بدر — فروری 4، 2014 10:15 صبح
مژدہء سحر دے کوئی
تعمیرِ فردا کرے کوئی
بہت دنوں سے دکھی ہے
لگائے غریب کو گلے کوئی
جسم ناتواں ، روح بیکراں
غمِ مزدور سمجھے کوئی
کھوکھلا ہو چکا ہے سماج
نظامِ کہن اب بدلے کوئی
دے رہا ہوں اذانِ سحر
سُنتا ہے ارے کوئی
امیرِ شہر کو بھلا کیا غم
مرتا ہے تو مرے کوئی
مخلوق ترستی ہے انصاف کو
صُورِ محشر پھونکے کوئی
سچی بات لکھتا ہے بدر
ہاتھ اس کے توڑے کوئی
ابن رضا — فروری 4، 2014 11:22 صبح
اچھی کوشش ہے

۔ تاہم شاید قوافی و بحور سے آزادہے۔ یا پھر میری کج فہمی


خالد محمود چوہدری — فروری 4، 2014 11:52 صبح
مژدہء سحر دے کوئی
تعمیرِ فردا کرے کوئی
بہت دنوں سے دکھی ہے
لگائے غریب کو گلے کوئی
جسم ناتواں ، روح بیکراں
غمِ مزدور سمجھے کوئی
کھوکھلا ہو چکا ہے سماج
نظامِ کہن اب بدلے کوئی
دے رہا ہوں اذانِ سحر
سُنتا ہے ارے کوئی
امیرِ شہر کو بھلا کیا غم
مرتا ہے تو مرے کوئی
مخلوق ترستی ہے انصاف کو
صُورِ محشر پھونکے کوئی
سچی بات لکھتا ہے بدر
ہاتھ اس کے توڑے کوئی
اچھی ہے ،سچی ہے
بدر — فروری 5، 2014 5:23 شام
اچھی کوشش ہے

۔ تاہم شاید قوافی و بحور سے آزادہے۔ یا پھر میری کج فہمی

بہت شکریہ جناب ابن رضا صاحب۔
آپ کا اندازہ شاید درست ہو۔ کیونکہ ناچیز ابھی طفل مکتب ہے اور بے استاد بھی۔ ۔ اگر آپ بحور و قوافی سے متعلق کسی مواد کی طرف رہنمائی کریں تو نوازش ہو گی۔ شکریہ
ابن رضا — فروری 5، 2014 6:20 شام
بہت شکریہ جناب ابن رضا صاحب۔
آپ کا اندازہ شاید درست ہو۔ کیونکہ ناچیز ابھی طفل مکتب ہے اور بے استاد بھی۔ ۔ اگر آپ بحور و قوافی سے متعلق کسی مواد کی طرف رہنمائی کریں تو نوازش ہو گی۔ شکریہ
تو جناب اصلاحِ سخن کے زمرے میں آئیں اور وہاں بے پناہ مواد موجود ہے اور لوگ بھی ۔ آپ کی رہنمائی کے لیے۔اور اپنی شاعری بھی اسی زمرے میں پوسٹ کیا کریں
بدر — فروری 5، 2014 6:41 شام
بہت شکریہ جناب۔
الف عین — فروری 6، 2014 2:37 صبح
خوش آمدید @بدر، اگرچہ آٹھ سال بعد آئے ہیں، اگر ان آٹھ سالوں میں محفل میں گھومتے رہے ہوتے تو محفل کے قاعدوں کا پتہ چل جاتا۔ بہر حال دیر آید درست آید۔
بدر — فروری 6، 2014 4:46 صبح
شکریہ
الف عین صاحب، آپ نے بجا فرمایا۔ اور مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ اس غیر حاضری سے میں کتنی چیزوں سے محرو م رہا ہوں ۔ لیکن اب انشاء اللہ اہل قلم کی صحبت سے استفادہ کروں گا۔