میری شاعری

زیب جاوید شامی — جنوری 21، 2014 9:15 صبح
میں اپنی کاوش، یہاں موجود اساتذہ اور دوستوں سے بغرض اصلاح شئیر کر رہا ہوں۔۔۔۔
مَیں بھی ممبرِ بستی ءِ وجدان ہو گیا
مَیں بےجان تھا کِسی کی جان ہوگیا
بَس رہا تھا کہیں خَیال سے پَرے
اتفا قاً پھرمَیں اس کا گُمان ہو گیا
یُوں تو اپنی ذات نہ تھی کبھی عیاں
اَب ہوں کہ مَیں سب کا گیان ہوگیا
نَزع نے کر دیا یُوں توانا پِھر سے
مَرا یُوں کہ پِھرسے جوان ہو گیا
اُتارا یُوں اُس نے دل سے ہمیں
غریب کسان پہ بوجھ لگان ہو گیا
(زیب جاوید شامی)
ایوب ناطق — جنوری 21، 2014 9:25 صبح
اسے اصلاحِ سخن کی لڑی میں پیش کیجیے تاکہ اساتذہ کی نظر سے گزرے ۔۔ شکریہ
الف عین — جنوری 21، 2014 4:25 شام
ردیف قافیئے کے علاوہ ایک چیز بحر بھی ہوتی ہے۔ بس غزل میں اسی کی کمی ہے
زیب جاوید شامی — جنوری 22، 2014 5:37 صبح
شکریہ جناب۔ مَیں نے اِسی لئے پہلے ہی اعتراف کر لیا تھا کہ مجھے عروض کا کوئی علم نہیں۔ اس مقصد کے لئے ہی آپ لوگوں کے فورم کا ممبر بنا ہوں۔ آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے بحور کو سمجھنے اور سیکھنے کے لئے۔
ابن رضا — جنوری 22، 2014 5:45 صبح
شکریہ جناب۔ مَیں نے اِسی لئے پہلے ہی اعتراف کر لیا تھا کہ مجھے عروض کا کوئی علم نہیں۔ اس مقصد کے لئے ہی آپ لوگوں کے فورم کا ممبر بنا ہوں۔ آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے بحور کو سمجھنے اور سیکھنے کے لئے۔
مشورہ یہ ہے کہ علم عروض سے متعلق اصلاحِ سُخن کے زمرے بھی کافی مواد میسر ہے۔ وہ دیکھیں اس کے علاوہ اسی زمرے میں دیگر حضرات کی شاعری پر اساتذہ کی اصلاح ملاحظہ فرمائیں
ساقی۔ — جنوری 22، 2014 6:13 صبح
عروض ڈاٹ کام سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے
ابن رضا — جنوری 22، 2014 6:46 صبح
مگر مانوس مستعمل بحور ،مشتسنیات و رعایات ، تقطیع کے طریقوں سے آشنائی کے بغیر بے سود ہوگا۔ اس لیے پہلے بنیادی باتوں کا ادراک حاصل کریں اور پھر رفتہ رفتہ پیش رفت فرمائیں۔
آپ کے اشعار
متقارب مثمن محذوف
کے قریب ترین ہیں بشکریہ [URL='http://www.aruuz.com']www.aruuz.com[/URL]
اس بحر کے ارکان یہ ہیں
فَعولن فَعولن فَعولن فَعَل
اعشاری نظام میں انہی ارکان کو یوں لکھا جا سکتا ہے
221 221 221 21
یہاں 1 سے مراد ہجائے کوتاہ (ہجائے کوتاہ مطلب یک حرفی لفظ جیسے کہ نہ کو نَ ، میں کو مِ باندھنا)
اور 2 سے مراد ہجائے بلند (دو حرفی لفظ جیسے جان میں جا ہجائے بلند ہے اور ن ہجائے کوتاہ اور مجموئی طور پر لفظ جان کو سببِ خفیف کہا جائے گا)
اب آپ ہی کے ایک مصرے کی تقطیع کر کے وزن کا ادراک حاصل کرتے ہیں
مَرا یُوں کہ پِھرسے جواں ہو گیا
فعولن : 221 : مَ را یو (یہاں یوں کا نون غنہ تقطیع سے خارج کر دیا گیا)
فعولن : 221 : کِ پھر سے ( یہاں کہ کی ہ گرا کر ک کے نیچے زیر لگا کر وہی آواز حاصل کر لی گئی)
فعولن : 221 : جَ وا ہو (یہاں جواں کا نون غنہ تقطیع سے خارج کر دیا گیا)
فَعل : 21 : گ یا
(اس طرز کا بے شمار مواد آپ کو اصلاحِ سخن کےزمرےمیں بصورت تلاش میسر ہو گا)
ساقی۔ — جنوری 22، 2014 7:08 صبح
مگر مانوس مستعمل بحور ،مشتسنیات و رعایات ، تقطیع کے طریقوں سے آشنائی کے بغیر بے سود ہوگا۔ اس لیے پہلے بنیادی باتوں کا ادراک حاصل کریں اور پھر رفتہ رفتہ پیش رفت فرمائیں

ٹھیک ہے پھر یہاں زور بازو بڑھانے کی کسرت کریں
زیب جاوید شامی — جنوری 25، 2014 5:37 صبح
بہت بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C.71375/