میری غزل - رازِ معراجِ ظاہرا کیا ہے

محمد وارث — اگست 6، 2007 3:29 شام
محترم اراکینِ محفل، آپکی خدمت میں اپنی ایک ابتدائے غزل گوئی کے زمانے کی، یعنی چار پانچ مہینے پرانی غزل پیش کر رہا ہوں۔ :)
سرشاری کا زمانہ تھا، اور اس سرشاری میں یہ بھی بھول گیا کہ خلد آشیانی نجم الدولہ، دبیر الملک مرزا اسد اللہ خان غالب کی ہی زمین استعمال کر ڈالی، یہ سرشاری بعد میں شرمساری میں تو ضرور تبدیل ہوئی، بہرحال غزل حاضرِ خدمت ہے، امید ہے اپنی بیش قیمت آرا سے نوازیں گے۔
رازِ معراجِ ظاہرا کیا ہے
شانِ احمد، مرے خدا کیا ہے

راہِ عشقِ بتاں میں کب سوچا
ابتدا کیا تھی، انتہا کیا ہے

جلوہ گر ہے جمالِ واحد ہی
ہم نہ جانیں کہ دوسرا کیا ہے

بے خودیء وصال میں بُھولا
اُس سے یہ کہنا کہ رضا کیا ہے

اِس ہنسی سے نہ دھوکہ دو ہم کو
حالِ دل اب تُو سچ بتا کیا ہے

وہ مقامِ بقا پہ ہیں فائز
جانتے ہیں جو کہ فنا کیا ہے


سینہء دو جہاں نما میں اب
دردِ دل کے سوا رہا کیا ہے

حورِ جنت کے آگے اے واعظ
نازنیں کون، دل رُبا کیا ہے

بھوک پھیلی ہے چار سُو یا رب
کھیت میں کنزِ بے بہا کیا ہے

جو اسد ہے غزل سرا ایسے
شرم پھر میرے غالِبا کیا ہے

۔
فاتح — اگست 7، 2007 12:09 صبح
بہت خوب وارث صاحب۔ ماشاء اللہ کیا تصوفانہ طرز اختیار کی ہے غزل میں۔
یار لوگ تو قُدَما کی زمینوں میں لکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور آپ عالمِ "سرشاری" میں‌ کہہ گئے۔ :)
Dilkash — اگست 7، 2007 12:17 صبح
وارث بھائی۔۔زبردست۔۔
واہ واہ سبحان اللہ
محمد وارث — اگست 7، 2007 5:01 صبح
بہت خوب وارث صاحب۔ ماشاء اللہ کیا تصوفانہ طرز اختیار کی ہے غزل میں۔
یار لوگ تو قُدَما کی زمینوں میں لکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور آپ عالمِ "سرشاری" میں‌ کہہ گئے۔ :)

فاتح بھائی اہتمام سے ہی لکھا تھا اور سرشاری اس بات کی تھی کہ "غالب" کی زمین استعمال کررہا ہوں، کہ عروض میں شدھ بدھ حاصل ہوجانا بغیر کسی استاد کے میرے لیے کسی "قلعہ" کو فتح کرنے سے کم نہیں تھا۔
آپ کی پسندیدگی کیلیے بہت شکریہ۔
۔
محمد وارث — اگست 7، 2007 5:03 صبح
وارث بھائی۔۔زبردست۔۔
واہ واہ سبحان اللہ

فیروز خان آفریدی بھائی، بہت شکریہ آپکی پسندیدگی کیلیے۔ نوازش۔
۔
silent.killer — اکتوبر 24، 2007 6:15 شام
ہر بار کی طرح عمدہ
محمد وارث — اکتوبر 25، 2007 12:28 شام

شکریہ جناب، نوازش
جاسمن — دسمبر 22، 2015 10:34 صبح
بہت خوب!
آوازِ دوست — دسمبر 22، 2015 10:39 صبح
وارث بھائی غالب کی زمینوں کے ورثے سے خوب استفادہ کیا آپ نے :)
محمد وارث — دسمبر 22، 2015 11:05 صبح
وارث بھائی غالب کی زمینوں کے ورثے سے خوب استفادہ کیا آپ نے :)

میرا نہیں خیال کہ اس غزل کے علاوہ میں نے کوئی ایسی جرات کی ہو، اور یہ بھی عالم طفولیت کا واقعہ ہے، مدت ہوئی میں شاعری ہی سے تائب ہو چکا :)
ویسے اس غزل کو اب پڑھ کے خود ہی شرم سی آ رہی ہے۔
اکمل زیدی — دسمبر 22، 2015 11:09 صبح
مرزا اسد اللہ خان غالب کی ہی زمین استعمال کر ڈالی، یہ سرشاری بعد میں شرمساری میں تو ضرور تبدیل ہوئی
اتنی شرمساری کا اظہارے یقینن آپ کی انکساری کا مظہر ہے ...خیر ..یہ شاعری ...آپ نے زمین سے استفادہ کیا مگر اس میں آپ نے لفظوں سے پھول ہی کھلائے ...کم از کم کسی ناقدرے نے تو استعمال نہیں کی ...ورنہ غالب کی روح کے تڑپنے سے پہلے سے ۔یہاں صاحب ذوق۔ مچلتے۔
اب تھوڑا سا آپ کی غزل کی طرف ...صاحبان ..نظر موجود ہیں ..بہتر تبصرہ کرینگے ..عجیب سا لگتا ہے کچھ اصلاحی طور پر نشاندہی کرنا کچھ گستاخی سی .. وہ بھی آپ جیسے صاحب نظر اور اور صاحب ذوق کی تحریر پر پھر بھی ...جو کچھ یہاں سے سیکھا ہے اسی کو پیش نظر رکھ کر ....صرف اتنا عرض کرونگا کے ....
رازِ معراجِ ظاہرا کیا ہے
شانِ احمد، مرے خدا کیا ہے

اسمیں اگر استہفامیہ علامت دے دی جائے ...تو ....بہتر نہیں ہوگا باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں ...
جہاں جہاں بھی ضرورت ہے اشعار میں کچھ جگہ اگر روک کر پڑھا تو اچھا تأثر بنے گا جیسے
اِس ہنسی سے نہ دھوکہ دو ہم کو
حالِ دل، اب تُو سچ بتا کیا ہے ؟
جو اسد ہے غزل سرا ایسے
شرم پھر میرے غالِبا کیا ہے
اس شعر یا مقطع سے آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کے آپ کس کی زمین پر ہیں اسد بھی ہے غالبا بھی ہے۔
محمد وارث — دسمبر 22، 2015 11:11 صبح
شکریہ قبلہ محترم زیدی صاحب، یہ غزل تو بس اب ایسے ہی ہے کہ جیسے توبہ کے بعد کبھی کبھار بیتے ہوئے گناہ یاد آ جائیں :)
اکمل زیدی — دسمبر 22، 2015 11:15 صبح
شکریہ قبلہ محترم زیدی صاحب، یہ غزل تو بس اب ایسے ہی ہے کہ جیسے توبہ کے بعد کبھی کبھار بیتے ہوئے گناہ یاد آ جائیں :)
ایسے نہ کہیں ...اس سے تو گناہ کی بخسش کا سامان ہوگا
وہ مقامِ بقا پہ ہیں فائز
جانتے ہیں جو کہ فنا کیا ہے
جب وسیلہ مقام بقا والے کا ہے تو پھر فنا کا کیا ڈر بلکے پھر تو فنا ہے ہی نہیں . ڈریں وہ جن کی فاتحہ نہ درود ...
آوازِ دوست — دسمبر 22، 2015 5:00 شام
میرا نہیں خیال کہ اس غزل کے علاوہ میں نے کوئی ایسی جرات کی ہو، اور یہ بھی عالم طفولیت کا واقعہ ہے، مدت ہوئی میں شاعری ہی سے تائب ہو چکا :)
ویسے اس غزل کو اب پڑھ کے خود ہی شرم سی آ رہی ہے۔
دیکھیے آپ کے شعور کی ترقی کہ اپنی سابقہ کاوشوں پر خود سے شرمندہ ہونے کے قابل ہو گئے ہیں پر افسوس ہمیں اب بھی اپنی ایسی جسارتوں پر شرمندگی نہیں ہوتی تاوقتیکہ احباب بھرپور کوشش سے ہمیں اپنے علمِ عروض سے گھیر گھار کے چاروں شانے چت نہ کر دیں :)
حمیرا عدنان — دسمبر 22، 2015 6:16 شام
بہت خوب وارث بھائی
محمد وارث — دسمبر 23، 2015 3:07 صبح
آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ :)
محمد تابش صدیقی — دسمبر 23، 2015 3:28 صبح
آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ :)
میری طرف سے اگر منفی ریٹنگ کا نوٹیفکیشن آیا ہو تو معذرت۔ یہ سمارٹ فون کا ٹچ بعض اوقات ایسی حرکت کروا جاتا ہے۔
اور خوبصورت غزل کے لیے بہت سی داد۔ :)
محمد وارث — دسمبر 23، 2015 3:38 صبح
میری طرف سے اگر منفی ریٹنگ کا نوٹیفکیشن آیا ہو تو معذرت۔ یہ سمارٹ فون کا ٹچ بعض اوقات ایسی حرکت کروا جاتا ہے۔
اور خوبصورت غزل کے لیے بہت سی داد۔ :)

ذرہ نوازی ہے آپ کی صدیقی صاحب محترم، جزاک اللہ۔
اکمل زیدی — دسمبر 23، 2015 5:11 صبح
آپ کے شعور کی ترقی کہ اپنی سابقہ کاوشوں پر خود سے شرمندہ ہونے کے قابل ہو گئے
آپ اسے واقعن شرمندگی سے تعبیر کر رہے ہیں ... ؟ :)
اکمل زیدی — دسمبر 23، 2015 5:15 صبح
اگر منفی ریٹنگ کا نوٹیفکیشن آیا ہو تو معذرت۔ یہ سمارٹ فون کا ٹچ بعض اوقات ایسی حرکت کروا جاتا ہے۔
واقعی سمارٹ ہے پھر تو .......... :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B1%D8%A7%D8%B2%D9%90-%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%D9%90-%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.7845/