میری ایک غزل-آصف شفیع

آصف شفیع — اکتوبر 5، 2008 9:25 صبح
میری کتاب" ذرا جو تم ٹھر جاتے" سے ایک غزل:
اور اب یہ بات دل بھی مانتا ہے
وہ میری دسترس سے ماورا ہے
چلو کوئی ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں
ہوا کا زور بڑھتا جا رہا ہے
مرے دل میں سمندر سا تلاطم
مری آنکھوں سے چشمہ پھوٹتا ہے
صدا کوئی سنائی دے تو کیسے
مرے گھر میں خلا اندر خلا ہے
زمانہ ہٹ چکا پیچھے کبھی کا
اور اب تو صرف اپنا سامنا ہے
میں چپ ہوں، اب اسے کیسے بتاؤں
کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
محمد وارث — اکتوبر 5، 2008 5:19 شام
بہت خوبصورت غزل ہے آپ کی آصف صاحب، بہت خوب!
ناہید — اکتوبر 5، 2008 5:41 شام
میں چپ ہوں، اب اسے کیسے بتاؤں
کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
واہ، بہت خوبصورت غزل ہے۔ اتنی زرخیز زمین میں اتنے کم شعر؟
لیکن یہ بھی عمدہ ہیں۔ داد!
شکریہ
ناہید
آصف شفیع — اکتوبر 5، 2008 8:22 شام
بہت خوبصورت غزل ہے آپ کی آصف صاحب، بہت خوب!

سر ! بہت شکریہ آپ کا۔
آصف شفیع — اکتوبر 5، 2008 8:24 شام
میں چپ ہوں، اب اسے کیسے بتاؤں
کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
واہ، بہت خوبصورت غزل ہے۔ اتنی زرخیز زمین میں اتنے کم شعر؟
لیکن یہ بھی عمدہ ہیں۔ داد!
شکریہ
ناہید

شکریہ ناہید صاحبہ۔ جو شعر آپ نے کوٹ کیا وہ مجھے بھی پسند ہے۔ دادا کا بہت شکریہ۔
ایم اے راجا — اکتوبر 8، 2008 6:45 شام
بہت خوب آصف صاحب داد قبول ہو
فرخ منظور — اکتوبر 8، 2008 7:37 شام
بہت اچھی غزل ہے - شکریہ آصف صاحب!‌

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.15454/