محنت کش

نامی گرامی — دسمبر 12، 2015 4:22 شام
ایک شعر پیش خدمت ہے،
ہمت کر کے بھوک کا مارا گھر سے نکل ہی آیا
باہر اس نے دولت مند کو بھی بھوکا ہی پایا!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D9%86%D8%AA-%DA%A9%D8%B4.86350/