مصرع طرح "عروجِ فن مری دہلیز پر اُتار مُجھے" پر ایک کاوش ( اسد اقبال)

اسد اقبال — مئی 11، 2017 12:25 شام
خزاں گُزر تو گئی کر کے تار تار مُجھے
بِکھرنے سے ہے مِلا اک عجب نِکھار مُجھے
یوں زندگی ہے لہو گُھونٹ گُھونٹ پیتا ہوں
یہ بے قراری عطا کرتی ہے قرار مُجھے
اُنہیں تو ساتھ نبھانا تھا ایک عُمر تلک
جو آج چھوڑ گئے ہیں یوں اشک بار مُجھے
رفو نیا جو کوئی زخم کرنے لگتا ہوں
تو یاد اُن کی ستاتی ہے بار بار مُجھے
بُلندی ڈرنے لگی ہے کمالِ خاک سے اب
"عروجِ فن مری دہلیز پر اُتار مُجھے"
زمانے بھر کے سبھی دُکھ خرید لیتا اسد
یہ مُفلسی نے دِیا ہی نہ اختیار مُجھے
عاطف ملک — مئی 24، 2017 7:32 صبح
زمانے بھر کے سبھی دُکھ خرید لیتا اسد
یہ مُفلسی نے دِیا ہی نہ اختیار مُجھے
واہ!
بہت خوب :)
ڈھیر ساری داد قبو ل کیجیے۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 24، 2017 8:08 صبح
یوں زندگی ہے لہو گُھونٹ گُھونٹ پیتا ہوں
یہ بے قراری عطا کرتی ہے قرار مُجھے

اُنہیں تو ساتھ نبھانا تھا ایک عُمر تلک
جو آج چھوڑ گئے ہیں یوں اشک بار مُجھے

بُلندی ڈرنے لگی ہے کمالِ خاک سے اب
"عروجِ فن مری دہلیز پر اُتار مُجھے"
بہت خوب بھیا ۔ زبردست اور لاجواب ۔ ڈھیروں داد
اسد اقبال — مئی 24، 2017 11:08 صبح
عاطف ملک صاحب اور ڈاکٹر عامر شہزاد صاحب آپ کی محبتوں کا بہت ممنونِ احسان ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%AC%D9%90-%D9%81%D9%86-%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C%D8%B2-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D9%8F%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%D9%85%D9%8F%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4-%D8%A7%D8%B3%D8%AF-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84.96381/