مسافرانِ محبت ہیں ، سنگِ راہ نہیں

ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 4:19 شام

یہ غزل سانحہ گیارہ ستمبر کے بعد کے چند سالوں میں رونما ہونے والے واقعات کے پس منظر میں لکھی گئی تھی ۔​

کسی کو روک لیں ہم ، ایسے کم نگاہ نہیں
مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں
۔ق۔
ستم تو یہ ہےکہ دنیا تمہارے زیرِ ستم
تمہارے ظلم کا پھر بھی کوئی گواہ نہیں
کھلا ہے کون سا رستہ سپاہِ جبر سے آج
بچا ہے کون سا قریہ جو رزم گاہ نہیں ؟
متاع ِ ہستی کدھر رکھئے اب بجز مقتل
کسی طرف بھی کوئی گوشہٴ پناہ نہیں
حلیف بیچ گئے مجھ کو اپنی جاں کے عوض
مرے بچاوٴ کی باقی کوئی بھی راہ نہیں
۔
کھلے ہیں چند شگوفے مثالِ دستِ دعا
یہ دشتِ بے ثمر اتنا بھی بے گیاہ نہیں
غبارِ کشتہٴ مظلوم عرش چُھولے گا
نصیبِ فرش نہ ہوگا ، یہ گردِ راہ نہیں
اگر ظہیرؔ ہو شانے پر اپنے دستِ حبیب
عدو سے ہاتھ ملانا کوئی گناہ نہیں
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۴​
فہد اشرف — فروری 2، 2018 6:11 صبح
کیا ہی اچھی غزل ہے
محمد تابش صدیقی — فروری 2، 2018 6:26 صبح
کسی کو روک لیں ہم ، ایسے کم نگاہ نہیں
مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں

ستم تو یہ ہےکہ دنیا تمہارے زیرِ ستم
تمہارے ظلم کا پھر بھی کوئی گواہ نہیں

حلیف بیچ گئے مجھ کو اپنی جاں کے عوض
مرے بچاوٴ کی باقی کوئی بھی راہ نہیں

کھلے ہیں چند شگوفے مثالِ دستِ دعا
یہ دشتِ بے ثمر اتنا بھی بے گیاہ نہیں

لاجواب
الف عین — فروری 2، 2018 10:24 صبح
واہ۔ عمدہ غزل ہے۔
عرفان سعید — فروری 2، 2018 10:36 صبح
غبارِ کشتہٴ مظلوم عرش چُھولے گا
نصیبِ فرش نہ ہوگا ، یہ گردِ راہ نہیں
بہت خوب!
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:11 شام




نوازش ہے آپ احباب کی ! بہت عنایت! اللہ خوش رکھے!!
الشفاء — فروری 6، 2018 7:38 صبح
کسی کو روک لیں ہم ، ایسے کم نگاہ نہیں
مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں
واہ۔ کیا بات ہے۔۔۔
اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
فہد اشرف — فروری 6، 2018 7:44 صبح
اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
قطعہ
محمد تابش صدیقی — فروری 6، 2018 7:50 صبح
اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
غزل میں چونکہ ہر شعر کا الگ مضمون ہوتا ہے، اس لیے جب کسی بات کو بیان کرنے میں ایک سے زیادہ اشعار لکھنے پڑیں تو وہ قطعہ کہلاتے ہیں اور ان کی نشاندہی کے لیے ق کی علامت استعمال ہوتی ہے کہ اگلے اشعار ایک ہی مضمون کو مکمل کر ہے ہیں۔ نیچے جہاں تک ختمہ کی علامت ہے۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 6، 2018 7:57 صبح
غزل میں چونکہ ہر شعر کا الگ مضمون ہوتا ہے، اس لیے جب کسی بات کو بیان کرنے میں ایک سے زیادہ اشعار لکھنے پڑیں تو وہ قطعہ کہلاتے ہیں اور ان کی نشاندہی کے لیے ق کی علامت استعمال ہوتی ہے کہ اگلے اشعار ایک ہی مضمون کو مکمل کر ہے ہیں۔ نیچے جہاں تک ختمہ کی علامت ہے۔
آپ کا بہت شکریہ،
یہ ق کی نشاندہی اکثر نظروں سے گزارتی تھی مگر معلومات کی کمی کی وجہ علم نہیں تھا۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 6، 2018 11:38 شام
واہ۔ کیا بات ہے۔۔۔
اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

فہد اور تابش بھائی نے اوپر وضاحت سے بتادیا ہے ۔ غزل کے درمیان آنے والے ایسے مسلسل اشعار کو ’’قطعہ بند‘‘ یا مختصراً قطعہ کہتے ہیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%8C-%D8%B3%D9%86%DA%AF%D9%90-%D8%B1%D8%A7%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.100004/