی ہیں
ہم ساز بھی ہم آہنگ بھی ہیں
خوشبو کی طرح حساس ہیں ہم
پھولوں کی طرح خوش رنگ بھی ہیں ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے الفاظ کے جادوگر ہم میں
شعراءِ حسیں پیکر ہم میں
ہم میں ہیں قتیل غالب بھی
نباضِ سخن جوہر ہم میں ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے تکنیک و ادب کی ہولی میں
خطاطی کی رنگولی میں
انگنت تحائف کے ڈبے
ڈالے اردو کی جھولی میں ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے اقدار نہ گرنے دینگے ہم
افکار نہ مٹنے دینگے ہم
تکنیک کی آندھی میں اپنی
اردو کو نہ اڑنے دینگے ہم ہم اردو ویب کے شیدائی
محفل کی شمع کے پروانے
-- ابن سعید
محمد وارث — جولائی 7، 2009 5:20 شام
واہ واہ واہ، لاجواب! کیا خوبصورت ترانہ ہے سعود صاحب کیا خوبصورت اور رواں شاعری ہے۔ اردو محفل سے اس محبت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیں!
سارہ خان — جولائی 7، 2009 5:25 شام
بہت زبردست ۔۔۔۔
نایاب — جولائی 7، 2009 5:34 شام
السلام علیکم
محترم ابن سعید جی
سدا خوش رہیں آمین
ماشااللہ
آپ کے حساس اور محبت بھرے دل کے یہ جذبات
آپ کی شخصیت کے آئینہ دار
داد سے بالاتر ہے
آپ کا لکھا یہ ترانہ ۔
" ایسی سعادت ہر کسی کے نصیب میں کہاں " ہم سبھی کو عزت دیتے ہیں
اور سب سے محبت لیتے ہیں
دلجوئی ہمارا مسلک ہے
پیغام اخوت دیتے ہیں
نایاب
زین — جولائی 7، 2009 5:42 شام
عسکری — جولائی 7، 2009 5:47 شام
اب کچھ کہنا باقی نہین رہا
الف عین — جولائی 7، 2009 6:03 شام
واہ کیا بات ہے سعود۔ لیکن اس کو سالگرہ والی فورم میں ہونا چاہیے تھا نا!! وہاں سجتا یہ دھاگا، بلکہ تمہارا ترانہ، جہاں سٹیج پر سارے پروگرام کئے جا رہے ہیں، وہاں اس جشن کا اختتام اسی ترانے پر ہونا چاہئے۔
علی گڑھ کے ترانے کی دھُن پر اس کو گایا جا سکتا ہے۔
ابن سعید — جولائی 7، 2009 6:18 شام
سبھی احباب کا فرداً فرداً شکریہ آپ سب کی محبت اور نوازش ہے اور بس۔ چاچو ابھی آپ کے توجہ دلانے پر غور کیا کہ اس کی دھن علیگڑہ یونیورسٹی کے ترانے سے خوب ملتی ہے۔
علی ذاکر — جولائی 7، 2009 6:26 شام
بہت خوب بہت اچھا لکھا ہے ! مع السلام
محمدصابر — جولائی 8، 2009 4:31 صبح
بہت خوب سعود۔
سلیمان جاذب — جولائی 8، 2009 5:41 صبح
ماشا ا للہ ابن سعید بھائی جان بہت خوب بہت ہی خوب اور بہت بہت ہی خوب
ابن سعید — جولائی 8، 2009 8:44 صبح
سبھی احباب کا ایک بار پھر شکریہ جنھوں نے اس ٹوٹی پھوٹی تک بندی کو سراہا۔ چاچو اس کے زمرے کے حوالے سے آپ کی بات دل کو لگتی ہے۔ دیکھئے وارث بھائی یا دیگر ناظمین کو مناسب لگا تو وہاں منتقل کر دیں گے۔
ملائکہ — جولائی 8، 2009 9:21 صبح
واہ زبردست
شمشاد — جولائی 8، 2009 9:23 صبح
بہت ہی اچھے سعود بھائی۔ بہت ہی خوبصورت ترانہ لکھا ہے آپ نے۔
ابن سعید — جولائی 8، 2009 5:40 شام
ایک بار پھر شکریہ سبھی احباب کا۔
حسن نظامی — جولائی 8، 2009 6:18 شام
بہت خوب لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد امین — جولائی 8، 2009 8:25 شام
واہ واہ کیا نغمگی ہے۔۔۔ شاباش سعود۔۔۔
عمران شناور — جولائی 9، 2009 5:59 صبح
بہت زبردست ابن سعید صاحب۔ بہت خوب
مغزل — جولائی 9، 2009 6:29 صبح
خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیالکھیے
ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہیے۔ خیر دوبارہ پڑھتا ہوں۔
ابن سعید — جولائی 9، 2009 6:12 شام
نوازش، مہربانی، شکریہ سبھی احباب کا۔ آپ لوگوں نے جس انداز میں اپنی محبتوں سے نوازا ہے اسے دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ کہ اس کی طوالت کے لئے مجھے چند گھنٹے مزید صرف کرنا چاہئے تھا۔ اور مغل بھائی کس انداز میں شاباشی دے گئے؟ اب تو مجھے اپنی پیٹھ خود ہی ٹھونک لینی چاہئے۔