میری ایک تازہ غزل ...کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے

سید عاطف علی — اکتوبر 18، 2014 10:10 صبح
عید الاضحی کے دن میری آٹھویں غزل کے بعد
ایک تازہ غزل پیش ہےتمام احبابِ محفلین کے لیے۔
کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
ہم لامکاں میں ایک مکاں ڈھونڈتے رہے
مسحور اک طلسم ِ ندیدہ سے عمر بھر
تھامے چراغ تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
زیر ِزمین گھر کا نہ گزرا ہمیں خیال
ہم زیر ِآسمان اماں ڈھونڈتے رہے
افسانہ جوئے شیر کا سن کر تڑپ اٹھے
تیشہ بدست کوہ گراں ڈھونڈتے رہے
دیوانہ وار جشن ِبہاراں کو چھوڑ کر
مستانہ وار فصل ِخزاں ڈھونڈتے رہے
خاطر میں لائے خار مغیلاں کبھی نہ ہم
گم گشتہ وہ ہی محمل ِ جاں ڈھونڈتے رہے
دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی
صحرا میں آکےآب رواں ڈھونڈتے رہے
تسلیم شیخ جی کی کرامت ہمیں مگر
بیعت کو دستِ پیر مغاں ڈھونڈتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید عاطف علی​
محمد علم اللہ — اکتوبر 18، 2014 10:32 صبح
لا جواب
سید عاطف علی — اکتوبر 18، 2014 9:57 شام
شکریہ و آداب اصلاحی صاحب۔
عابی مکھنوی — اکتوبر 27، 2014 10:10 صبح
زیر ِزمین گھر کا نہ گزرا ہمیں خیال
ہم زیر ِآسمان اماں ڈھونڈتے رہے
دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی
صحرا میں آکےآب رواں ڈھونڈتے رہے
بہت ہی خوب عاطف بھائی ۔۔۔ کمال مضامین کو اعلیٰ مہارت سےنظم کیا ہے ۔۔۔
محمد وارث — اکتوبر 27، 2014 12:23 شام
خوب غزل ہے سید صاحب محترم
سید عاطف علی — اکتوبر 28، 2014 7:54 صبح
بہت شکریہ و آداب وارث بھائی۔
سید عاطف علی — اکتوبر 28، 2014 4:33 شام
زیر ِزمین گھر کا نہ گزرا ہمیں خیال
ہم زیر ِآسمان اماں ڈھونڈتے رہے
دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی
صحرا میں آکےآب رواں ڈھونڈتے رہے
بہت ہی خوب عاطف بھائی ۔۔۔ کمال مضامین کو اعلیٰ مہارت سےنظم کیا ہے ۔۔۔
بہت شکریہ و آداب عابی صاحب۔۔۔
جاسمن — جولائی 9، 2020 3:46 صبح
واہ واہ!
بہت سی داد۔
رضوان راز — جولائی 9، 2020 5:58 صبح
سیدی، مرشدی بہت خوب غزل ہے حضور
سید عاطف علی — اپریل 6، 2024 12:54 صبح
واہ واہ!
بہت سی داد۔
سیدی، مرشدی بہت خوب غزل ہے حضور
آداب و تشکر۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 19، 2024 1:38 شام
زیر ِزمین گھر کا نہ گزرا ہمیں خیال
ہم زیر ِآسمان اماں ڈھونڈتے رہے
کیا بات ہے لاجواب شاہ جی
سید عاطف علی — اپریل 19، 2024 2:04 شام
سیدی، مرشدی بہت خوب غزل ہے حضور
بہت آداب و تشکر رضوان راز صاحب ۔
عرفان علوی — اپریل 20، 2024 3:31 شام
عید الاضحی کے دن میری آٹھویں غزل کے بعد
ایک تازہ غزل پیش ہےتمام احبابِ محفلین کے لیے۔
کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
ہم لامکاں میں ایک مکاں ڈھونڈتے رہے
مسحور اک طلسم ِ ندیدہ سے عمر بھر
تھامے چراغ تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
زیر ِزمین گھر کا نہ گزرا ہمیں خیال
ہم زیر ِآسمان اماں ڈھونڈتے رہے
افسانہ جوئے شیر کا سن کر تڑپ اٹھے
تیشہ بدست کوہ گراں ڈھونڈتے رہے
دیوانہ وار جشن ِبہاراں کو چھوڑ کر
مستانہ وار فصل ِخزاں ڈھونڈتے رہے
خاطر میں لائے خار مغیلاں کبھی نہ ہم
گم گشتہ وہ ہی محمل ِ جاں ڈھونڈتے رہے
دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی
صحرا میں آکےآب رواں ڈھونڈتے رہے
تسلیم شیخ جی کی کرامت ہمیں مگر
بیعت کو دستِ پیر مغاں ڈھونڈتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید عاطف علی​
عمدہ غزل ہے ، عاطف بھائی . داد حاضر ہے .
سید عاطف علی — اپریل 20، 2024 5:00 شام
کیا بات ہے لاجواب شاہ جی
عمدہ غزل ہے ، عاطف بھائی . داد حاضر ہے .
صد آداب و تشکر علوی صاحب اور نقیبی بھائی ، ممنون ہوں ۔
سیما علی — اپریل 20، 2024 5:24 شام
کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
ہم لامکاں میں ایک مکاں ڈھونڈتے رہے
بے حد کمال !
ڈھیروں داد قبول کیجیے ۔۔
عمدہ غزل !
دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی
صحرا میں آکےآب رواں ڈھونڈتے رہے
کیا کہنے !
صحرا میں آ کے آب رواں ڈھونڈتے رہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA-%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%DB%92-%D8%B1%DB%81%DB%92.78242/