منظرِ دشتِ تگ و تاز بدل کر دیکھا

ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2017 11:55 شام

منظرِ دشتِ تگ و تاز بدل کر دیکھا
رزق کو رفعتِ پرواز بدل کر دیکھا
سلسلہ کوئی ہو انجام وہی ہوتا ہے
ہم نے سو مرتبہ آغاز بدل کر دیکھا
بس وہی ہجر کے سرگم پہ وہی درد کی لے
مطربِ عشق نے کب ساز بدل کر دیکھا
میرے شعروں سے ترے رمز و کنائے نہ گئے
میں نے ہر مصرعہء غماز بدل کر دیکھا
ہم گدایانِ محبت نے مقدر اپنا
کبھی کاسہ ، کبھی آواز بدل کر دیکھا
دشمنی کیسے بدل دیتی ہے تیور اپنے
یہ کرشمہ میں نے ہمراز بدل کر دیکھا
کیا کہیں کیسا تماشہ کوئے جاناں میں ظہیر
یہ لب و لہجہ و انداز بدل کر دیکھا
ظہیراحمد ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۱
فہد اشرف — جنوری 28، 2017 2:23 صبح
واااہ کیا کہنے
ظہیراحمدظہیر — جنوری 30، 2017 4:22 صبح
بہت شکریہ فہد صا اشرف صاحب! ممنون ہوں ۔ بزمِ سخن میں خوش آمدید!!
محمد تابش صدیقی — جنوری 30، 2017 8:05 صبح
بہت عمدہ غزل
مگر اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے۔
ہم گدایانِ محبت نے مقدر اپنا
کبھی کاسہ ، کبھی آواز بدل کر دیکھا
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 30، 2017 10:09 صبح
بہت عمدہ غزل ہے۔​
ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2017 4:10 صبح
بہت عمدہ غزل
مگر اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے۔
حضور تابش صاحب! بہت شکریہ! :):):)
نوازش! بہت ممنون ہوں نقیبی صاحب! اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے!! بزمِ شعر مین خوش آمدید!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%90-%D8%AF%D8%B4%D8%AA%D9%90-%D8%AA%DA%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A7%D8%B2-%D8%A8%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7.94460/