میرے اطراف میں اک آگ کا دریا پایا

شوکت پرویز — مئی 29، 2015 7:23 صبح
میرے اطراف میں اک آگ کا دریا پایا
جب بھی پایا مجھے حالات سے لڑتا پایا
ذہن کو اپنے کروڑوں سے بھی اعلیٰ پایا
لیکن اس دل سے ہمیشہ اسے ہارا پایا
زندگی کے سبھی پنّوں پہ سفر لکھّا تھا
اُس پہ رستوں کو بھی پُرخار ہمیشا پایا
ایک بجھتا سا چراغ اور مِری جاں بَلَبی
دیکھ لے موت نے گھر میں مِرے کیا کیا پایا
دشمن و دوست میں اب فرق کریں بھی کیسے
آستینوں میں یہاں سانپ کو پلتا پایا
دل مِرا غم کی سیہ شب کا مسافر تھا مگر
رخ پہ مسکان کے سورج کو چمکتا پایا
کیسی دنیا ہے کہ دنیا کے لئے مرتی ہے
مَیں نے اس کو تو بس اک کھیل تماشا پایا
اپنے دل پر کئی زخموں کے نشاں پائے ہیں
اس کی نظروں کا بہت ٹھیک نشانا پایا
مجھ سے مت پوچھ صنم! کیا ہے وفا کا حاصل
تُو سنا اپنی، کہ مَیں نے تو جو پایا، پایا
(شوکت پرویز)
کاشف اسرار احمد — مئی 30، 2015 3:03 شام
اچھی غزل ہے شوکت بھائی۔
یہ سمجھ نہیں آیا کہ یہاں:
میرے اطراف میں اک آگ کا دریا پایا
کہ یہ خطاب آخر کس سے کیا جا رہا ہے؟ خود پایا؟ یا کسی اور نے پایا؟
اور ساتھ ہی:
اُس پہ رستوں کو بھی پُرخار ہمیشا پایا
ہمیشا ؟ یا ہمیشہ ؟
اس کی نظروں کا بہت ٹھیک نشانا پایا
نشانا؟ یا نشانہ؟
کاشف اسرار احمد — مئی 30، 2015 3:13 شام
اپنے دل پر کئی زخموں کے نشاں پائے ہیں
اس کی نظروں کا بہت ٹھیک نشانا پایا
یہاں بھی ابلاغ کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ کئی زخم۔۔ تو کیا سب "اس" کے دیے ہوئے تھے؟ لیکن اس کا اشارہ تو کہیں موجود نہیں ہے۔
زندگی کے سبھی پنّوں پہ سفر لکھّا تھا
یہاں لفظ "پنّوں " کچھ مناسب نہیں لگ رہا۔ ہندی لفظ سے یہاں اجتناب کیا جا سکتا ہے۔
امید ہے اس دخل در (نا) معقولات کو گوارا کریں گے۔ ہم بھی طالب علم ہیں اور سیکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔
الف عین — مئی 31، 2015 1:53 صبح
کاشف کی بات سے متفق ہوں مطلع کی حد تک۔ اس کے علاوہ پنوں ہی نہیں مسکان سے بھی بچا جا سکتا تھا۔
کاشف اسرار احمد،قافئے کے لحاظ سے املا کی تبدیلی جائز ہے۔
کاشف اسرار احمد — مئی 31، 2015 1:53 شام
کاشف اسرار احمد ،قافئے کے لحاظ سے املا کی تبدیلی جائز ہے۔
بہت بہتر عبید سر ۔۔
شوکت پرویز — جون 2، 2015 7:15 صبح
کاشف کی بات سے متفق ہوں مطلع کی حد تک۔ اس کے علاوہ پنوں ہی نہیں مسکان سے بھی بچا جا سکتا تھا۔
زندگی کے سبھی صفحات پہ لِکّھا تھا سفر
اور
رُخ پہ خورشیدِ تبسّم کو چمکتا پایا
۔۔۔
انکل! یہ بہتر ہیں؟؟
الف عین — جون 3، 2015 2:53 صبح
زندگی کے سبھی صفحات پہ لِکّھا تھا سفر
اور
رُخ پہ خورشیدِ تبسّم کو چمکتا پایا
۔۔۔
انکل! یہ بہتر ہیں؟؟
یقیناً
شوکت پرویز — جون 3، 2015 6:04 صبح
ٹھیک ہے، تو اس کو کتاب میں حتمی کر لیتا ہوں۔ جزاک اللہ خیراً
:)
ابن رضا — جون 6، 2015 12:09 شام
داد و تحسین کے گل حاضرِ خدمت ہیں جناب
اس غزل کے سبھی شعروں کو مہکتا پایا:rose::rose::rose::rose:
شوکت پرویز — جون 6، 2015 4:12 شام
شکریہ ابن رضا بھائی!
آپ کا اندازِ تحسین بھی مہکتا ہوا ہے۔
۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ پہلے مصرع کے آخری میں جو "جی" ہے، اس کی جگہ "جناب" کرنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔ :)
۔۔۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ نے اصلاح کے لئے نہیں بلکہ برجستہ توصیفی شعر لکھا ہے۔ لیکن پھر بھی میں نے اسے لکھ دیا، کہ شاید اصلاحِ سخن کے طلباء کے کام آ جائے۔
ابن رضا — جون 7، 2015 7:16 صبح
شکریہ ابن رضا بھائی!
آپ کا اندازِ تحسین بھی مہکتا ہوا ہے۔
۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ پہلے مصرع کے آخری میں جو "جی" ہے، اس کی جگہ "جناب" کرنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔ :)
۔۔۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ نے اصلاح کے لئے نہیں بلکہ برجستہ توصیفی شعر لکھا ہے۔ لیکن پھر بھی میں نے اسے لکھ دیا، کہ شاید اصلاحِ سخن کے طلباء کے کام آ جائے۔
محل تو جناب کا ہی ہے شوکت بھائی مگر وزن اجازت نہیں دیتا۔:)
شوکت پرویز — جون 8، 2015 10:38 صبح
محل تو جناب کا ہی ہے شوکت بھائی مگر وزن اجازت نہیں دیتا۔:)
دوبارہ دیکھئے، شاید آج وزن کا موڈ ٹھیک ہو اور اجازت دے دے۔۔ (y)
ابن رضا — جون 8، 2015 11:00 صبح
دوبارہ دیکھئے، شاید آج وزن کا موڈ ٹھیک ہو اور اجازت دے دے۔۔ (y)
تسبیغ سے صرفِ نظر جو برتا تھا :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D9%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%A9-%D8%A2%DA%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7.82284/