محمداحمد — جنوری 10، 2015 7:45 صبح
جوئے شِیر (نظم)
دن بھر رہا
تیشہ بکف مزدور پر
اک ٹِن1
نہ سوکھے دودھ کا
گھر لا سکا۔
۔۔۔۔۔
محمد احمدؔ
1. Tin
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 21، 2015 8:45 صبح
جوئے شِیر (نظم)
دن بھر رہا
تیشہ بکف مزدور پر
اک ٹِن1
نہ سوکھے دودھ کا
گھر لا سکا۔
۔۔۔۔۔
محمد احمدؔ
1. Tin
واہ بھائی محمد احمد صاحب۔ اتنے کم لفظوں میں اتنی بڑی بات۔ بہت عمدہ۔
محمداحمد — جنوری 21، 2015 9:04 صبح
واہ بھائی محمد احمد صاحب۔ اتنے کم لفظوں میں اتنی بڑی بات۔ بہت عمدہ۔
بہت شکریہ
محمد حفیظ الرحمٰن صاحب!
ممنون ہوں۔
انیس الرحمن — جنوری 21، 2015 10:12 صبح
بھائی ٹن کا دور گیا۔۔ اب تو پاؤچ آتا ہے یا گتے کا ڈبا۔۔۔

محمداحمد — جنوری 21، 2015 10:22 صبح
بھائی ٹن کا دور گیا۔۔ اب تو پاؤچ آتا ہے یا گتے کا ڈبا۔۔۔
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں!
محمد بلال اعظم — جنوری 26، 2015 2:12 شام
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں!
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں
انساں جاناں

محمد بلال اعظم — جنوری 26، 2015 2:18 شام
واہ واہ واہ
مختصر مگر پُر تاثیر نظم
بہت سی داد
محمداحمد — جنوری 28، 2015 1:21 شام
واہ واہ واہ
مختصر مگر پُر تاثیر نظم
بہت سی داد
بہت شکریہ بلال!
خوش رہیے۔
اوشو — جنوری 28، 2015 1:45 شام
ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات
عمدہ خیال آفرینی
محمد احمد جی
داد قبول فرمائیے۔
عمر سیف — جنوری 29، 2015 7:06 شام
خوب کہا ۔۔
عینی مروت — جنوری 29، 2015 9:26 شام
جوئے شِیر (نظم)
دن بھر رہا
تیشہ بکف مزدور پر
اک ٹِن1
نہ سوکھے دودھ کا
گھر لا سکا۔
۔۔۔۔۔
محمد احمدؔ
1. Tin
سادگی اور اختصار کیساتھ بہت بڑی بات کہہ دی !
بہت عمدہ !!
مقدس — جنوری 29، 2015 10:39 شام
واہ واہ احمد بهیا

نظام الدین — جنوری 30، 2015 9:39 صبح
بہت عمدہ
جاسمن — جنوری 30، 2015 10:14 صبح
منی سی نظم میں ایک تلخ حقیقت. عنوان زبردست هے.
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 4، 2016 5:04 صبح
دن بھر رہا
تیشہ بکف مزدور پر
اک ٹِن
نہ سوکھے دودھ کا
گھر لا سکا !
واہ ! بہت خوب!! اچھی نظم ہے !! مختصر لیکن پُر اثر!
مجھ کو منظور ہے وہ سلسلہ٫ سنگِ گراں
کوہکن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 4، 2016 6:48 صبح
نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے !!
مزدور کے بچوں کو مزدور ہی رہنا ہے
بہت زبردست احمد بھا ئی ۔۔ اتنے کم لفظوں میں اتنی بڑی بات ۔۔ ڈھیروں داد
شیزان — اکتوبر 4، 2016 6:48 صبح
واہ۔ کیا انداز بیاں ہے
خوب احمد بھائی
عبدالقیوم چوہدری — اکتوبر 4، 2016 11:43 صبح
مختصر اور خوبصورت
محمداحمد — اکتوبر 6، 2016 7:36 صبح
ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات
عمدہ خیال آفرینی
محمد احمد جی
داد قبول فرمائیے۔
سادگی اور اختصار کیساتھ بہت بڑی بات کہہ دی !
بہت عمدہ !!
واہ واہ احمد بهیا
منی سی نظم میں ایک تلخ حقیقت. عنوان زبردست هے.
دن بھر رہا
تیشہ بکف مزدور پر
اک ٹِن
نہ سوکھے دودھ کا
گھر لا سکا !
واہ ! بہت خوب!! اچھی نظم ہے !! مختصر لیکن پُر اثر!
مجھ کو منظور ہے وہ سلسلہ٫ سنگِ گراں
کوہکن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے
نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے !!
مزدور کے بچوں کو مزدور ہی رہنا ہے
بہت زبردست احمد بھا ئی ۔۔ اتنے کم لفظوں میں اتنی بڑی بات ۔۔ ڈھیروں داد
واہ۔ کیا انداز بیاں ہے
خوب احمد بھائی
تمام احباب کی حوصلہ افزائی اور محبت کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
اکمل زیدی — اکتوبر 6، 2016 7:45 صبح