میرا بھالو، گول کچالو :نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2019 4:58 صبح
میرا بھالو، گول کچالو
از محمد خلیل الرحمٰن
بھالو کو بہلاتی ہوں میں
چوٹ لگے سہلاتی ہوں میں
شام ڈھلے ٹہلاتی ہوں میں
ہر ہفتے نہلاتی ہوں میں
کھاتا ہے بس اُبلے آلو
میرا بھالو، گول کچالو
یوں تو یہ ہے سیدھا سادا
سیر سپاٹے کا دلدادہ
نخرے اس کے بہت زیادہ
گویا ہے بچوں کا دادا
اور بلی کا ہے یہ خالو
میرا بھالو گول کچالو
اک دن اس کے جی میں آیا
دادی کا اِک پان چُرایا
ان سے چھُپ کر اس کو کھایا
کڑواہٹ سے خود گھبرایا
دادی چیخیں "گندا بھالو!"
میرا بھالو، گول کچالو
دادی نے جب شور مچایا
ان کا نوکر دوڑا آیا
بھالو اب تو خود گھبرایا
خالہ نے پھر اسے بچایا
اسے بچانے آئے خالو
میرا بھالو گول کچالو
آنکھ کھلی تو سب اُلٹا تھا
بھالو میرے ساتھ تھا سویا
میں نے یہ سب خواب میں دیکھا
جگا رہی تھیں مجھ کو خالہ
اور سویا تھا میرا بھالو
میرا بھالو، گول کچالو
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2019 8:56 صبح
اساتذہ و محفلین سے گزارش ہے کہ تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ جزاک اللہ۔
محمداحمد — نومبر 16، 2019 9:58 صبح
بہت خوب!
زبردست خلیل بھائی!
سید عاطف علی — نومبر 16، 2019 11:36 صبح
بہت بہترین نظم ہے ۔ زبر دست۔:star2:
ظہیراحمدظہیر — نومبر 17، 2019 4:05 صبح
زبردست! اچھی نظم ہے خلیل بھائی! مزا آیا پڑھ کر ۔ بہت داد و تحسین!
محفلین سے گزارش ہے کہ تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ جزاک اللہ۔
خلیل بھائی ، چند مصرعوں میں روانی کم لگی مجھے اور ذراسی تبدیلی سے بہتری محسوس ہوئی ۔
"نخرے اس کے بہت زیادہ" ۔ اسے اگر "نخرے اس کے حد سے زیادہ" پڑھا جائے تو رواں تر محسوس ہوتا ہے ۔
"دادی کا اِک پان چُرایا ۔ ان سے چھُپ کر اس کو کھایا " ۔ اگر "سب سے چھپ کر اُس کو کھایا" پڑھا جائے تو ذہنی تصویر اور اچھی بنتی ہے ۔
یہ میری ناقص رائے ہے ۔ آپ بہتر جانتے ہیں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 17، 2019 4:20 صبح
بہت خوب!
زبردست خلیل بھائی!
آداب عرض ہے جناب
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 17، 2019 4:21 صبح
بہت بہترین نظم ہے ۔ زبر دست۔:star2:
تشکر۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 17، 2019 4:25 صبح
زبردست! اچھی نظم ہے خلیل بھائی! مزا آیا پڑھ کر ۔ بہت داد و تحسین!

آداب۔ آداب!
خلیل بھائی ، چند مصرعوں میں روانی کم لگی مجھے اور ذراسی تبدیلی سے بہتری محسوس ہوئی ۔
"نخرے اس کے بہت زیادہ" ۔ اسے اگر "نخرے اس کے حد سے زیادہ" پڑھا جائے تو رواں تر محسوس ہوتا ہے ۔
"دادی کا اِک پان چُرایا ۔ ان سے چھُپ کر اس کو کھایا " ۔ اگر "سب سے چھپ کر اُس کو کھایا" پڑھا جائے تو ذہنی تصویر اور اچھی بنتی ہے ۔
یہ میری ناقص رائے ہے ۔ آپ بہتر جانتے ہیں

سج گئی نظم آپ کی اصلاح سے۔
استادِ محترم الف عین کی رائے کے ساتھ سید عاطف علی بھائی۔ اور آپ کی آرا کا بھی شدت سے انتظار رہتا ہے۔
فاخر رضا — نومبر 17، 2019 4:37 صبح
زبردست سر
بچوں کا ادب تخلیق کرنے کا شکریہ
سید عاطف علی — نومبر 17، 2019 5:02 صبح
آداب۔ آداب!
سج گئی نظم آپ کی اصلاح سے۔
استادِ محترم الف عین کی رائے کے ساتھ سید عاطف علی بھائی۔ اور آپ کی آرا کا بھی شدت سے انتظار رہتا ہے۔
تقریر کی لذت اور آپ کی حوصلہ افزائی کے ضمن میں مجھے بھی ایک آدھ مقامات پر لفظی ترتیب کا احساس ہوا تھا (ظہیر بھئی والی ترتیب :) ) اور یہ بھی :
ان کا نوکر دوڑا آیا
یہاں "ان" پر "نوکر" کو ترجیح کی وجہ سے نوکر پہلے ہو تو زیادہ موافق تر لہجہ بنتا ہے۔ یعنی "نوکر ان کا دوڑا آیا"۔
کڑواہٹ سے خود گھبرایا۔
یہاں خود کی جگہ پھر یا وہ ہو تو بہتر ہے۔ (کیوں کہ "خود" کی وجہ سے مصرع کو ایک خاص رخ ملجاتا ہے جس کا محل اور ضرورت یہاں نہیں ۔ )
بھالو اب تو خود گھبرایا
یہاں بھی خود کے بجائے کچھ اور ہو تو بہتر ہو۔جیسے دیکھ کے اس کو وہ گھبرایا وغیرہ۔
خالہ نے پھر اسے بچایا
اسے بچانے آئے خالو
یہ دونوں مصرع جیسے کچھ ٹکرا سے گئے ۔
جگا رہی تھیں مجھ کو خالہ
یہ مصرع رواں نہیں ۔ پھر کہہ لیں جیسے ۔
"اٹھو اٹھو" بولیں خالہ۔ وغیرہ ۔ لیکن اس کے ساتھ اگلا مصرع بھی دوپارہ پیوستہ کرنا پڑے کیوں کہ وہ "اور سے شروع ہوتا ہے۔۔۔
ویسے ان معمولی نوعیت کے ملاحظات کے باوجود بھی یہ نظم بہت دلکش ہے ۔
الف عین — نومبر 17، 2019 5:26 صبح
بہتری تو ہر کلام کی ممکن ہے، لیکن غلطی تو کوئی نہیں تھی، اس لیے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ظہیر اور عاطف صاحبان کے مشورے اچھے ہیں، قبول کر لیں۔
فرقان احمد — نومبر 17، 2019 5:46 صبح
خلیل بھیا! بلاشبہ یہ بہت پیاری نظم ہے۔ ہماری مانیں تو آپ اس طرف مزید توجہ دیجیے۔ ہمارے خیال میں، آپ کا اصل میدان یہ ہے۔ بچوں کے لیے نظمیں تخلیق کرنا یُوں بھی کارِ دُشوار ہے، یہ ہر شاعر کے بس کی بات بھی نہیں۔ بہت اعلیٰ! زبردست!
سید عاطف علی — نومبر 18، 2019 5:48 شام
ویسے بر سبیل تذکرہ ، یہ کچالو ہوتا کیا ہے ؟ (یعنی اصلاََ کونسا پھل :) ) براہ مہربانی اسے زلیخا کے قصے سے تعبیر نہ کیا جائے ۔ یہ واقعی معصومانہ سوال ہے۔ :)
الف نظامی — نومبر 18، 2019 6:22 شام
کڑواہٹ سے جی گھبرایا
یہ چلے گا؟
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 19، 2019 1:08 صبح
ویسے بر سبیل تذکرہ ، یہ کچالو ہوتا کیا ہے ؟ (یعنی اصلاََ کونسا پھل :) ) براہ مہربانی اسے زلیخا کے قصے سے تعبیر نہ کیا جائے ۔ یہ واقعی معصومانہ سوال ہے۔ :)
کچالو اروی کی ایک قسم ہے جو چاٹ کے طور پر ابال کر نمک وغیرہ لگا کر کھائی جاتی ہے۔ اسی طرح کچے آلو کو بھی کچالو کہتے ہیں۔
جاسمن — نومبر 19، 2019 3:00 صبح
بہت پیاری، راج دلاری سی نظم ہے۔:)
عاطف ملک — نومبر 19، 2019 12:19 شام
بہت خوبصورت نظم ہے خلیل سر:)
محمد شکیل خورشید — دسمبر 4، 2019 11:27 صبح
بچوں کا ادب، قصہ پارینہ ہوتا جا رہا ہے،
ایک جہاد ہے جو آپ شروع کر رہے ہیں، بہت اعلیٰ درجے کا بچوں کا ادب تخلیق کر کے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%8C-%DA%AF%D9%88%D9%84-%DA%A9%DA%86%D8%A7%D9%84%D9%88-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.109201/