میری ہستی قبول ہوجائے از روحانی بابا

عظیم اللہ قریشی — جولائی 1، 2010 12:52 شام
تیری رحمت شمول ہوجائے
میری ہستی قبول ہوجائے
ہم سے جو کوئی بھول ہو جائے
پیش رحمت رسول ہوجائے
تم سے ملنے کی آس گر نہ ہو
زندہ رہنا فضول ہوجائے
ان کی پیش نظر رہے صورت
زندگی بااصول ہوجائے
حور جودیکھ لے جمال تیرا
تیرے قدموں کی دھول ہوجائے
آج پھر دل کو بے قراری ہے
آج اُن کا نزول ہوجائے
آؤ اب ایسا کچھ کریں جاناں
کہ تو مجھ میں حلول ہوجائے
آدمی ہوں قصور کرتا ہوں
معاف کرنا جو بھول ہوجائے
کوئی ایسی نہ بات ہو بابا
جس سے وہ کچھ ملول ہوجائے
زندگی بے اصول ہے بابا
تو ملے تو اصول ہوجائے
خواجہ طلحہ — جولائی 1، 2010 1:43 شام
صنف کونسی ہے؟ شروع میں نعت لگ رہی ہے،اور آخر میں غزل
محمود احمد غزنوی — جولائی 1، 2010 1:47 شام
واہ جی واہ۔ ۔ بہت خوب
آج پھر دل کو بیقراری ہے
کاش انکا نزول ہوجائے:)
عظیم اللہ قریشی — جولائی 1، 2010 1:59 شام
خواجہ طلحہ صاحب بقول غالب
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیئے وسعت میرے بیاں کے لیئے
فاتح — جولائی 1، 2010 7:05 شام
واہ بہت خوب عظیم صاحب۔
مغزل — جولائی 2، 2010 9:33 شام
رسید حاضر ہے ، مزید تفصیل پھر سہی
الف عین — جولائی 4، 2010 6:24 صبح
ماشاء الہ۔ اچھا کہتے ہیں بابا۔ لیکن میرا مشورہ اگر قبول کر سکیں۔۔ کسی استاد کو دکھا لیا کریں تاکہ معمولی سا سقم بھی نہ رہے آپ کی شاعری میں۔
محمد شعیب خٹک — جولائی 4، 2010 6:40 صبح
ڈیر خہ ۔۔۔۔
عظیم اللہ قریشی — جولائی 4، 2010 6:45 صبح
الف عین صاحب آپ کے مشورے کا بہت بہت شکریہ
حضور والا حضور انور بندہ پرور عالی جناب!
دراصل ہم حد سے زیادہ نازک مزاج اور اناپرست شخصیت ہیں کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنا ہمارے مزاج،طبیعت اور فطرت کے خلاف ہے۔
حضور علم العروض سے اپنی واقفیت بھی واجبی سی ہے اور جو کلام ہم کہتے ہیں یہ الہامی ہوتا ہے ہم پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے جس کے زیر اثر ہم کو بعد میں جو یاد رہ جاتا ہے وہ ہم صفحہ قرطاس پر بکھیر لیتے ہیں۔
والسلام rohaani_babaa
محمود احمد غزنوی — جولائی 4، 2010 8:34 صبح
مزاج کی اصلاح کرلیجئے ناں:)
فرخ منظور — جولائی 4، 2010 10:28 صبح
مزاج کی اصلاح کرلیجئے ناں:)

حضور آپ بھی تو بابا جی کے پیرو کار ہیں۔ ;)
محمود احمد غزنوی — جولائی 4، 2010 10:46 صبح
تہمتِ چند اپنے سر دھر چلے;)
جیہ — جولائی 4، 2010 10:48 صبح
کس لئے آئے تھے اور کیا کر چلے :)
محمود احمد غزنوی — جولائی 4، 2010 10:52 صبح
:)
نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے وہی ہو۔ ۔
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے
جیہ — جولائی 4، 2010 10:57 صبح
سخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں
لاف دانش غلط و نفعِ عبارت معلوم
غالب
عظیم اللہ قریشی — جولائی 4، 2010 12:27 شام
مزاج کی اصلاح کرلیجئے ناں:)
محمود احمد غزنوی صاحب کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ پختہ عادات کبھی تبدیل نہیں ہوتی ہیں Nature can not be change
وہ آپ نے سنا نہیں
عادت بد تا گور نہ رود
ويمكن للطبيعة لا يمكن تغييرها
والسلام rohaani_babaa
محمود احمد غزنوی — جولائی 4، 2010 12:41 شام
پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر۔ ۔
کوہساروں میں نشانِ نقشِ پا ملتا نہیں
عظیم اللہ قریشی — جولائی 4، 2010 12:51 شام
ایسی بات نہیں ہے غزنوی صاحب
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اور یہ بھی یاد رکھیو اور ہوشیار رہیو
سسک رہیں ہیں طنابیں پرانے خیموں کی
زمانہ آخری یلغار کرنے والا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%A7.30439/