بولہوس کو غمِ جاناں نہیں ملتا سرمد
اور مگس کو دلِ سوزاں نہیں ملتا سرمد
گو غمِ یار میں عشاق مٹے جاتے ہیں
ہر کسی کو تو یہ ساماں نہیں ملتا سرمد
محمد وارث بھائی امید ہے ہماری اس گستاخی سے صرفِ نظر فرمائیں گے اور تصحیح بھی فرمائیں گے۔
رباعی کا ترجمہ رباعی میں کرنا خاص طور پر جب اردو اور فارسی دونوں زبانوں کا قرب اور تہذیبی رشتہ بہت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو کسی خوشگوار تاثر کا باعث نہیں بنتا کیونکہ بحر قافیہ ردیف اور فارسی اردو مشترک لفظالی کی بنا پر فارسی رباعی کو اردو رباعی کے آہنگ میں پیش کرنا گویا اسی فارسی رباعی میں معمولی ردو بدل کرنا ہوگا۔۔ ۔ ماضی میں جب حکیم عمر خیام نیشاپوری کی فارسی رباعیات کو واقف دہلوی اور آغا شاعر قزلباش نے اردو رباعی کے آہنگ میں پیش کیا تو ان تراجم کو ناقدین نے "تاج محل کو توڑ کر اسی ملبے سے دوبارہ تاج محل تعمیر کرنے" جیسی کاوش قرار دیا تھا
گوکہ فارسی رباعی کے تیسرے مصرعہ کے مفہوم کو کسی حد تک ادا کرتا ہے لیکن حق ترجمانی پورا نہیں ہوتا
یہ بات میرے علم میں اضافہ کا سبب بنی ہے کہ کسی ایک زبان سے شاعری کا ترجمہ کرتے وقت اس کی "صنف اور ہیت" کو بھی دوسری زبان میں منتقل کرنا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر ایسا نہ کیا جا سکے تو منظوم ترجمہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ ۔ ۔
ہمیشہ انہی حدودو قیود کی پابندی نہیں کی گئی ہے بل کہ ۔ ۔ ۔ کبھی کسی نے پابندی کو اپنایا۔ ۔ ہور کبھی کسی نے اس کو روا نہ رکھا ۔ ۔
==========
اور اس بگاڑ میں ہمارا ہاتھ کچھ زیادہ ہی تھا سو شرمندہ ہیں
وارث بھائی پہلے تو شکریہ کہ آپ ناراض نہیں ہوئے
اس جملہ میں لفظ "ہی" وہی معانی دے رہا ہے جو آپ کی غرض و غایت ہے میں نے پورے جملے میں "ہی" کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا
اس جملہ میں "اکثر" کا استعمال "کُل" کے لیے ہرگز نہیں
استاد کی فرمائش ہے ، کیسے پوری نہ کریں گے۔