مری حیاتِ گزشتہ کا ماحصل شاید

امان زرگر — دسمبر 24، 2018 7:44 شام
۔۔۔۔
مری حیاتِ گزشتہ کا ماحصل شاید
گزر گیا ہے وہ صدیوں سا ایک پل شاید
تمہارے آنے کی مجھ کو خبر نہ ہو پائی
میں اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا کل شاید
توجہ حسن سے تیرے ہٹے تو کچھ بولوں
ابھی تو سانس بھی لینے سے ہو خلل شاید
جو تجھ کو راہ میں درپیش ہو خطر کوئی
یہ میرا ساتھ ہو مشکل کا ایک حل شاید
یوں مجھ کو آج کنارے پہ دیکھ کر تنہا
ندی میں ہوں گے پریشاں سبھی کنول شاید
طویل عمر اگرچہ نہ کام آ پائی
سنوار دے گی مراحل سبھی اجل شاید
جوان خون جو ہلچل مچائے گا زرگر!
ضعیف لوگ بھی جائیں گے پھر سنبھل شاید
امان زرگر
محمد تابش صدیقی — دسمبر 25، 2018 4:58 صبح
توجہ حسن سے تیرے ہٹے تو کچھ بولوں
ابھی تو سانس بھی لینے سے ہو خلل شاید
جو تجھ کو راہ میں درپیش ہو خطر کوئی
یہ میرا ساتھ ہو مشکل کا ایک حل شاید
یوں مجھ کو آج کنارے پہ دیکھ کر تنہا
ندی میں ہوں گے پریشاں سبھی کنول شاید
بہت خوب امان بھائی
امان زرگر — دسمبر 25، 2018 7:59 صبح
بہت خوب امان بھائی
پہلی مرتبہ اصلاحِ سخن سے نکل کر اِدھر کا رخ کیا۔ میں تو ڈر رہا تھا مگر آپ نے حوصلہ بڑھا دیا۔
مریم افتخار — دسمبر 25، 2018 10:12 صبح
بہت خوبصورت کلام محترمی!
محمد عدنان اکبری نقیبی — دسمبر 25، 2018 10:13 صبح
عمدہ بہت اعلی کلام امان بھائی
محمد تابش صدیقی — دسمبر 25، 2018 10:17 صبح
پہلی مرتبہ اصلاحِ سخن سے نکل کر اِدھر کا رخ کیا۔ میں تو ڈر رہا تھا مگر آپ نے حوصلہ بڑھا دیا۔

مگر میرا تبصرہ سند ہرگز نہیں۔
اپنا خوف برقرار رکھیے۔ ;)
امان زرگر — دسمبر 25، 2018 12:02 شام
مگر میرا تبصرہ سند ہرگز نہیں۔
اپنا خوف برقرار رکھیے۔ ;)
آہ!
فرحان محمد خان — دسمبر 27، 2018 4:43 صبح
بہت خوب غزل بھائی داد قبول کیجیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%90-%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%A7%D8%AD%D8%B5%D9%84-%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF.104808/