مری حیا ہے یہ سبز پرچم !

جیا راؤ — اگست 10، 2008 3:42 شام
سروں پہ سایہ فگن کرم کی عجب ردا ہے یہ سبز پرچم
خدایا اس کو بلند رکھنا مری حیا ہے یہ سبز پرچم
بلک رہے تھے اسی کی خاطر، جو یہ ملا تو سکوں ملا ہے
مرے ہی لوگوں کے دل سے نکلی ہوئی صدا ہے یہ سبز پرچم
یہ دل جو مانگے میں جان بھی دوں، وفا جو مانگے تو پیار بھی دوں
دیارِ وحشی میں جانتی ہوں، مری بقا ہے یہ سبز پرچم
سکون و عزت، وفا و الفت، سبھی دیا تھا ہمیں تو اس نے
گنوا کے اب ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیوں خفا ہے یہ سبز پرچم
جو جینا ہے تو اسی کے دم سے، جو جان دیں تو اسی کی خاطر
مری دعا ہے، مری بقا ہے، مری وفا ہے یہ سبز پرچم
ہمارے جرموں کو ڈھکتے ڈھکتے بہت سے داغوں سے اٹ گیا ہے
ہمارے جرموں کی پردہ پوشی فقط جیا، ہے یہ سبز پرچم
ماوراء — اگست 10، 2008 7:46 شام
بہت خوب جیا۔ ہر شعر ہی بہت زبردست ہے۔
:khoobsurat:
چاند بابو — اگست 10، 2008 7:57 شام
بہت خوب جیا، قابلِ تحسین ہے۔
شمشاد — اگست 10، 2008 8:36 شام
بہت شکریہ جیا، بہت اچھی شاعری ہے۔
عمار ابن ضیا — اگست 11، 2008 7:41 صبح
بہت خوب جیا۔۔۔ خوبصورت کلام پر داد قبول ہو۔
دوست — اگست 11، 2008 8:11 صبح
بہت اچھے :)
محسن حجازی — اگست 11، 2008 11:59 صبح
نابلد باب حرمت سے یہ حواریان ہوس و زر کیا جانیں
کیا شے وقار و توقیر و تفاخر اور کیا ہے یہ پرچم
خاتون نظم میں اشعار کی تعداد جفت ہے سو ہم نے طاق کر دی کہ فقط اسی کام میں ہم طاق ہیں باقی سارے کام بالائے طاق رکھتے ہیں جو بچ رہیں ان کے واسطے طاق نسیاں رکھ چھوڑا ہے۔ :grin:
لیجئے چاکلیٹ کی آئس کریم آ گئی اب ہم اس سے دل بہلاتے ہیں۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے۔
نہیں آئس کریم نہیں نظم کی بات کر رہے ہیں :grin: :grin:
کہ چاکلیٹ ہم چھوڑتے نہیں۔۔۔
ابوشامل — اگست 11، 2008 12:12 شام
جیا ہمیشہ کی طرح آپ کی ایک اور بہت کی حسین اور دل کو چھو لینے والی تخلیق ہے۔ اللہ آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارے۔ آمین
زھرا علوی — اگست 11، 2008 12:31 شام
جیا کمال غزل ہے ۔۔۔۔
بہت بہت بہت اچھی لگی۔۔۔۔:):)
بہت داد قبول کرو۔۔۔۔۔:):)
زھرا علوی — اگست 11، 2008 12:34 شام
نابلد باب حرمت سے یہ حواریان ہوس و زر کیا جانیں
کیا شے وقار و توقیر و تفاخر اور کیا ہے یہ پرچم
خاتون نظم میں اشعار کی تعداد جفت ہے سو ہم نے طاق کر دی کہ فقط اسی کام میں ہم طاق ہیں باقی سارے کام بالائے طاق رکھتے ہیں جو بچ رہیں ان کے واسطے طاق نسیاں رکھ چھوڑا ہے۔ :grin:
لیجئے چاکلیٹ کی آئس کریم آ گئی اب ہم اس سے دل بہلاتے ہیں۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے۔
نہیں آئس کریم نہیں نظم کی بات کر رہے ہیں :grin: :grin:
کہ چاکلیٹ ہم چھوڑتے نہیں۔۔۔

میرے خیال میں محسن صاحب جیا کی غزل میں اشعار کی تعداد ابھی بھی جفت ہی رہے گی۔۔۔۔:grin:
محسن حجازی — اگست 11، 2008 12:51 شام
کوئی بات نہیں جفت و جفا ہی سہی :grin:
فرخ منظور — اگست 11، 2008 1:20 شام
اچھا کلام ہے - بہت شکریہ جیا راؤ!
جیا راؤ — اگست 12، 2008 6:43 شام
بہت خوب جیا۔ ہر شعر ہی بہت زبردست ہے۔
:khoobsurat:

شکریہ ماوراء آپ کو یہاں دیکھ کر اچھا لگا۔:)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 6:51 شام
بہت خوب جیا، قابلِ تحسین ہے۔

شکریہ جناب:)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 6:54 شام
بہت شکریہ جیا، بہت اچھی شاعری ہے۔

حوصلہ افزائی کا شکریہ :)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 6:55 شام
بہت خوب جیا۔۔۔ خوبصورت کلام پر داد قبول ہو۔

شکریہ عمار:)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 6:56 شام

بہت شکریہ:)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 7:02 شام
نابلد باب حرمت سے یہ حواریان ہوس و زر کیا جانیں
کیا شے وقار و توقیر و تفاخر اور کیا ہے یہ پرچم
خاتون نظم میں اشعار کی تعداد جفت ہے سو ہم نے طاق کر دی کہ فقط اسی کام میں ہم طاق ہیں باقی سارے کام بالائے طاق رکھتے ہیں جو بچ رہیں ان کے واسطے طاق نسیاں رکھ چھوڑا ہے۔ :grin:
لیجئے چاکلیٹ کی آئس کریم آ گئی اب ہم اس سے دل بہلاتے ہیں۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے۔
نہیں آئس کریم نہیں نظم کی بات کر رہے ہیں :grin: :grin:
کہ چاکلیٹ ہم چھوڑتے نہیں۔۔۔

غزل میں اشعار کی تعداد طاق کے بجائے جفت ہے، یہ ادراک ہمیں غزل "لکھوانے" کے ایک سال بعد ہوا۔:(
مگر آپ نے تو ہماری غزل کا ردیف ہی آدھا کر دیا۔:eek:
چاکلیٹ نہیں چھوڑتے؟ چھوڑتے کیا ہیں؟ :)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 7:03 شام
جیا ہمیشہ کی طرح آپ کی ایک اور بہت کی حسین اور دل کو چھو لینے والی تخلیق ہے۔ اللہ آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارے۔ آمین

بہت شکریہ ابو شامل جی اس ہمت افزائی کا۔:)
جیا راؤ — اگست 12، 2008 7:05 شام
جیا کمال غزل ہے ۔۔۔۔
بہت بہت بہت اچھی لگی۔۔۔۔:):)
بہت داد قبول کرو۔۔۔۔۔:):)

بہت شکریہ زہرا:)
خوش رہئیے ہمیشہ:)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B3%D8%A8%D8%B2-%D9%BE%D8%B1%DA%86%D9%85.14340/