منصور آفاق — جنوری 26، 2014 11:14 شام
دشمناں را ، دوستاں را شب بخیر
جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر
در فلک مانندِ نجم آوارہ ام
چاکرِ حسنِ بتاں را شب بخیر
خواب را سرمایہ ءآشوبِ دل
ساغراں را ساحراں را شب بخیر
از رخ ام صبحِ آسودہ گرفت
زلف ِ دوتا دلبراں را شب بخیر
صحبتِ چشمِ سکوں تسخیر کرد
شورشِ سوداگراں را شب بخیر
چینِ ابرودل کتاں آید بروں
پیشِ مرغِ آشیاں را شب بخیر
دیدہِ منصور از چشمم تمام
دامنِ پُرحسرتاں را شب بخیر
عظیم اللہ قریشی — جنوری 27، 2014 10:43 صبح
بہت عمدہ جناب
لئیق احمد — جنوری 27، 2014 11:05 صبح
صرف پہلا شعر ،
دشمناں را ، دوستاں را شب بخیر
جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر
کی مکمل سمجھ آئی باقی اشعار میں کسی کسی لفظ کی سمجھ آئی۔ لیکن پڑھنے میں بغیر سمجھے بھی اچھی لگی

عظیم اللہ قریشی — جنوری 27، 2014 3:19 شام
صرف پہلا شعر ،
دشمناں را ، دوستاں را شب بخیر
جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر
کی مکمل سمجھ آئی باقی اشعار میں کسی کسی لفظ کی سمجھ آئی۔ لیکن پڑھنے میں بغیر سمجھے بھی اچھی لگی
ارے لئیق احمد صاحب میں تو سمجھا تھا کہ آپ خط کا لفافہ دیکھ کر ہی اندر کا مضمون بھانپ لیتے ہونگیں
لئیق احمد — جنوری 27، 2014 3:23 شام
ارے لئیق احمد صاحب میں تو سمجھا تھا کہ آپ خط کا لفافہ دیکھ کر ہی اندر کا مضمون بھانپ لیتے ہونگیں
نہیں حضور میں آپ جیسا صاحب بصیرت نہیں مجھے ایک طالب علم ہی سمجھئیے

عظیم اللہ قریشی — جنوری 27، 2014 4:51 شام
نہیں حضور میں آپ جیسا صاحب بصیرت نہیں مجھے ایک طالب علم ہی سمجھئیے
چلیں جناب صاحبِ بصارت تو ہیں دعا کرتے ہیں کہ آپ صاحب بصیرت بھی ہوجائیں
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
منصور آفاق — جنوری 28، 2014 8:11 شام
شکریہ
قیصرانی — جنوری 28، 2014 8:23 شام
سادہ زبان، کچھ سمجھ بھی آئی

فاتح — جنوری 28، 2014 8:25 شام
نالۂ بسیار عالی محترم
خیلی زیبا طوطیاں را شب بخیر
سید عاطف علی — جنوری 28، 2014 8:54 شام
بہت خوب منصور بھائی بہت خوب ۔لہجے کا آہنگ بہت پسند آیا ۔بلند بھی اور دھیما بھی۔کچھ نکات ذہن میں ابھر رہے ہیں پھر عرض کروں گا ۔فی الحال شب بخیر۔
ما زنغمہ ہائے منصوریم مست
بلبلان ِ گلستاں را شب بخیر
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 2، 2014 8:49 صبح
عاطف بھائی! کونسے نکات؟
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 2، 2014 8:50 صبح
۔