میری تازہ غزل ۔ قیودِ زیست نے مشکل میں ڈال رکھا ہے

سید عاطف علی — مئی 9، 2014 2:24 شام
ایک قدرے تازہ غزل پیش ہے۔احباب کی نظروں کی نذر۔ (تنقیدو تبصرہ بسرو چشم۔)
قیودِ زیست نے مشکل میں ڈال رکھا ہے
ترے خیال نے لیکن، سنبھال رکھا ہے
۔۔۔
جو تیرے سامنے ہم نے سوال رکھا ہے
یہی سمجھ لے کہ امرِ محال رکھا ہے
۔۔۔
جو زخم تجھ سے نہ دیکھا گیا نظر بھر کے
وہ ہم نے ایک زمانے سے پال رکھا ہے
۔۔۔
کسے ہو تا ب ،کہ تجھ کو نظر لگائے ذرا
کہ زیبِ عارض گلگوں یہ خال رکھا ہے
۔۔۔
حریفِ ثروتِ قارون ہم بھی ہیں کہ یہاں
خزینہء ِ غم و حزن و ملال ،رکھا ہے
۔۔۔
یہ آبگینے سجائے ہیں شیخ جی کے لیے
اور اپنے واسطے جام ِ سفال رکھا ہے
؎۔۔۔
چہکتے پھرتے عنادل سے کاش کہہ دے کوئی
کہ پہلوئے گلِ تر میں بھی جال رکھا ہے
۔۔۔
تمہارےکاکل پیچاں میں ہے یہ قلب ِ اسیر
اسی لیے تو پس ِپشت ڈال رکھا ہے
۔۔۔
یہ منصفی کی دلیلیں وضاحتیں کیا جب ؟
ہمارا نام ہی غیروں میں ڈال رکھا ہے
۔۔۔
قیصرانی — مئی 9، 2014 2:42 شام
تکنیکی باتیں تو اساتذہ جانیں، مگر یہاں لیکن کی جگہ مگر آ سکتا ہے؟
ترے خیال نے لیکن، سنبھال رکھا ہے
سید عاطف علی — مئی 9، 2014 2:48 شام
تکنیکی باتیں تو اساتذہ جانیں، مگر یہاں لیکن کی جگہ مگر آ سکتا ہے؟
جی ہاں ، معنوی طور پر تو ضرور آسکتا ہے۔لیکن اوزان اور بحر (مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فعلن) کے تقاضےکے مطابق الفاظ کی ترتیب بدلنی پڑے گی۔
ساقی۔ — مئی 9، 2014 3:03 شام
واہ ! زبردست غزل ہے ۔
آخری شعر مجھے یوں دکھائی دیا۔
یہ منصفی کی دلیلیں وضاحتیں کیا جب ؟
ہمارا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے :)
سید عاطف علی — مئی 9، 2014 4:40 شام
واہ ! زبردست غزل ہے ۔
آخری شعر مجھے یوں دکھائی دیا۔
یہ منصفی کی دلیلیں وضاحتیں کیا جب ؟
ہمارا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے :)
زبردست ۔
ساقی۔ بھائی ۔یہ ای سی ایل بھی انہی " ٖقیود ِ زیست " میں سے ہے جن کا ذکر مطلع میں کیا گیا ہے۔
محمد علم اللہ — مئی 9، 2014 4:43 شام
کیا بات ہے بھائی جان آج کل کوب غزل کہہ رہے ماشاء اللہ
جو زخم تجھ سے نہ دیکھا گیا نظر بھر کے
وہ ہم نے ایک زمانے سے پال رکھا ہے
مہدی نقوی حجاز — مئی 9، 2014 4:47 شام
خوب
سید عاطف علی — مئی 9، 2014 6:22 شام
کیا بات ہے بھائی جان آج کل کوب غزل کہہ رہے ماشاء اللہ
جو زخم تجھ سے نہ دیکھا گیا نظر بھر کے
وہ ہم نے ایک زمانے سے پال رکھا ہے
شکریہ بھیّا ۔:)
سید عاطف علی — مئی 10، 2014 7:47 صبح
آداب
محمد یعقوب آسی — مئی 10، 2014 7:57 صبح
ایک قدرے تازہ غزل پیش ہے۔احباب کی نظروں کی نذر۔ (تنقیدو تبصرہ بسرو چشم۔)
قیودِ زیست نے مشکل میں ڈال رکھا ہے
ترے خیال نے لیکن، سنبھال رکھا ہے
۔۔۔
جو تیرے سامنے ہم نے سوال رکھا ہے
یہی سمجھ لے کہ امرِ محال رکھا ہے
۔۔۔
جو زخم تجھ سے نہ دیکھا گیا نظر بھر کے
وہ ہم نے ایک زمانے سے پال رکھا ہے
۔۔۔
کسے ہو تا ب ،کہ تجھ کو نظر لگائے ذرا
کہ زیبِ عارض گلگوں یہ خال رکھا ہے
۔۔۔
حریفِ ثروتِ قارون ہم بھی ہیں کہ یہاں
خزینہء ِ غم و حزن و ملال ،رکھا ہے
۔۔۔
یہ آبگینے سجائے ہیں شیخ جی کے لیے
اور اپنے واسطے جام ِ سفال رکھا ہے
؎۔۔۔
چہکتے پھرتے عنادل سے کاش کہہ دے کوئی
کہ پہلوئے گلِ تر میں بھی جال رکھا ہے
۔۔۔
تمہارےکاکل پیچاں میں ہے یہ قلب ِ اسیر
اسی لیے تو پس ِپشت ڈال رکھا ہے
۔۔۔
یہ منصفی کی دلیلیں وضاحتیں کیا جب ؟
ہمارا نام ہی غیروں میں ڈال رکھا ہے
۔۔۔

ایک عمدہ غزل ہے روایت جڑی ہوئی اور ’’ قدرے تازہ ‘‘۔
یہ مصرع لفظی سطح پر کچھ بوجھل سا لگ رہا ہے:
چہکتے پھرتے عنادل سے کاش کہہ دے کوئی
توجہ فرمائیے گا۔
تمہارےکاکل پیچاں میں ہے یہ قلب ِ اسیر
اسی لیے تو پس ِپشت ڈال رکھا ہے
پَسِ پُشت ڈالنے والی بات بہت خوب کہی۔ عمدہ اور نزاکت آمیز مضمون آفرینی ہے۔
اور ۔۔۔ یہ شعر بھی خوب ہے!
یہ آبگینے سجائے ہیں شیخ جی کے لیے
اور اپنے واسطے جام ِ سفال رکھا ہے

خوش رہئے۔
محمداحمد — مئی 10، 2014 7:59 صبح
واہ واہ واہ
بہت اچھی غزل ہے عاطف صاحب۔۔۔۔!
محمد وارث — مئی 10، 2014 9:58 صبح
خوبصورت غزل ہے سید صاحب، بہت پسند آئی، داد قبول کیجیے محترم۔
سید عاطف علی — مئی 10، 2014 10:38 صبح
خوبصورت غزل ہے سید صاحب، بہت پسند آئی، داد قبول کیجیے محترم۔
بصدامتنان۔ وارث بھائی ۔آداب
سید عاطف علی — مئی 10، 2014 11:37 صبح
واہ واہ واہ
بہت اچھی غزل ہے عاطف صاحب۔۔۔ ۔!
بہت شکریہ ا ور بہت آداب محمداحمد بھائی۔
مہدی نقوی حجاز — مئی 10، 2014 7:00 شام
تسلیم!
الف عین — مئی 11، 2014 4:08 صبح
بہت خوب عاطف۔ کیا آج تک محض یہ تین ہی غزلیں کہی ہیں؟
سید عاطف علی — مئی 11، 2014 7:16 صبح
بہت خوب عاطف۔ کیا آج تک محض یہ تین ہی غزلیں کہی ہیں؟
چند ایک اور ہیں مگر زیادہ نہیں۔در اصل حال ہی میں کہنا شروع کیا ہے زیادہ مشق نہیں ۔
الف عین — مئی 11، 2014 7:34 صبح
یہ حال ہی کا عالم ہے تو پھر کمال کسے کہیں گے؟
چند ایک اور ہیں مگر زیادہ نہیں۔در اصل حال ہی میں کہنا شروع کیا ہے زیادہ مشق نہیں ۔
محمد محبوب — مئی 11، 2014 8:17 صبح
حریفِ ثروتِ قارون ہم بھی ہیں کہ یہاں
خزینہء ِ غم و حزن و ملال ،رکھا ہے
تمہارےکاکل پیچاں میں ہے یہ قلب ِ اسیر
اسی لیے تو پس ِپشت ڈال رکھا ہے
:best:
واہ صاحب کیا کہنے :)
سید عاطف علی — مئی 11، 2014 8:40 صبح
یہ حال ہی کا عالم ہے تو پھر کمال کسے کہیں گے؟
اعجاز بھائی۔آپ کی ذرہ نوازی کے آکے تو حاتم بخشیاں بھی ہیچ ہیں ۔ یہ سب آپ جیسے اساتذہ کی رہنمائی اور احباب کی دوستانہ پذیرائی کا ثمر ہے۔
شکریہ و آداب۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D9%82%DB%8C%D9%88%D8%AF%D9%90-%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%D8%A7%D9%84-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92.74177/