فرخ منظور — مئی 3، 2008 9:20 صبح
دل کے صحرا میں اب حباب کہاں
تشنگی دیکھے ہے سراب کہاں
جو کہا میں نے "ہے حجاب کہاں؟"
مجھ سے بولیں کہ "اب شباب کہاں"
اک نگہ میں ہی جو کرے گھائل
تیری تیغوں میں ایسی آب کہاں
جس کو دیکھوں تو چاہتا جاؤں
ایسا نکھرا مگرشباب کہاں
بے طلب ہم کو جو کرے سیراب
ایسا دریا کہاں، سحاب کہاں
مکتبِ عشق "مَیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاں
جس کو پڑھ کر سبھی کو ہو ایقاں
میرے مولا ہے وہ کتاب کہاں
ماورا کردے دو جہاں سے مجھے
تیری آنکھوں میں وہ شراب کہاں
یونہی ہم نے تھا ذکرِ یار کیا
چل دئیے روٹھ کر جناب کہاں
کیا بتاؤں کہ کتنے عشق کیے
میرے فرخ ابھی حساب کہاں
سارہ خان — مئی 3، 2008 12:29 شام
اچھی کوشش ہے سخنور جاری رکھیں۔۔۔
فرخ منظور — مئی 3، 2008 12:36 شام
بہت شکریہ سارہ خان -
محمد وارث — مئی 3، 2008 12:45 شام
واہ واہ، سبحان اللہ، کیا خوبصورت غزل ہے فرخ صاحب۔یہ اشعار تو خاص طور پر بہت پسند آئے مجھے:
دل کے صحرا میں اب حباب کہاں
تشنگی دیکھے ہے سراب کہاں
مکتبِ عشق "مِیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاں
یونہی ہم نے تھا ذکرِ یار کیا
چل دئیے روٹھ کر جناب کہاں
الف عین — مئی 3، 2008 12:46 شام
بشیر بد ؎ر کی زمین ہے یہ
نکل آئے ادھر جکناب کہاں
رات کے وقت آفتاب کہاں
سب کھلے ہیں کسی کے عارض پر
اس برس باغ میں گلاب کہاں
فرخ منظور — مئی 3، 2008 12:49 شام
بہت شکریہ وارث صاحب اور اعجاز صاحب! اعجاز صاحب یہ بھی بتائیے کہ غزل اچھی ہے یا بری اور بغیر لگی لپٹی رکھے -

فرخ منظور — مئی 3، 2008 12:51 شام
بشیر بد ؎ر کی زمین ہے یہ
نکل آئے ادھر جکناب کہاں
رات کے وقت آفتاب کہاں
سب کھلے ہیں کسی کے عارض پر
اس برس باغ میں گلاب کہاں
اعجاز صاحب میں بشیر بدر کو تو پڑھتا ہی نہیں - میں نے تو ایک داغ کا شعر پڑھا جس سے غزل کی تحریک ہوئی وہ شعر تھا -
بات کرنی جسے نہیں آتی
بات سننے کی اس کو تاب کہاں
فاتح — مئی 3، 2008 3:01 شام
بہت خوب فرخ صاحب!
ابھی اسے 'مزید' توجہ سے پڑھتا ہوں اور شاید تب محض خوب کے سوا بھی کچھ لکھنا پڑ جائے۔
مغزل — مئی 3، 2008 3:06 شام
[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"]بھئی واہ ۔۔ فرخ صاحب۔۔
مزا آگیا۔۔ ایسی سجی سجائی، مرصع غزل ۔۔۔
جناب لگتا ہی نہیں ہے کہ دوسری غزل ہے ۔۔
داغ صاحب کی زمین کا حق ادا کردیا جناب۔۔
واہ۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔۔ داد حاضر ہے
گر قبول افتد زہے عزوشرف[/FONT]
الف عین — مئی 4، 2008 6:02 صبح
اچھی غزل ہے فرخ۔۔ بس دو ایک شعر ذرا ۔۔۔ مطلب غزل کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔
فرخ منظور — مئی 4، 2008 11:35 صبح
[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"]بھئی واہ ۔۔ فرخ صاحب۔۔
مزا آگیا۔۔ ایسی سجی سجائی، مرصع غزل ۔۔۔
جناب لگتا ہی نہیں ہے کہ دوسری غزل ہے ۔۔
داغ صاحب کی زمین کا حق ادا کردیا جناب۔۔
واہ۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔۔ داد حاضر ہے
گر قبول افتد زہے عزوشرف[/FONT]
بہت شکریہ مغل صاحب !
فرخ منظور — مئی 4، 2008 11:38 صبح
اچھی غزل ہے فرخ۔۔ بس دو ایک شعر ذرا ۔۔۔ مطلب غزل کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اعجاز صاحب ان اشعار کی نشاندہی فرما دیجئے تاکہ مجھے بھی اندازہ ہو جائے -
خرم شہزاد خرم — مئی 5، 2008 6:28 صبح
مکتبِ عشق "مِیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاںفرح بھائی بہت خوب کیا بات ہے آپ کی غزل کی مجھے یہ شعر بہت ہی پسند آیا مجھے تو نہیں لگتا یہ آپ کی دوسری غزل ہے وارث صاحب آپ ہی بتائے کیا ان کی دوسری غزل ہے

بہت بہت ہی پیاری غزل ہے جاری رکھے ہمیں بھی کچھ نا کچھ سیکھنے کو مل ہی جائے گا شکریہ
فرخ منظور — مئی 5، 2008 11:47 صبح
مکتبِ عشق "مِیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاںفرح بھائی بہت خوب کیا بات ہے آپ کی غزل کی مجھے یہ شعر بہت ہی پسند آیا مجھے تو نہیں لگتا یہ آپ کی دوسری غزل ہے وارث صاحب آپ ہی بتائے کیا ان کی دوسری غزل ہے

بہت بہت ہی پیاری غزل ہے جاری رکھے ہمیں بھی کچھ نا کچھ سیکھنے کو مل ہی جائے گا شکریہ
بہت بہت شکریہ خرم بھائی!

لیکن اگر کوئی خامی نظر آئے یا کوئی شعر پسند نہ آیا ہو تو وہ بھی لکھیے گا -

زھرا علوی — مئی 5، 2008 12:00 شام
خوبصورت کلام ہے جناب۔۔۔۔۔
شکریہ قبول کیجیے۔۔۔۔۔
فرخ منظور — مئی 5، 2008 1:02 شام
خوبصورت کلام ہے جناب۔۔۔۔۔
شکریہ قبول کیجیے۔۔۔۔۔
بہت بہت شکریہ زہرا علوی صاحبہ ! آپ کا شکریہ بصدِ شکریہ قبول کیا -

عمار ابن ضیا — مئی 5، 2008 1:06 شام
بہت خوب بھئی۔ کمال لکھتے ہیں آپ۔
فرخ منظور — مئی 5، 2008 2:56 شام
بہت خوب بھئی۔ کمال لکھتے ہیں آپ۔
بہت شکریہ راہبر -
محمد وارث — مئی 5، 2008 3:25 شام
فرخ منظور — مئی 5، 2008 3:32 شام
بہت شکریہ وارث صاحب لیکن آپ کو جو شعر پسند نہیں آئے انکی بھی نشاندہی کریںاور بتائیںکہ کیا کجیاں نظر آئی ہیںآپ کو -
