ظہیراحمدظہیر — ستمبر 20، 2016 3:48 صبح
غزل
منظر سے ہٹ گیا ہوں میں ، ایسا نہیں ابھی
ٹوٹا تو ہوں ضرور ، پہ بکھرا نہیں ابھی
وہ بھی اسیرِ ِ فتنہء جلوہ نمائی ہے
میں بھی حصارِ ذات سے نکلا نہیں ابھی
آسودہء خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ
جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی
داغ ِ فراقِ یار کے پہلو میں یاس کا
اک زخم اور بھی ہے جو مہکا نہیں ابھی
نومیدیء قرارکے ماتھے پہ درد کا
اک نقش اور بھی ہے جو نکھرا نہیں ابھی
مل تو گیا ہے شوق کو رازِ دوامِ عشق
لیکن طلب کی راہ پر آیا نہیں ابھی
سود و زیانِ کارِ وفا یاد ہے مجھے
لیکن ترے حساب میں لکھا نہیں ابھی
کچھ دن ابھی رہیں گے یہ ملنے کے سلسلے
جانا تمہارے شہر سے ٹھہرا نہیں ابھی
سہتے رہو ظہیر ابھی تہمتِ حیات
مقتل مقام ِ زیست سے اونچا نہیں ابھی
ظہیراحمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۹۹۶
سید عاطف علی — ستمبر 20، 2016 9:19 صبح
تہمتِ حیات ۔۔۔واہ ۔کمال ہے ۔ظہیر بھائی ۔
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 9:44 صبح
لاجواب۔ ظہیر بھائی
آسودہء خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ
جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی
نومیدیء قرارکے ماتھے پہ درد کا
اک نقش اور بھی ہے جو نکھرا نہیں ابھی
مل تو گیا ہے شوق کو رازِ دوامِ عشق
لیکن طلب کی راہ پر آیا نہیں ابھی
سود و زیانِ کارِ وفا یاد ہے مجھے
لیکن ترے حساب میں لکھا نہیں ابھی
سہتے رہو ظہیر ابھی تہمتِ حیات
مقتل مقام ِ زیست سے اونچا نہیں ابھی
ادب دوست — ستمبر 20، 2016 11:23 صبح
آسودہء خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ
جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی
کیا کہنے ظہیر بھائی، واہ واہ واہ ۔۔۔ بہت خوب بہت خوب ۔۔ جتنی تعریف کی جائے کم ہے وا ہ واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔
اکمل زیدی — ستمبر 20، 2016 11:28 صبح
سود و زیانِ کارِ وفا یاد ہے مجھے
لیکن ترے حساب میں لکھا نہیں ابھی
خوب است . . .
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:23 شام
تہمتِ حیات ۔۔۔واہ ۔کمال ہے ۔ظہیر بھائی ۔
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
بہت بہت شکریہ
عاطف بھائی ! سچی بات یہ ہے کہ جس طرح سے جی رہے ہیں وہ حیات سے زیادہ تہمتِ حیات ہی ہے ۔ بہرحال ۔
آپ سنائیے آپ کیسے ہیں ؟ نہ کوئی تازہ کلام ، نہ کوئی تازہ پینٹنگ ۔ کیا ڈیجیٹل پینٹنگ سے دل بھر گیا ؟! وقت ملے تو کبھی بات کیجئے گا ۔ سندھی بولنے کا جی چاہتا ہے بعض اوقات ۔ ( تاکہ چند گنے چنے الفاظ جو یاد رہ گئے ہیں وہ بھی نہ بھول جائیں ۔



)
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:26 شام
آداب تابش بھائی ! بہت ممنو ن ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:28 شام
کیا کہنے ظہیر بھائی، واہ واہ واہ ۔۔۔ بہت خوب بہت خوب ۔۔ جتنی تعریف کی جائے کم ہے وا ہ واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔
محبت ہے آپ کی محمد بھائی!! بہت خوشی ہوئی آپ کی طرف سے شرفِ قبولیت پا کر !! سلامت رہیں !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:29 شام
شکریہ اکمل بھائی ۔ بہت نوازش!
محمد وارث — ستمبر 22، 2016 3:47 صبح
لاجواب۔ انتائی خوبصورت غزل ہے ظہیر صاحب محترم، بہت داد قبول کیجیے۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 3:06 شام
لاجواب۔ انتائی خوبصورت غزل ہے ظہیر صاحب محترم، بہت داد قبول کیجیے۔
ذرہ نوازی ہے وارث صاحب محترم!! آپ کی توجہ اور قدر افزائی کے لئے ازحد ممنون ہوں ! خدا آپ کو شادآباد رکھے!!
اَبُو مدین — ستمبر 24، 2016 6:48 شام
لاجواب محترم ظہیر صاحب۔ زبردست۔ ڈھیروں دعائیں اور داد۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 25، 2016 4:56 شام
لاجواب محترم ظہیر صاحب۔ زبردست۔ ڈھیروں دعائیں اور داد۔
بہت بہت شکریہ !! ممنون ہوں ! اللہ تعالٰی آپ کو شاد آباد رکھے !
محمداحمد — نومبر 25، 2016 12:44 شام
ہمیشہ کی طرح خوبصورت غزل کہی ہے ظہیر بھائی!
ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔ !
محمداحمد — نومبر 25، 2016 12:45 شام