میری غزلیں تو گنگناؤ گے۔۔غزل

یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 8:55 صبح

غزل
میری غزلیں تو گنگناؤ گے
درد میرا کہاں سے لاؤ گے
بات کرنے سے ہچکچاؤ گے
حالِ دل کیسے بول پاؤ گے
بھیگو برسات میں کہ رات گئے
کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے
بوئے مے تو چلو گئی منھ سے
مست آنکھیں کہاں چھپاؤ گے ؟
اب تو حد ہو گئی ہے غم کی بھی
اب تو رو کر بہت ہنساؤ گے
شاؔہ مقطع بھی ہو گیا آخر
اب غزل یہ کسے سناؤ گے ؟​
صابرہ امین — جولائی 20، 2025 9:07 صبح
بہت خوبصورت، ماشااللہ!
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 10:59 صبح
بہت خوبصورت، ماشااللہ!
جزاک الله خیر
محمد عبدالرؤوف — جولائی 20، 2025 11:11 صبح
واہ واہ۔۔۔ بہت اچھی غزل ہے۔
میری غزلیں تو گنگناؤ گے
درد میرا کہاں سے لاؤ گے

بھیگو برسات میں کہ رات گئے
کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے

بوئے مے تو چلو گئی منھ سے
مست آنکھیں کہاں چھپاؤ گے ؟
بہت اچھی غزل ہے ۔ خاص طور پر مقتبس بالا اشعار
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 11:54 صبح
واہ واہ۔۔۔ بہت اچھی غزل ہے۔
بہت اچھی غزل ہے ۔ خاص طور پر مقتبس بالا اشعار
جزاک الله خیر روفی بھائی
سیما علی — جولائی 20، 2025 12:01 شام
اب تو حد ہو گئی ہے غم کی بھی
اب تو رو کر بہت ہنساؤ گے
بہت عمدہ
ماشاء اللہ بہت خوبصورت غزل۔
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 12:32 شام
بہت عمدہ
ماشاء اللہ بہت خوبصورت غزل۔
جزاک الله خیر
صریر — جولائی 20، 2025 3:19 شام
بھیگو برسات میں کہ رات گئے
کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے
ہائے ! 😢

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%DA%AF%D9%86%DA%AF%D9%86%D8%A7%D8%A4-%DA%AF%DB%92%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.121788/