ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے

ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 6:56 شام
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
یہ راستہ لیکن کسی رہبر کی عطا ہے
کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا
الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے
جچتے نہیں آنکھوں میں شبستان و گلستاں
یہ دربدری ایسے کسی در کی عطا ہے
ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے
اُجرت میں ملی ہے مجھے اقلیمِ سخن یہ
ہر شعر کسی زخمِ ستمگر کی عطا ہے
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۴​
ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 7:12 شام
میں آپ دوستوں سے معذرت چاہتا ہوں کہ آج پوسٹ کی ہوئی غزلوں پر وقت کی کمی اور ٹائپنگ میں مشکل کے سبب سے آپ کو اس طرح فردًا فردًا ٹیگ نہ کرسکا جیسا سابقہ پوسٹوں پر کیا کرتا تھا ۔ غزلیات اب تقریبًا تمام ہوئیں ( خس کم جہاں پاک ۔ :):):)) ۔ آپ دوستوں کی توجہ اور محبت کے لئے سراپا سپاس ہوں ۔
فاتح کاشف اختر ، محمد تابش صدیقی سید عاطف علی
فاتح — مارچ 2، 2016 7:26 شام
واہ کیا کہنے۔ زبردست ظہیر بھائی
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیِ کوثر کی عطا ہے
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 7:48 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی
ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے

محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 1:16 صبح
واہ کیا کہنے۔ زبردست ظہیر بھائی
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیِ کوثر کی عطا ہے

فاتح بھائی ، کام تو بخشش والے ہیں نہیں میرے ۔ بس اُس کی رحمتِ بے پایاں سے امید ہے کہ اپنے پیغمبر کا امتی جان کر اس کشتہء عصیاں پر کرم فرمادے ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 1:17 صبح
بہت عمدہ ظہیر بھائی

بہت ممنون ہوں تابش بھائی ۔ آپ کی محبت ہے ۔
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:02 صبح
کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا
الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے
واہ۔۔۔۔ بہت خوب۔۔۔۔۔
ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے
اعلی۔۔۔۔ آہا۔۔۔
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
کیا کہنے۔۔۔ اسی نسبت کا تو کھا رہے ہیں۔۔۔ بلاشبہ۔۔۔ اعلیٰ
سر ماشاءاللہ۔۔۔
محمداحمد — اپریل 30، 2016 1:22 شام
سبحان اللہ !
بہت خوبصورت کلام ہے۔
بہت سی داد حاضرِ خدمت ہے۔
ابن رضا — اپریل 30، 2016 1:48 شام
واہ واہ
بہت عمدہ غزل ہے ماشاءاللہ.
بہت داد قبول کیجے
جاسمن — مئی 18، 2016 1:58 شام
ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے

اُجرت میں ملی ہے مجھے اقلیمِ سخن یہ
ہر شعر کسی زخمِ ستمگر کی عطا ہے
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
بہت خوب!
خوبصورت غزل۔
واہ واہ!
ظہیراحمدظہیر — مئی 20، 2016 10:57 شام
بہت خوب!
خوبصورت غزل۔
واہ واہ!

بہت شکریہ خواہرِ مکرم ! خالقِ کائنات آپ کو خوش رکھے ! ذوق سلامت رکھے !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%88-%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B9%D8%B7%D8%A7-%DB%81%DB%92.88419/