واہ صاحب ! آپ نے اپنا دِفاع خوب کیا! وہ بھی قرآن سے۔ محب محترم ! اس آیت کریمہ کا سیاق و سباق تو ملاحظہ فرمائیے:
آپ نے اپنے دفاع میں جو آیت کریمہ پیش کی ہے وہ دراصل مردار، خون اور سور کے گوشت کے متعلق ہے۔ اس میں شراب کا ذکر کہیں نہیں ہے۔بہرحال چونکہ اسلام میں انما الاعمال بالنیات بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ لہذا اللہ رب العزت آپ کو احسن نیتوں کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔اور یہاں آپ کی جو نیت ہے اسے بقدر اخلاص قبول فرمائے۔
ذرا یہ روایت ملاحظہ فرمائیں:
ایک شادی شدہ عورت کو زنا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور اسے سنگسار کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس عورت سے مزید تحقیق کی جائے۔ شاید اس کے پاس اس جرم کا کوئی عذر موجود ہو۔ عورت کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس نے اس جرم کے ارتکاب کی وجہ یوں بیان کی کہ میں اپنے شوہر کے اونٹوں کو چرانے صحرا لے گئی تھی۔ اس بیابان میں مجھ پر پیاس کا غلبہ ہوا۔ میں نے وہاں موجود شخص سے بہت منت سماجت کی اور اس سے پانی مانگا لیکن وہ ہر بار یہ کہتا تھا کہ تم میرے آگے تسلیم ہو جاؤ تو میں تمہیں پانی دوں گا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ پیاس سے مر جاؤں گی تو میں مجبوراً اس کی شیطانی ہوس کے تسلیم ہو گئی۔ اسی وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تکبیر بلند کی اور فرمایا، " اللہ اکبر، فمن الضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ" یعنی اگر کوئی اضطرار اور مجبوری کی حالت میں کوئی غلط کام کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
دیکھئے قرآن نے تو ہمیں ایک قدر دی نہ کہ دو جمع دو کا قانون اور یہ میں نہیں جید علمائے دیں کا حکم ہے کہ حرام بھی حلال ہے بشرطیکہ جان جانے کا اندیشہ ہو۔ اور کہنے کو چونکہ اس آیت میں زنا کا ذکر نہیں سو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی پکڑا چاہیئے۔ معاذ اللہ۔ لیکن ایسا نہیں۔