مرے سینے میں دوزخ پَل رہی ہے

ادب دوست — فروری 26، 2016 9:21 صبح
مجھے خود اپنی ہستی کَھل رہی ہے
مرے سینے میں دوزخ پَل رہی ہے
مرے پائے عمل کے سامنے تو
مرے خوابوں ہی کی دلدل رہی ہے
یہ کنکر جھیل میں پھینکا تھا لیکن
بہت کچھ سوچ میں ہلچل رہی ہے
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
ملے گی اوڑھ کے صحرا کی چادر
جو دھرتی اب تلک جل تھل رہی ہے
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے
کسک دل میں رہی صدیوں ہمارے
اگرچہ آرزو کچھ پل رہی ہے​
محمد تابش صدیقی — فروری 26، 2016 9:28 صبح
بہت خوب، ادب دوست بھائی۔
بڑے عرصے بعد تشریف لائے، ایک خوبصورت غزل کے ساتھ۔
مرے پائے عمل کے سامنے تو
مرے خوابوں ہی کی دلدل رہی ہے

مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے

خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے

کسک دل میں رہی صدیوں ہمارے
اگرچہ آرزو کچھ پل رہی ہے
ادب دوست — فروری 26، 2016 9:35 صبح
آتا تو روز ہی ہوں تابش میاں ۔۔ :)
کاشف اختر — فروری 26، 2016 9:36 صبح
بہت اعلی ٰ ادب دوست بھائی ! واہ واہ واہ
محمد تابش صدیقی — فروری 26، 2016 9:40 صبح
آتا تو روز ہی ہوں تابش میاں ۔۔ :)
اپنی تخلیق کے ہمراہ حاضری کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ :)
فاتح — فروری 26، 2016 9:50 صبح
واہ واہ واہ کیا کہنے برادرم۔ ایک خوبصورت غزل کی تخلیق پر مبارک باد۔
ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے:
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
ملے گی اوڑھ کے صحرا کی چادر
جو دھرتی اب تلک جل تھل رہی ہے
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے​
محمد وارث — فروری 26، 2016 10:21 صبح
خوب غزل ہے محترم۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں، مجھے یہ اور بھی اچھا لگا
یہ کنکر جھیل میں پھینکا تھا لیکن​
بہت کچھ سوچ میں ہلچل رہی ہے​
سید عاطف علی — فروری 26، 2016 10:43 صبح
بہت اچھی غزل ہے ادب دوست صاحب۔ بہت پسند آئی ۔
البتہ مطلع میں مَیں ،لفظ کَھلنے کی معنوی دقت (باریکی )سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے لطف سے محروم رہ گیا ۔
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے۔۔۔واہ کیا بیان ہے ۔!!!
حسیب احمد حسیب — فروری 26، 2016 10:52 صبح
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے​
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
آج کا شعر​
یوسف سلطان — فروری 26، 2016 3:35 شام
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے
بہت خوب!
جاسمن — فروری 26، 2016 7:13 شام
بہت خوب۔
بہت ساری داد قبول کریں۔ کئی اشعار بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
باباجی — فروری 26، 2016 7:19 شام
واہ واہ ادب دوستی کا واضح ثبوت یہ غزل
حمیرا عدنان — فروری 26، 2016 7:27 شام
واہہہہ استاد جی کمال کر دیا آپ نے تو
اکمل زیدی — فروری 27، 2016 4:37 صبح
مجھے خود اپنی ہستی کَھل رہی ہے
مرے سینے میں دوزخ پَل رہی ہے
..واہ ...اے ڈی بھائی ...سینہ دھک رہا ہو تو کیوں چپ رہے کوئی . . . .
ادب دوست — فروری 27، 2016 6:51 صبح
بہت اعلی ٰ ادب دوست بھائی ! واہ واہ واہ

بہت شکریہ ، نوازش کاشف بھائی
ادب دوست — فروری 27، 2016 6:53 صبح
واہ واہ واہ کیا کہنے برادرم۔ ایک خوبصورت غزل کی تخلیق پر مبارک باد۔
ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے:
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
ملے گی اوڑھ کے صحرا کی چادر
جو دھرتی اب تلک جل تھل رہی ہے
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے​

بہت شکریہ فاتح بھائی، آپ کا پسند کرنا ، میرے لئے اعزاز ہے ،
بہت نوازش
ادب دوست — فروری 27، 2016 6:57 صبح
خوب غزل ہے محترم۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں، مجھے یہ اور بھی اچھا لگا
یہ کنکر جھیل میں پھینکا تھا لیکن
بہت کچھ سوچ میں ہلچل رہی ہے​

بہت نوازش وارث بھائی، آپ نے پسند کیا، محنت سوارت ہوئی۔ بہت نوازش
ادب دوست — فروری 27، 2016 7:00 صبح
بہت اچھی غزل ہے ادب دوست صاحب۔ بہت پسند آئی ۔
البتہ مطلع میں مَیں ،لفظ کَھلنے کی معنوی دقت (باریکی )سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے لطف سے محروم رہ گیا ۔
خدا معلوم اب انجام کیا ہو
ابھی تک تو کہانی چل رہی ہے۔۔۔واہ کیا بیان ہے ۔!!!
بہت شکریہ ، بہت نوازش عاطف بھائی، آپ کا پسند کرنا ناچیز کیلئے سند ہے ،
ابن رضا — فروری 27، 2016 7:06 صبح
کیا کہنے جناب۔ سبھی اشعار ہی خوب تر ہیں۔ بہت سی داد قبول کیجیے
ادب دوست — فروری 27، 2016 12:58 شام
مجھے بھی سوچنا پڑتا ہے ویسے
وہی جیسے روایت چل رہی ہے
آج کا شعر​
بہت شکریہ حسیب بھائی،
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%88%D8%B2%D8%AE-%D9%BE%D9%8E%D9%84-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%DB%81%DB%92.88279/