میرے عشق نگر

ایمان عباس خان — جون 26، 2018 10:51 صبح
میرے عشق نگر میرے محور نگاہ
تماشا نہ دیکھ میری ہمت تو بڑھا
لفظ بھاری پتھر لگنے لگے اب ہیں
اجلے چہرے دھندلے لگنے لگے ہیں
میرے مہرباں میرے ہمسفر
تماشا نہ دیکھ ازل کا سفر کر
تارے سارے چھپ گئے روٹھ کے
بادلوں نے بھی منہ موڑ رکھے ہیں
اک امید پہ چاند دیکھے جاتے ہیں
کہ چلتے کبھی تو مڑ کے دیکھے گا!
میرے ہمراز میرے ہم خواب
تماشا نہ دیکھ اپنے فرض نبھا
معظم علی کاظمی — جون 26، 2018 1:05 شام
تدوین: کچھ نہیں۔
الف عین — جون 27، 2018 7:47 صبح
مدیران برائے کرم اسے نثری شاعری میں منتقل کر دیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%86%DA%AF%D8%B1.102016/