معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 5:25 صبح
معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے
شاخِ ہنر کو دیکھئے ، شجرہ نہ دیکھئے
شاید اسی طرح مجھے پہچان جائیں آپ
لہجے کا رنگ دیکھئے ، چہرہ نہ دیکھئے
رستے ہیں میرے گھر کے محبت کے راستے
دل کی کتاب کھولئے ، نقشہ نہ دیکھئے
سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے
گھر دیکھئے جناب ، علاقہ نہ دیکھئے
دیواریں پڑھ رہے ہیں بس اپنی گلی کی آپ
اخبار پورا پڑھئے ، تراشہ نہ دیکھئے
سائے تو گھٹتے بڑھتے ہیں سورج کیساتھ ساتھ
قامت کو اپنی ناپئے ، سایا نہ دیکھئے
ہو عزم آہنی تو ہمالہ بھی زیر ہے
رکھئے نظر فراز پہ تیشہ نہ دیکھئے
دیوار و در کے پردے ہٹا کر کبھی کبھی
جانب خدا کی دیکھئے ، کعبہ نہ دیکھئے
بجھنے لگی ہیں شہرِنگاراں کی رونقیں
کچھ کیجئے ظہیر ، تماشہ نہ دیکھئے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔ ۱۹۹۷
ٹیگ: سید عاطف علی محمد تابش صدیقی فاتح کاشف اختر
حمیرا عدنان — دسمبر 30، 2015 5:55 صبح
شاید اسی طرح مجھے پہچان جائیں آپ
لہجے کا رنگ دیکھئے ، چہرہ نہ دیکھئے
رستے ہیں میرے گھر کے محبت کے راستے
دل کی کتاب کھولئے ، نقشہ نہ دیکھئے
بہت خوب بھائی واہہہہ
محمد تابش صدیقی — دسمبر 30، 2015 6:03 صبح
بہت خوب بھئی بہت عمدہ۔ ظہیر بھائی بہت شکریہ ان ہدایات کے لئے۔ :)
معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے
شاخِ ہنر کو دیکھئے ، شجرہ نہ دیکھئے

سائے تو گھٹتے بڑھتے ہیں سورج کیساتھ ساتھ
قامت کو اپنی ناپئے ، سایا نہ دیکھئے

ہو عزم آہنی تو ہمالہ بھی زیر ہے
رکھئے نظر فراز پہ تیشہ نہ دیکھئے
سید عاطف علی — دسمبر 30، 2015 6:12 صبح
واہ بہت اچھی غزل ہے جناب ۔ بہت خوب
فاتح — دسمبر 30، 2015 2:01 شام
بہت سی مبارکباد
سید اسد معروف — دسمبر 30، 2015 6:46 شام
بجھنے لگی ہیں شہرِنگاراں کی رونقیں
کچھ کیجئے ظہیر ، تماشہ نہ دیکھئے
دل کی آواز----- بہت خوب
کاشف اختر — دسمبر 31، 2015 5:22 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی! بہت اچھی غزل ہے
یوسف سلطان — دسمبر 31، 2015 5:26 شام
بہت خوب
راحیل فاروق — دسمبر 31، 2015 5:44 شام
سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے
گھر دیکھئے جناب ، علاقہ نہ دیکھئے
کیا کہنے، ظہیر بھائی۔ اس غزل نے کھینچ لیا ورنہ سر کھجانے کی فرصت نہ تھی۔ اب سوچ رہے ہیں کیا ہی اچھا فیصلہ کیا آپ کی غزل پڑھنے کا۔ سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے۔ یہ مصرع بھولے گا نہیں ہمیں۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 1:48 صبح
کیا کہنے، ظہیر بھائی۔ اس غزل نے کھینچ لیا ورنہ سر کھجانے کی فرصت نہ تھی۔ اب سوچ رہے ہیں کیا ہی اچھا فیصلہ کیا آپ کی غزل پڑھنے کا۔ سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے۔ یہ مصرع بھولے گا نہیں ہمیں۔

راحیل فاروق بھائی ! عنایت ہے آپ کی۔ بہت شکریہ۔ بہت نوازش! بھئی یہ شعر وشاعری تو ثانوی چیزیں ہیں ۔ اولیت تو ذمہ داریوں ہی کی ہے۔ وہ بخوبی نبھ جائیں تو بڑی بات ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کے لئے آسانیان فرمائے۔ اور آپ کو خوش و خرم رکھے۔
آوازِ دوست — جنوری 1، 2016 4:00 صبح
دیوار و در کے پردے ہٹا کر کبھی کبھی
جانب خدا کی دیکھئے ، کعبہ نہ دیکھئے
سُبحان اللّہ!
محمد وارث — جنوری 1، 2016 4:58 صبح
لاجواب
ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 6:07 صبح
بہت خوب بھئی بہت عمدہ۔ ظہیر بھائی بہت شکریہ ان ہدایات کے لئے۔ :)

واہ بہت اچھی غزل ہے جناب ۔ بہت خوب


دل کی آواز----- بہت خوب

بہت عمدہ ظہیر بھائی! بہت اچھی غزل ہے




آپ تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ ۔ذرہ نوازی ہے ۔ عنایت ہے۔ خدا آپ سب کو سلامت رکھے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%D8%AA%D9%88-%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%81-%D9%86%DB%81-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92.86779/